مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
حدیث نمبر: 11888
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ نَصِيبٌ : الْمُرْجِئَةُ وَالْقَدَرِيَّةُ " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ حَبِيبٍ التَّمَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَكَذَلِكَ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے دو قسم کے گروہوں کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے ، مرجئہ اور قدریہ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن قاسم بن حبیب تمار ہے اور وہ ضعیف ہے عطیہ عوفی کی حالت بھی اسی طرح ہے ۔