مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
حدیث نمبر: 11874
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قدریہ فرقے کے لوگ اس امت کے مجوسی ہیں ، اگر وہ بیمار ہو جائیں ، تو تم ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں ، تو تم ان کے جنازے میں شریک نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن منظور ہے ، جسے أحمد بن صالح اور دیگر حضرات نے صالح قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔