کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کو جس چیز کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم ﷺ کا اس کی تبلیغ کرنا اور اس حوالے سے صبر سے کام لینا
عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : جَاءَتْ قُرَيْشٌ إِلَى أَبِي طَالِبٍ فَقَالُوا : يَا أَبَا طَالِبٍ ، إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَأْتِينَا فِي أَفْنِيَتِنَا ، وَفِي نَادِينَا ، فَيُسْمِعُنَا مَا يُؤْذِينَا بِهِ ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَكُفَّهُ عَنَّا فَافْعَلْ . فَقَالَ لِي : يَا عَقِيلُ ، الْتَمَسْ لِي ابْنَ عَمِّكَ ، فَأَخْرَجْتُهُ مِنْ كِبْسٍ مِنْ أَكْبَاسِ أَبِي طَالِبٍ ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي مَعِي يَطْلُبُ الْفَيْءَ يَمْشِي فِيهِ ، فَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو طَالِبٍ : يَا ابْنَ أَخِي ، وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنْ كُنْتَ لِي لَمُطَاعًا ، وَقَدْ جَاءَ قَوْمُكَ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَأْتِيهِمْ فِي كَعْبَتِهِمْ ، وَفِي نَادِيهِمْ تُسْمِعُهُمْ مَا يُؤْذِيهِمْ ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَكُفَّ عَنْهُمْ . فَحَلَّقَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ مَا أَنَا بِأَقْدَرَ أَنْ أَدَعَ مَا بُعِثْتُ بِهِ مِنْ أَنْ يُشْعِلَ أَحَدُكُمْ مِنْ هَذِهِ الشَّمْسِ شُعْلَةً مِنْ نَارٍ " . ¤ فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ : وَاللَّهِ مَا كَذَبَ ابْنُ أَخِي قَطُّ ، ارْجِعُوا رَاشِدِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : مَنْ جَلْسٍ ، مَكَانَ : كِبْسٍ . وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ يَسِيرٍ مِنْ أَوَّلِهِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقیل بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش جناب ابوطالب کے پاس آئے اور بولے : اے جناب ابوطالب آپ کے بھتیجے ہمارے گھروں میں اور ہماری بیٹھکوں میں آتے ہیں اور ہمیں وہ بات سناتے ہیں ، جو ہمیں تکلیف دیتی ہے ، اگر آپ مناسب سمجھیں ، تو آپ انہیں ہمارے پاس آنے سے روک دیں ، تو جناب ابوطالب نے مجھ سے فرمایا : اے عقیل ! میرے بھتیجے کو ڈھونڈ کے لاؤ ! میں جناب ابوطالب کی جگہ سے نکلا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے آپ سایہ تلاش کر کے اس میں چل رہے تھے لیکن وہ نہیں مل رہا تھا یہاں تک کہ آپ جناب ابوطالب کے پاس آ گئے تو جناب ابوطالب نے آپ سے کہا: کہ اے میرے بھتیجے ! اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق تو تم میرے مطاع ہو ، تمہاری قوم کے لوگ آئے تھے ان کا یہ کہنا تھا کہ تم ان کے گھروں میں اور ان کی بیٹھکوں میں ان کے پاس جاتے ہو اور انہیں وہ چیز سناتے ہو جو انہیں تکلیف دیتی ہے ، تو اگر تم یہ مناسب سمجھو تو اس چیز سے باز آ جاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے جس چیز کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے میں اسے ترک کرنے کی اس سے زیادہ قدرت نہیں رکھتا کہ آپ میں سے کوئی ایک شخص اس سورج سے آگ کا ایک شعلہ جلا لے “ جناب ابوطالب نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میرے بھتیجے نے کبھی جھوٹ نہیں بولا: تم لوگ ہدایت پانے والے ہو کر واپس جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے لفظ کبس کی جگہ لفظ جلس نقل کیا ہے اسے امام ابویعلیٰ نے آغاز میں معمولی سے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے لفظ کبس کی جگہ لفظ جلس نقل کیا ہے اسے امام ابویعلیٰ نے آغاز میں معمولی سے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا زَالَتْ قُرَيْشٌ كَافَّةً عَنِّي حَتَّى مَاتَ أَبُو طَالِبٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قریش اس وقت تک مجھ سے رکے رہے جب تک جناب ابوطالب کا انتقال نہیں ہو گیا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ تَحَيَّنُوا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا أَسْرَعَ مَا وَجَدْتُ فَقْدَكَ يَا عَمِّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، عَنْ شَخْصٍ لَقِيَ ابْنَ سَعِيدٍ الرَّازِيَّ ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَيْسَ بِذَاكَ ، وَعِيسَى بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب جناب ابوطالب کا انتقال ہو گیا تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے چچا ! مجھے آپ کی غیر موجودگی کتنی جلدی محسوس ہو رہی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک شخص کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو ابن سعید رازی سے ملا تھا امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے عیسیٰ بن عبدالسلام سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک شخص کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو ابن سعید رازی سے ملا تھا امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے عیسیٰ بن عبدالسلام سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قُلْتُ لَهُ : مَا أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا كَانَتْ تُظْهِرُ مِنْ عَدَاوَتِهِ ؟ . قَالَ : حَضَرْتُهُمْ ، وَقَدِ اجْتَمَعَ أَشْرَافُهُمْ يَوْمًا فِي الْحِجْرِ فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ قَطُّ ، سَفَّهَ أَحْلَامَنَا ، وَشَتَمَ آبَاءَنَا ، وَعَابَ دِينَنَا ، وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا ، وَسَبَّ آلِهَتَنَا ، لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْهُ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ . أَوْ كَمَا قَالُوا . ¤ قَالَ : فَبَيْنَمَا هُمْ فِي ذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ، ثُمَّ مَرَّ بِهِمْ طَائِفًا بِالْبَيْتِ ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمْ غَمَزُوهُ بِبَعْضِ مَا يَقُولُ قَالَ : فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ . ثُمَّ مَضَى ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمُ الثَّانِيَةَ غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا ، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ مَضَى ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمُ الثَّالِثَةَ ، فَغَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا فَقَالَ : " أَتَسْمَعُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ " . فَأَخَذَتِ الْقَوْمَ كَلِمَتُهُ ، حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا عَلَى رَأْسِهِ طَائِرٌ وَاقِعٌ ، حَتَّى إِنَّ أَشَدَّهُمْ فِيهِ وَصَاةً قَبْلَ ذَلِكَ ، لَيَرْفَؤُهُ بِأَحْسَنَ مَا يَجِدُ مِنَ الْقَوْلِ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ : انْصَرِفْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، انْصَرِفْ رَاشِدًا ، فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ جَهُولًا . فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ ، وَأَنَا مَعَهُمْ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : ذَكَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْكُمْ ، وَمَا بَلَغَكُمْ عَنْهُ ، حَتَّى إِذَا بَادَأَكُمْ بِمَا تَكْرَهُونَ تَرَكْتُمُوهُ ، فَبَيْنَمَا هُمْ فِي ذَلِكَ ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَثَبُوا إِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، فَأَطَافُوا بِهِ يَقُولُونَ : أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ كَذَا وَكَذَا ؟ لِمَا كَانَ يَبْلُغُهُمْ مِنْ عَيْبِ آلِهَتِهِمْ وَدِينِهِمْ قَالَ : فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ ، أَنَا الَّذِي أَقُولُ ذَلِكَ " . قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِهِ ، وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ دُونَهُ ، يَقُولُ : وَهُوَ يَبْكِي : أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنْهُ ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَأَشَدُّ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا بَلَغَتْ مِنْهُ قَطُّ . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقُ بِالسَّمَاعِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ میں نے ان سے کہا: قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو دشمنی کا رویہ رکھا تھا آپ نے جو دیکھا ہے اس میں سب سے زیادہ شدید کیا تھا ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ان لوگوں کے پاس موجود تھا ان کے معززین ایک دن حطیم میں موجود تھے ۔ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرنے لگے انہوں نے یہ کہا: میں اس نوجوان سے زیادہ اور کسی پر صبر نہیں کرنا پڑا اس نے ہمارے سمجھ دار لوگوں کو بے وقوف بنا لیا ہے ہمارے آبا ؤ اجداد کو برا کہتا ہے ہمارے دین پر اعتراض کرتا ہے ہماری اجتماعیت کو منتشر کر چکا ہے ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے ہم نے اس کے حوالے سے ایک بڑی چیز پر صبر سے کام لیا ہے یا جس طرح بھی انہوں نے کہا: ، ابھی وہ لوگ وہاں موجود تھے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے آپ چلتے ہوئے تشریف لائے آپ نے رکن کا استلام کیا پھر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان لوگوں کے پاس سے گزرے جب آپ ان لوگوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آوازیں کسیں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ناگواریت کا احساس ہوا پھر آپ تشریف لے گئے لیکن جب آپ دوسری مرتبہ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پھر اس طرح کیا مجھے آپ کے چہرے سے ناگواری کا اندازہ ہو گا لیکن آپ تشریف لے گئے جب آپ تیسری مرتبہ ان کے سامنے سے گزرے اور انہوں نے پھر ایسا ہی کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے قریش کے گروہ کیا تم لوگ یہ بات سنتے ہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے میں تمہارے پاس ذبح ہونے کا حکم لے کے آیا ہوں ( یعنی تم لوگ مار دیے جاؤ گے ) لوگوں نے آپ کی بات سنی تو یہ عالم ہوا کہ ہر شخص کے سر پر گویا پرندہ بیٹھا ہوا ہے ، یہاں تک کہ جو شخص پہلے آپ کے خلاف بڑھ چڑھ کر بول رہا تھا اس نے بھی اچھے طریقے سے آپ کے ساتھ بات چیت کی اور یہ کہا: کہ اے ابوالقاسم آپ تشریف لے جائیں آپ آرام سے تشریف لے جائیں ۔ اللہ کی قسم ! آپ تو اتنی سختی کا مظاہرہ کرنے والے نہیں تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، یہاں تک کہ جب اگلا دن آیا وہ لوگ حطیم میں اکٹھے ہوئے تو میں ان لوگوں کے ساتھ تھا ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تمہیں یاد ہے ، جو تمہاری طرف سے گیا اور جو ان کی طرف سے تم تک آیا ؟ یہاں تک کہ انہوں نے تمہارے سامنے وہ چیز ظاہر کی جو تمہیں ناپسند ہے ، تو تم نے انہیں چھوڑ دیا ابھی وہ اسی عالم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے تشریف لائے وہ اکٹھے اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے ، اور آپ کے ارد گرد ہو کر یہ کہنے لگے آپ نے ہی یہ یہ بات کہی ہے انہوں نے ان چیزوں کا ذکر کیا ہے ، جو ان کے معبودوں اور ان کے دین پر اعتراض کے حوالے سے ان تک پہنچی تھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں میں نے یہ بات کہی ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو پکڑ لیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے تھے ۔ وہ لڑتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کیا تم ایک ایسے شخص کے ساتھ جھگڑا کر رہے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چلے گئے قریش کی طرف سے یہ سب سے زیادہ سختی تھی جو میں نے دیکھی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا أَرَادُوا قَتْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا يَوْمًا ائْتَمَرُوا بِهِ ، وَهُمْ جُلُوسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عِنْدَ الْمَقَامِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُقْبَةُ ابْنُ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَجَعَلَ رِدَاءَهُ فِي عُنُقِهِ ، ثُمَّ جَذَبَهُ حَتَّى وَجَبَ لِرُكْبَتَيْهِ ، وَتَصَايَحَ النَّاسُ ، وَظَنُّوا أَنَّهُ مَقْتُولٌ قَالَ : وَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ يَشْتَدُّ حَتَّى أَخَذَ بِضَبْعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ وَرَائِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ انْصَرَفُوا ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ مَرَّ بِهِمْ ، وَهُمْ جُلُوسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ إِلَّا بِالذَّبْحِ " . وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى حَلْقِهِ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ : يَا مُحَمَّدُ مَا كُنْتَ جَهُولًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتَ مِنْهُمْ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے قریش کو کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا البتہ اس دن کا معاملہ مختلف ہے جب انہوں نے اس بارے میں باہمی طور پر مشورہ کیا وہ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کر رہے تھے عقبہ بن ابومعیط اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا اس نے اپنی چادر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں ڈالی اور پھر اسے کھینچا یہاں تک کہ آپ گھٹنوں کے بل جھک گئے ، وہ لوگ چیخیں مارنے لگے ، وہ یہ سمجھے کہ آپ شہید ہو گئے ہیں ، اسی دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور انہوں نے پیچھے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلو سے پکڑ لیا ، وہ یہ کہہ رہے تھے : کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو ؟ جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پیچھے ہو گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ ان کے پاس سے گزرے وہ لوگ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : اے قریش کے گروہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے تم لوگوں کی طرف صرف ذبح کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دست مبارک کے ذریعے حلق کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ابوجہل نے آپ کی خدمت میں گزارش کی : اے محمد ! آپ تو سختی کرنے والے نہیں تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ان لوگوں میں سے ایک ہو ( جنہیں ذبح کیا جائے گا ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ امام طبرانی کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ امام طبرانی کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ; أَنَّهُمْ قَالُوا لَهَا : مَا أَشَدُّ مَا رَأَيْتِ الْمُشْرِكِينَ بَلَغُوا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَتْ : كَانَ الْمُشْرِكُونَ قَعَدُوا فِي الْمَسْجِدِ يَتَذَاكَرُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا يَقُولُ فِي آلِهَتِهِمْ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامُوا إِلَيْهِ بِأَجْمَعِهِمْ ، فَأَتَى الصَّرِيخُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالُوا : أَدْرِكْ صَاحِبَكَ ! فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِنَا ، وَإِنَّ لَهُ لَغَدَائِرَ أَرْبَعًا ، وَهُوَ يَقُولُ : وَيْلَكُمُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ فَلَهُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقْبَلُوا عَلَى أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : فَرَجَعَ إِلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ ، فَجَعْلَ لَا يَمَسُّ شَيْئًا مِنْ غَدَائِرِهِ إِلَّا جَاءَ مَعَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ تَدْرُوسُ جَدُّ أَبِي الزُّبَيْرِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے سب سے زیادہ شدید چیز کیا دیکھی جو مشرکین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچائی ہو ؟ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے بتایا : مشرکین مسجد ( یعنی خانہ کعبہ کے پاس ) بیٹھے ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر رہے تھے اور اس بات کا ذکر کر رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے معبودوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ ابھی وہ اسی عالم میں تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی دوران تشریف لے آئے وہ سب لوگ اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے کسی نے بلند آواز میں آ کے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہا: آپ اپنے آقا کے پاس پہنچیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے نکلے ان کی چار لٹیں تھیں ، اور وہ یہ کہہ رہے تھے : تم لوگوں کا ستیاناس ہو کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے واضح نشانیاں لے کے آیا ہے ، تو ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر لیا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ، تو ان کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے بالوں میں سے جس کو بھی مس کرتے تھے ۔ وہ ساتھ آ جاتا تھا ، اور وہ یہ کہہ رہے تھے : اے جلال اور اکرام والے ! تو برکت والا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی تدروس ہے ، جو ابوزبیر کا دادا ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی تدروس ہے ، جو ابوزبیر کا دادا ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَقَدْ ضَرَبُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّةً حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهِ ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَجَعَلَ يُنَادِي : وَيْلَكُمُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ؟ ! فَقَالُوا : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : أَبُو بَكْرٍ الْمَجْنُونُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَزَادَ : فَتَرَكُوهُ ، وَأَقْبَلُوا عَلَى أَبِي بَكْرٍ . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا یہاں تک کہ آپ بے ہوش ہو گئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر بلند آواز میں یہ کہنے لگے تم لوگوں کا ستیاناس ہو کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے لوگوں نے کہا: یہ کون ہے ؟ دوسروں نے بتایا : یہ ابوبکر مجنون ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف آ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف آ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُنْتُ غُلَامًا يَافِعًا أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ ، وَقَدْ فَرَّا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَا : " يَا غُلَامُ ، هَلْ عِنْدَكَ مِنْ لَبَنٍ تَسْقِينَا ؟ " . قُلْتُ : إِنِّي مُؤْتَمَنٌ ، وَلَسْتُ بِسَاقِيكُمَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں ، ایک قریب البلوغ لڑکا تھا ، اور عقبہ بن ابومعیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے یہ دونوں حضرات مشرکین سے بچ کے آ رہے تھے ان دونوں نے کہا: اے لڑکے ! کیا تمہارے پاس دودھ ، ہے ، جو تم ہمیں پینے کے لئے دو ؟ میں نے کہا: میں امین ہوں ، میں آپ دونوں کو نہیں پلاؤں گا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ : جَلَسْنَا إِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ يَوْمًا ، وَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ وَاسْتَمَعْنَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : طُوبَى لِهَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاللَّهِ لَوَدِدْنَا أَنَّا رَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ ، وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتَ . فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ : مَا يَحْمِلُ الرَّجُلَ أَنْ يَتَمَنَّى مَحْضَرًا غَيَّبَهُ اللَّهُ عَنْهُ ، لَا يَدْرِي كَيْفَ يَكُونُ فِيهِ ؟ ! وَاللَّهِ ، لَقَدْ حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْوَامٌ كَبَّهُمُ اللَّهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ ، لَمْ يُجِيبُوهُ ، وَلَمْ يُصَدِّقُوهُ ، أَلَا يَحْمَدُ اللَّهَ تَعَالَى ، أَحَدُكُمُ أَنْ لَا تَعْرِفُوا إِلَّا رَبَّكُمْ مُصَدِّقِينَ بِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ ، فَقَدْ كُفِيتُمُ الْبَلَاءَ بِغَيْرِكُمْ ، وَاللَّهِ لَقَدْ بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَشَدِّ حَالٍ بُعِثَ عَلَيْهَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فِي فِطْرَةٍ وَجَاهِلِيَّةٍ ، لَمْ يَرَوْا أَنَّ دِينًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ ، فَجَاءَ بِفُرْقَانٍ فَرَّقَ بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ ، وَفَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ ، حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَرَى وَالِدَهُ أَوْ وَلَدَهُ أَوْ أَخَاهُ كَافِرًا ، وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى قُفْلَ قَلْبِهِ لِلْإِيمَانِ ، لِيَعْلَمَ أَنَّهُ قَالَ : هَلَكَ مَنْ دَخْلَ النَّارَ ، فَلَا تَقَرُّ عَيْنُهُ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ حَمِيمَهُ فِي النَّارِ ، وَأَنَّهَا الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : ( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ فِي أَحَدِهَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، وَثَّقَهُ الذَّهَبِيُّ ، وَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ، ایک دن سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ہمارے پاس سے ایک شخص گزرا ہم ان کی طرف متوجہ تھے ۔ انہوں نے کہا: ان دونوں آنکھوں کے لئے مبارکباد ہے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ۔ اللہ کی قسم ! ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم نے بھی وہ چیز دیکھی ہوتی جو آپ نے دیکھی ہو اور ہم بھی اس میں موجود ہوئے ہوتے جس میں آپ موجود رہے ، تو سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : آدمی کو کیا چیز اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ وہاں موجود ہونے کی آرزو کرے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے اسے غیر موجود رکھا تھا ، کیونکہ وہ تو یہ نہیں جانتا کہ اس صورت حال میں اس نے کیا کرنا تھا ۔ اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں بہت سے ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ تعالیٰ ان کے نتھنوں کے بل جہنم میں اوندھے منہ ڈال دے گا ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو قبول نہیں کیا آپ کی تصدیق نہیں کی کیا تم میں سے کوئی ایک شخص اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرتا کہ تم لوگوں کو صرف تمہارے پروردگار کی معرفت حاصل ہے اور تم اس چیز کی تصدیق کرنے والے ہو جو تمہارے نبی لے کے آئے تھے اور آزمائش میں تمہاری بجائے دوسروں کو مبتلاء کر دیا گیا ۔ اللہ کی قسم ! جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو اتنی سخت صورت حال میں کسی اور نبی کو مبعوث نہیں کیا گیا تھا نہ زمانہ فطرت میں اور نہ زمانہ جاہلیت میں ، لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بتوں کی عبادت سے زیادہ فضیلت والا دین اور کوئی نہیں ہو سکتا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرقان لے کے آئے جس نے حق اور باطل کے درمیان فرق کر دیا باپ اور بیٹے کو الگ کر دیا یہاں تک کہ کوئی شخص اپنے باپ کو یا اپنے بیٹے کو یا اپنے بھائی کو کافر سمجھتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کے قفل کو ایمان کے لئے کھول دیا تاکہ وہ یہ بات جان لے کہ پروردگار نے یہ فرمایا ہے ( یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے ) کہ جو شخص جہنم میں داخل ہو گا وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا ، اور اس کی آگ ٹھنڈی نہیں ہو گی اور وہ یہ بھی جان لے کہ اس کا قریبی دوست جہنم میں جائے گا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ( وہ یہ کہتے ہیں : ) ” اے ہمارے پروردگار ! ہمارے بیویوں اور ہماری اولاد کے حوالے سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی یحیی بن صالح ہے جسے امام ذہبی نے ثقہ قرار دیا ہے محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی یحیی بن صالح ہے جسے امام ذہبی نے ثقہ قرار دیا ہے محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ ، وَأَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ ، وَشَيْبَةُ ، وَعُتْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ ، وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ ، وَرَجُلَانِ آخَرَانِ كَانُوا سَبْعَةً ، وَهُمْ فِي الْحِجْرِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي ، فَلَمَّا سَجَدَ أَطَالَ السُّجُودَ ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : أَيُّكُمْ يَأْتِي جَزُورَ بَنِي فُلَانٍ ، فَيَأْتِينَا بِفَرْثِهَا ، فَيُلْقِيهِ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْطَلَقَ أَشْقَاهُمْ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَأَتَى بِهِ ، فَأَلْقَاهُ عَلَى كَتِفَيْهِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدٌ لَمْ يَهْتَمَّ ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : وَأَنَا قَائِمٌ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَكَلَّمَ لَيْسَ عِنْدِي مِنْعَةٌ تَمْنَعُنِي ، فَأَنَا أَذْهَبُ إِذْ سَمِعَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَتْ حَتَّى أَلْقَتْ ذَلِكَ عَنْ عَاتِقِهِ ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْ قُرَيْشًا تَسُبُّهُمْ ، فَلَمْ يُرْجِعُوا إِلَيْهَا شَيْئًا ، وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ كَمَا كَانَ يَرْفَعُ عِنْدَ تَمَامِ السُّجُودِ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاتَهُ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ " ثَلَاثًا " عَلَيْكَ بِعُتْبَةَ ، وَعُقْبَةَ ، وَأَبِي جَهْلٍ ، وَشَيْبَةَ " . ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَلَقِيَهُ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ وَمَعَ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ سَوْطٌ يَتَخَصَّرُ بِهِ ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْكَرَ وَجْهَهُ ، فَقَالَ : مَا لَكَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَلِّ عَنِّي " . قَالَ : عَلِمَ اللَّهُ لَا أُخَلِّيَ عَنْكَ أَوْ تُخْبِرَنِي مَا شَأْنُكَ ، فَلَقَدْ أَصَابَكَ شَيْءٌ ؟ فَلَمَّا عَلِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ غَيْرُ مُخَلٍّ عَنْهُ ، أَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ أَبَا جَهْلٍ أَمَرَ فَطُرِحَ عَلَيَّ فَرْثٌ " . فَقَالَ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ : هَلُمَّ إِلَى الْمَسْجِدِ . فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو الْبَخْتَرِيِّ ، فَدَخَلَا الْمَسْجِدَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ إِلَى أَبِي جَهْلٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْحَكَمِ ، أَنْتَ الَّذِي أَمَرْتَ بِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَطُرِحَ عَلَيْهِ الْفَرْثُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَرَفَعَ السَّوْطَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَهُ قَالَ : فَثَارَ الرِّجَالُ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ قَالَ : وَصَاحَ أَبُو جَهْلٍ : وَيْحَكُمُ هِيَ لَهُ ، إِنَّمَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُلْقِيَ بَيْنَنَا الْعَدَاوَةَ ، وَيَنْجُوَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں موجود تھے ( یعنی خانہ کعبہ کے پاس موجود تھے ) وہاں ابوجہل بن ہشام ، شیبہ ، عتبہ یہ دونوں ربیعہ کے بیٹے ہیں ، عقبہ بن ابومعیط ، امیہ بن خلف اور دو افراد بھی موجود تھے یہ سات افراد تھے اور یہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے جب آپ سجدے میں گئے تو آپ نے طویل سجدہ کیا ابوجہل نے کہا: تم میں کون بنوں فلاں کے اونٹ کے پاس جائے گا ، اور اس کی اوجھ ہمارے پاس لے کے آئے گا ، اور اسے محمد پر ڈال دے گا ، تو ان میں سے سب سے زیادہ بد نصیب عقبہ بن ابومعیط چلا گیا اور اسے لے آیا اور وہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر ڈال دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے آپ اسے روک نہیں پائے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں اس وقت کھڑا ہوا تھا ، اور میں کوئی بات بھی نہیں کر سکتا تھا ، کیونکہ میرے پاس وہ حیثیت ہی نہیں تھی کہ میں کچھ کر پاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جب اس صورت حال کے بارے میں سنا تو وہ آئیں اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے سے ہٹایا پھر وہ قریش کی طرف رخ کر کے انہیں برا کہنے لگیں ان لوگوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کوئی جواب نہیں دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا جس طرح آپ سجدہ مکمل کرنے کے بعد سر اٹھاتے تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا : اے اللہ ! قریش کو اپنی گرفت میں لے ! عتبہ کو ابوجہل کو شیبہ کو اپنی گرفت میں لے ! پھر آپ مسجد سے تشریف لے گئے ابوبختری کی آپ سے ملاقات ہوئی ابوبختری کے پاس ایک چھڑی تھی جس کو وہ پہلو کے ساتھ لگاتا تھا ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے دیکھا کہ آپ کے چہرے کی حالت تبدیل ہے ، تو اس نے دریافت کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا راستہ چھوڑ دو اس نے کہا: اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ میں آپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک آپ مجھے بتاتے نہیں ہیں لگتا ہے آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہوئی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندازہ ہو گیا کہ وہ آپ کو یوں نہیں رہنے دے گا ، تو آپ نے اس کو صورت حال کے بارے میں بتا دیا آپ نے بتایا : ابوجہل نے یہ ہدایت کی تو میرے اوپر گندگی لا کے ڈال دی گئی ابوبختری نے کہا: چلیں مسجد کی طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور بختری تشریف لائے یہ دونوں مسجد میں داخل ہوئے ابوبختری ابوجہل کی طرف گیا اور بولا: اے ابوالحکم کیا تم وہ فرد ہو جس نے ( سیدنا ) محمد کے بارے میں یہ حکم دیا کہ ان پر گندگی ڈال دی جائے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، ابوبختری نے چھڑی اٹھا کر اس کے ذریعے ابوجہل کے سر پر ضرب لگائی لوگ ایک دوسرے سے بھڑنے لگے تو ابوجہل نے بلند آواز میں چیخ کر کہا: تمہارا ستیاناس ہو ! یہ ضرب چھوڑ دو محمد یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے درمیان دشمنی ڈال دیں تاکہ وہ اور اس کے ساتھی نجات پا جائیں ۔
وَفِي رِوَايَةٍ فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ ، حَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ : اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ " . قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ قِصَّةِ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْأَجْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ ابْنِ مَعِينٍ ، وَغَيْرِهِ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ فرمایا اما بعد ! اے اللہ ! قریش کے گروہ پر گرفت کر لے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، جس میں ابوبختری کا قصہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح بن عبداللہ کندی ہے اور وہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات کے نزدیک ثقہ ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح بن عبداللہ کندی ہے اور وہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات کے نزدیک ثقہ ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ دَعَامَةَ قَالَ : تَزَوَّجَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُتَيْبَةُ بْنُ أَبِي لَهَبٍ ، وَكَانَتْ رُقَيَّةُ عِنْدَ أَخِيهِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ ، فَلَمْ يَبْنِ بِهَا حَتَّى بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا نَزَلَ قَوْلُهُ تَعَالَى : ( تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ ) قَالَ أَبُو لَهَبٍ لِابْنَيْهِ : عُتْبَةَ ، وَعُتَيْبَةَ : رَأْسِي فِي رُءُوسِكُمَا حَرَامٌ ، إِنْ لَمْ تُطَلِّقَا ابْنَتَيْ مُحَمَّدٍ . وَقَالَتْ أُمُّهُمَا بِنْتُ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ - وَهِيَ حَمَّالَةُ الْحَطَبِ - : طَلِّقَاهُمَا يَا بَنِيَّ ، فَإِنَّهُمَا صَبَأَتَا . فَطَلَّقَاهُمَا . وَلَمَّا طَلَّقَ عُتَيْبَةُ أُمَّ كُلْثُومٍ ، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ فَارَقَهَا ، فَقَالَ : كَفَرْتُ بِدِينِكَ ، أَوْ فَارَقْتُ ابْنَتَكَ ، لَا تُحِبُّنِي وَلَا أُحِبُّكَ ، ثُمَّ سَطَا عَلَيْهِ فَشَقَّ قَمِيصَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ خَارِجٌ نَحْوَ الشَّامِ تَاجِرًا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا إِنِّي أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يُسَلِّطَ عَلَيْكَ كَلْبَهُ " . فَخَرَجَ فِي تَجْرٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، حَتَّى نَزَلُوا بِمَكَانٍ مِنَ الشَّامِ - يُقَالُ لَهُ : الزَّرْقَاءُ - لَيْلًا ، فَأَطَافَ بِهِمُ الْأَسَدُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، فَجَعَلَ عُتَيْبَةُ يَقُولُ : وَيْلَ أُمِّي ، هَذَا وَاللَّهِ آكِلِي كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ ، قَاتِلِي ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ وَهُوَ بِمَكَّةَ وَأَنَا بِالشَّامِ ، فَعَدَا عَلَيْهِ الْأَسَدُ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ فَأَخَذَ بِرَأْسِهِ ، فَضَغَمَهُ ضَغْمَةً فَقَتَلَهُ . ¤ قَالَ زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ : فَحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ الْأَسَدَ لَمَّا أَطَافَ بِهِمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ انْصَرَفَ ، فَنَامُوا ، وَجُعِلَ عُتَيْبَةُ وَسَطَهُمْ ، فَأَقْبَلَ السَّبُعُ يَتَخَطَّاهُمْ حَتَّى أَخَذَ بِرَأْسِ عُتَيْبَةَ فَفَدَغَهُ ، وَخَلَفَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - بَعْدَ رُقَيَّةَ عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ هَكَذَا مُرْسَلًا ، وَفِيهِ زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بن دعامہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی عتیبہ بن ابولہب کے ساتھ اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی شادی عتبہ بن ابولہب کے ساتھ ہوئی لیکن ابھی ان خواتین کی رخصتی نہیں ہوئی تھی اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہو گئی جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں “ ۔ تو ابولہب نے اپنے دونوں بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے کہا: اس وقت تک میرا تمہارا تعلق حرام ہو گا جب تک تم محمد کی دونوں صاحبزادیوں کو طلاق نہیں دیتے ان دونوں کی ماں جو حرب بن امیہ کی بیٹی تھی جو گٹھے کو اٹھانے والی تھی ۔ اس نے بھی یہ کہا: میرے بیٹے تم انہیں طلاق دے دو کیونکہ ان دونوں نے اپنا دین تبدیل کر لیا ہے ، تو ان دونوں افراد نے ان دونوں صاحبزادیوں کو طلاق دے دی جب عتیبہ نے سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہ کو طلاق دی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جب کہ وہ اپنی اہلیہ سے علیحدگی اختیار کر چکا تھا اس نے کہا: میں آپ کے دین کا انکار کرتا ہوں اور آپ کی بیٹی سے علیحدگی اختیار کرتا ہوں نہ آپ مجھ سے محبت رکھتے ہیں اور نہ میں آپ سے محبت رکھتا ہوں پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کو چیر دیا پھر وہ تجارت کے سلسلے میں شام کی طرف روانہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ تم پر اپنے کسی کتے کو مسلط کر دے وہ قریش کے تاجروں کے ساتھ روانہ ہوا تھا یہاں تک کہ انہوں نے شام میں ” زرقاء “ نامی جگہ پر پڑاؤ کیا اس رات ایک شیر ان کے پاس آیا عتیبہ نے یہ کہنا شروع کیا میری ماں برباد ہو جائے ۔ اللہ کی قسم ! یہ مجھے اسی طرح کھا جائے گا ، جس طرح محمد نے کہا: تھا ابن ابوکبشہ جو مکہ میں ہیں اور میں شام میں ہوں وہ مجھے قتل کروا دیں گے پھر تمام لوگوں کے درمیان میں سے اس شیر نے اس پر حملہ کیا اور اس کا سر پکڑ لیا اور اسے چبا کر اُسے مار دیا ۔ زہیر بن العلاء بیان کرتے ہیں : ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ اس رات جب شیر نے پہلے ان کا چکر لگایا تو پھر وہ چلا گیا وہ لوگ سو گئے عتیبہ ان لوگوں کے درمیان سویا ہوا تھا پھر درندہ آیا اور لوگوں کو پھلانگ کر آ کر اس نے عتیبہ کا سر پکڑ لیا اور اسے توڑ دیا ۔ اس کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی اور ان کے انتقال کے بعد ) سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اس طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن العلاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اس طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن العلاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِهِ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، هَلُمِّي حَتَّى أُرِيَكِ ابْنَ عَمِّكِ الَّذِي هَجَانِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَيْبَةَ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : حَدِيثُهُ صَحِيحٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! تم آگے آؤ میں تمہیں تمہارا وہ چچازاد دکھاؤں جس نے میری ہجو کی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبدالرحمن بن شیبہ سے نقل کی ہے ۔ امام ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث ” صحیح “ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبدالرحمن بن شیبہ سے نقل کی ہے ۔ امام ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث ” صحیح “ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : مَرِضَ أَبِي مَرَضًا شَدِيدًا ، فَقَالَ : لَئِنْ شَفَانِي اللَّهُ مِنْ وَجَعِي هَذَا ، لَا يُعْبَدُ إِلَهُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ بِبَطْنِ مَكَّةَ أَبَدًا ، قَالَ خَالِدٌ : فَهَلَكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى الْأُمَوِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَدِّهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد شدید بیمار ہو گئے انہوں نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بیماری سے شفاء دے دی تو محمد بن ابوکبشہ کے معبود کی مکہ کی وادی میں کبھی عبادت نہیں کی جائے گی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تو وہ فوت ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمرو بن یحیی اموی کا معاملہ مختلف ہے انہوں نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمرو بن یحیی اموی کا معاملہ مختلف ہے انہوں نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الطَّائِفِيِّ مِنْ وَلَدِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ; حَدَّثَنَا جَدِّي عَنْ جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ جَدَّهُ أَبَا أُحَيْحَةَ كَانَ مَرِيضًا حِينَ بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ فِي مَرَضِهِ : لَا تَرْفَعُونِي مِنْ مَضْجَعِي لَا يُعْبَدُ إِلَهِ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ بِمَكَّةَ . فَقَالَ ابْنُهُ ، وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ : اللَّهُمَّ لَا تَرْفَعْهُ . قُلْتُ : هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي الْأَصْلِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوامیہ طائفی جو سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میرے دادا نے اپنے دادا سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو ان کے دادا ابواحیحہ بیمار ہو گئے انہوں نے اپنی اس بیماری کے دوران کہا: تم میرے بستر سے مجھے بلند نہ کرو گے مکہ میں ابن ابوکبشہ کے معبود کی عبادت نہیں کی جائے گی ان کے صاحبزادے جو ان کے سرہانے موجود تھے ۔ انہوں نے کہا: اے اللہ ! تو انہیں نہ اٹھانا راوی کہتے ہیں : میں نے اصل میں
یہ روایت اسی طرح پائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت اسی طرح پائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : اجْتَمَعَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا ، فَقَالَ : انْظُرُوا أَعْلَمَكُمْ بِالسِّحْرِ ، وَالْكِهَانَةِ ، وَالشِّعْرِ ، فَلْيَأْتِ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدْ فَرَّقَ جَمَاعَتَنَا ، وَشَتَّتَ أَمْرَنَا وَعَابَ دِينَنَا ، فَلْيُكَلِّمْهُ وَلْيَنْظُرْ مَا يَرُدُّ عَلَيْهِ ، قَالُوا : مَا نَعْلَمُ أَحَدًا غَيْرَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالُوا : أَنْتَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ . فَأَتَاهُ عُتْبَةُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَنْتَ خَيْرٌ أَمْ عَبْدُ اللَّهِ ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أَنْتَ خَيْرٌ أَمْ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَإِنْ كُنْتَ تَزْعُمُ أَنَّ هَؤُلَاءِ خَيْرٌ مِنْكَ قَدْ عَبَدُوا الْآلِهَةَ الَّتِي عِبْتَ ، وَإِنْ كُنْتَ تَزْعُمُ أَنَّكَ خَيْرٌ مِنْهُمْ ، فَتَكَلَّمْ حَتَّى نَسْمَعَ قَوْلَكَ ، أَمَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا سَخْطَةً أَشْأَمَ عَلَى قَوْمِكَ مِنْكَ ، فَرَّقْتَ جَمَاعَتَنَا ، وَشَتَّتْتَ أَمْرَنَا ، وَعِبْتَ دِينَنَا ، وَفَضَحْتَنَا فِي الْعَرَبِ حَتَّى طَارَ فِيهِمْ : أَنَّ فِي قُرَيْشٍ سَاحِرًا ، وَأَنَّ فِي قُرَيْشٍ كَاهِنًا وَاللَّهِ ، مَا نَنْتَظِرُ إِلَّا مِثْلَ صَيْحَةِ الْحُبْلَى ، بِأَنْ يَقُومَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ بِالسُّيُوفِ ، حَتَّى نَتَفَانَى أَيُّهَا الرَّجُلُ ، إِنْ كَانَ إِنَّمَا بِكَ الْحَاجَةُ ، جَمَعْنَا لَكَ مِنْ أَمْوَالِنَا حَتَّى تَكُونَ أَغْنَى قُرَيْشٍ رَجُلًا ، وَإِنْ كَانَ إِنَّمَا بِكَ الْبَاءَةُ ، فَاخْتَرْ أَيَّ نِسَاءِ قُرَيْشٍ فَنُزَوِّجَكَ عَشْرًا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَفَرَغْتَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حم تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " حَتَّى بَلَغَ : " فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ " فَقَالَ عُتْبَةُ : حَسْبُكَ حَسْبُكَ ، مَا عِنْدَكَ غَيْرُ هَذَا ؟ قَالَ : " لَا " . فَرَجَعَ إِلَى قُرَيْشٍ ، فَقَالُوا : مَا وَرَاءَكَ ؟ فَقَالَ : مَا تَرَكْتُ شَيْئًا أَرَى أَنَّكُمْ تُكَلِّمُونَهُ بِهِ إِلَّا كَلَّمْتُهُ . قَالُوا : هَلْ أَجَابَكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : وَالَّذِي نَصَبَهَا بَنِيَّةً ، مَا فَهِمْتُ شَيْئًا مِمَّا قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ . قَالُوا : وَيْلَكَ ، يُكَلِّمُكَ رَجُلٌ بِالْعَرَبِيَّةِ فَلَا تَدْرِي مَا قَالَ ؟ ! قَالَ : لَا وَاللَّهِ ، مَا فَهِمْتُ شَيْئًا مِمَّا قَالَ غَيْرَ ذِكْرِ الصَّاعِقَةِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيِّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفُهُ النَّسَائِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک دن اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا: تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ جو شخص تم میں سے سب سے زیادہ جادو کہانت اور شاعری جانتا ہے وہ ان صاحب کے پاس آئے جنہوں نے ہماری جماعت کو منتشر کر دیا ہے ہمارے معاملے کو بکھیر دیا ہے اور ہمارے دین پر اعتراض کیا ہے اور وہ شخص ان کے ساتھ بات چیت کرے اور پھر اس بات کا جائزہ لے کہ وہ انہیں کیا جواب دیتے ہیں ؟ ان لوگوں نے کہا: ہمارے علم کے مطابق تو یہ خصوصیت عتبہ بن ربیعہ میں پائی جاتی ہے ان لوگوں نے کہا: اے ابوالید تم یہ کام کرو عتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اے محمد ! تم زیادہ بہتر ہو یا ( تمہارے والد ) عبداللہ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس نے دریافت کیا : تم زیادہ بہتر ہو یا جناب عبدالمطلب ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس نے کہا: اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ لوگ تم سے بہتر ہیں ، تو یہ انہی معبودوں کی عبادت کیا کرتے تھے جن پر تم اعتراض کرتے ہو ، اور اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تم ان سے بہتر ہو ، تو تم بات کرو تاکہ ہم تمہاری بات سنیں ۔ اللہ کی قسم ! ہم نے کبھی کسی ایسی ناراضگی کے بارے میں نہیں دیکھا جو اپنی قوم کے لئے اس سے زیادہ بری ہو جتنی تمہاری طرف سے تمہاری قوم کے لئے ہے تم نے ہماری اجتماعیت کو منتشر کر دیا ہے ہمارے معاملے کو بکھیر دیا ہے ہمارے دین پر اعتراض کیا ہے عربوں میں ہمیں رسوا کر دیا ہے ، یہاں تک کہ یہ چیز ان کے درمیان پھیل گئی ہے کہ قریش میں ایک جادوگر موجود ہے قریش میں ایک کاہن موجود ہے ۔ اللہ کی قسم ! ہم صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ حاملہ عورت کی طرح کی ایک چیخ آئے اور پھر ہم ایک دوسرے کے مقابلے میں تلواریں لے کر آ جائیں اور ایک دوسرے کو فنا کر دیں اے فرد اگر تمہاری کوئی خواہش ہے ، تو ہم اپنے اموال جمع کر دیتے ہیں ، یہاں تک کہ تم قریش کے سب سے زیادہ خوشحال فرد بن جاؤ گے اگر تم شادی کرنا چاہتے ہو ، تو قریش کی کوئی سی خواتین منتخب کر لو ہم دس عورتوں کے ساتھ تمہاری شادی کروا دیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : کیا تم فارغ ہو گئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت کیں : ” حم ! یہ بڑے مہربان نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے نازل کردہ ہے “ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اگر وہ منہ پھیر لیں ، تو تم فرما دو کہ میں تمہیں اس زبردست کڑک دار بجلی کی آواز ( کے عذاب ) سے ڈراتا ہوں جو عاد اور ثمود کے زبردست کڑک دار بجلی کی آواز ( کے عذاب ) کی مانند ہو گا “ ۔ تو عتبہ نے کہا: بس کافی ہے بس کافی ہے آپ کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی نہیں ! عتبہ قریش کے پاس واپس گیا انہوں نے دریافت کیا : کیا صورت حال ہے ؟ اس نے کہا: تم لوگ ان کے حوالے سے جو باتیں بھی ذکر کرتے تھے میں نے وہ ان کے ساتھ کیں انہوں نے دریافت کیا : انہوں نے پھر تمہیں کیا جواب دیا ؟ عتبہ نے جواب دیا : اس ذات کی قسم ! جی نے تعمیر کو نصب کیا ہے ( یعنی خانہ کعبہ بنایا ہے ) انہوں نے جو کچھ کہا: ہے مجھے اس میں سے کسی بات کی سمجھ نہیں آئی البتہ انہوں نے یہ کہا: تھا : ” میں تمہیں اس زبردست کڑک دار بجلی کی آواز ( کے عذاب ) سے ڈراتا ہوں جو عاد اور ثمود کے زبردست کڑک دار بجلی کی آواز ( کے عذاب ) کی مانند ہو گا “ انہوں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ایک شخص تمہارے ساتھ عربی میں بات چیت کر رہا تھا ، اور تمہیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کہہ رہا تھا ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے ان کی باتوں میں سے کوئی چیز سمجھ نہیں آئی ، صرف ” زبردست کڑک دار بجلی کی آواز “ کا تذکرہ سمجھ میں آیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح کندی جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح کندی جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ مُنْهِبٍ قَالَ : بَلَغَ مُعَاوِيَةَ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَشْتُمُ أَبَا سُفْيَانَ ، فَقَالَ : بِئْسَ لَعَمْرُ اللَّهِ مَا يَقُولُ فِي عَمِّهِ ، لَكِنِّي لَا أَقُولُ فِي عَبْدِ اللَّهِ إِلَّا خَيْرًا ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ امْرَأً صَالِحًا ، خَرَجَ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى بَادِيَةٍ لَهُ مُرْدِفًا هِنْدٌ ، وَخَرَجْتُ أَسِيرُ أَمَامَهُمَا - وَأَنَا غُلَامٌ - عَلَى حِمَارَةٍ ، إِذْ لَحِقْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : انْزِلْ يَا مُعَاوِيَةُ ، حَتَّى يَرْكَبَ مُحَمَّدٌ . فَنَزَلْتُ عَنِ الْحِمَارَةِ ، فَرَكِبَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَارَ أَمَامَهُمَا هُنَيْهَةً ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْهِمَا ، فَقَالَ : " يَا أَبَا سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ ، وَيَا هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ ، وَاللَّهِ لَتَمُوتُنَّ ، ثُمَّ لَتُبْعَثُنَّ ، ثُمَّ لَيَدْخُلَنَّ الْمُحْسِنُ الْجَنَّةَ ، وَالْمُسِيءُ النَّارَ ، وَأَنَّ مَا أَقُولُ لَكُمْ حَقٌّ ، وَإِنَّكُمْ أَوَّلُ مَنْ أُنْذِرْتُمْ " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حم تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " . حَتَّى بَلَغَ : " قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ " . فَقَالَ لَهُ أَبُو سُفْيَانَ : أَفَرَغْتَ يَا مُحَمَّدُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحِمَارَةِ ، وَرَكِبْتُهَا ، فَأَقْبَلَتْ هِنْدٌ عَلَى أَبِي سُفْيَانَ ، فَقَالَتْ : أَلِهَذَا السَّاحِرِ الْكَذَّابِ أَنْزَلْتَ ابْنِي ؟ فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا هُوَ بِسَاحِرٍ ، وَلَا كَذَّابٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . وَحُمَيْدُ بْنُ مُنْهِبٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حمید بن منہب بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو برا کہتے ہیں : تو سیدنا ابومعاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! وہ شخص اپنے چچا کے بارے میں جو کہتا ہے وہ بری بات ہے ، لیکن میں عبداللہ کے بارے میں صرف بھلائی کی بات کہوں گا اللہ تعالیٰ کی اس پر رحمت ہو وہ ایک نیک آدمی ہے ایک مرتبہ ابوسفیان نے اپنی اہلیہ ہند کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا اور شہر سے باہر کی طرف روانہ ہوئے میں ان دونوں سے آگے چلتا ہوا نکلا میں کمسن تھا میں ایک گدھی پر سوار تھا ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ملے سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے معاویہ نیچے اترو تاکہ محمد سوار ہو جائیں میں گدھی سے نیچے اتر آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے آپ ان دونوں کے آگے کچھ دیر چلتے رہے پھر آپ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے ابوسفیان بن حرب اے ہند بنت عتبہ ! اللہ کی قسم ! تم مر جاؤ گے پھر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، اور پھر نیکی کرنے والا جنت میں داخل ہو گا ، اور برائی کرنے والا جہنم میں داخل ہو گا میں تمہیں ، جو بات کہہ رہا ہوں وہ حق ہے اور تم وہ پہلے لوگ ہو ، جنہیں ڈرایا گیا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت کیں : ” حم یہ نہایت مہربان بڑے رحم کرنے والے کی طرف سے نازل کیا گیا ہے “ ۔ یہ آیات یہاں تک تلاوت کیں ” وہ دونوں کہیں گے : ہم اپنی رضا مندی سے آئے ہیں “ ۔ ابوسفیان نے آپ سے کہا: اے محمد ! کیا آپ فارغ ہو گئے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گدھے سے اتر گئے ، اور میں اس پر سوار ہو گیا ہند ابوسفیان کی طرف متوجہ ہوئی اور بولی: کیا اس جھوٹے جادوگر کے لئے آپ نے میرے بیٹے کو سواری سے نیچے اتارا تھا ، تو ابوسفیان نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ نہ تو جادوگر ہے اور نہ ہی جھوٹا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے حمید بن منہب نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے حمید بن منہب نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدُّئَلِيِّ قَالَ : مَا أَسْمَعُكُمْ تَقُولُونَ : إِنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَنَالُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنِّي أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ ; أَنَّ مَنْزِلَهُ كَانَ بَيْنَ مَنْزِلِ أَبِي لَهَبٍ ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ، وَكَانَ يَنْقَلِبُ إِلَى بَيْتِهِ فَيَجِدُ الْأَرْحَامَ وَالدِّمَاءَ وَالْأَنْحَاتَ قَدْ نُصِبَتْ عَلَى بَابِهِ ، فَيُنَحِّي ذَلِكَ بِسِنَةِ قَوْسِهِ ، وَيَقُولُ : " بِئْسَ الْجِوَارُ هَذَا يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ الرَّافِقِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي تَأْيِيدِهِ عَلَى عَدُوِّهِ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ربیعہ بن عباد دئلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تم لوگ جو کہتے ہو وہ میں نے سنا ہے کہ قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچایا کرتے تھے میں نے زیادہ سے زیادہ جو چیز دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر ابولہب کے گھر اور عقبہ بن ابومعیط کے گھر کے درمیان میں تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر واپس آتے تھے ، تو آپ جانوروں کی بچہ دانیاں خون اور گندگی پاتے تھے کہ وہ آپ کے دروازے کے پاس رکھی گئی ہوتی تھیں ، تو آپ اپنی کمان کے کنارے کے ذریعے انہیں ایک طرف کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے : اے قریش کے گروہ ! یہ برا پڑوس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن علی بن حسین رافقی ہے اور وہ ضعیف ہے قریش کی عداوت کے بارے میں اس کی تائید میں چند روایات نبوت کی علامات سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن علی بن حسین رافقی ہے اور وہ ضعیف ہے قریش کی عداوت کے بارے میں اس کی تائید میں چند روایات نبوت کی علامات سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي : مَا هَذِهِ الْجَمَاعَةُ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ الَّذِينَ اجْتَمَعُوا عَلَى صَابِئٍ لَهُمْ . قَالَ : فَنَزَلْنَا فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو النَّاسَ إِلَى تَوْحِيدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَالْإِيمَانِ بِهِ ، وَهُمْ يَرُدُّونَ عَلَيْهِ ، وَيُؤْذُونَهُ حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ ، وَانْصَدَعَ النَّاسُ عَنْهُ ، أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ قَدْ بَدَا نَحْرُهَا تَحْمِلُ قَدَحًا وَمَنْدِيلًا ، فَتَنَاوَلَهُ مِنْهَا فَشَرِبَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " يَا بُنَيَّةُ ، خَمِّرِي عَلَيْكِ نَحْرَكِ ، وَلَا تَخَافِينَ عَلَى أَبِيكِ " . قُلْنَا : مَنْ هَذِهِ ؟ قَالُوا : هَذِهِ زَيْنَبُ بِنْتُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : یہ لوگ کس لئے اکٹھے ہوئے ہیں ، تو انہوں نے بتایا یہ وہ لوگ ہیں ، جو اپنے میں سے ایک بے دین فرد کے خلاف اکٹھے ہوئے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے پڑاؤ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس پر ایمان رکھنے کی طرف دعوت دے رہے تھے اور لوگ آپ کی بات کو مسترد کر رہے تھے اور آپ کو اذیت پہنچا رہے تھے ، یہاں تک کہ دوپہر کا وقت ہو گیا تو لوگ آپ کے پاس سے ہٹ گئے اسی دوران ایک عورت آئی جس کا گلہ ظاہر ہو رہا تھا اس نے ایک پیالہ اور ایک رومال اُٹھایا ہوا تھا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی پیش کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا وضو کیا ، پھر آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا : اے میری بیٹی ! اپنے گلے کو ڈھانپ کے رکھو اور اپنے باپ کے حوالے سے اندیشہ کا شکار نہ ہو ، ہم نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ ان کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں
وَعَنْ مُنِيبٍ الْأَزْدِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، قُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا " . فَمِنْهُمْ مَنْ تَفَلَ فِي وَجْهِهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ حَثَا عَلَيْهِ التُّرَابَ ، وَمِنْهُمْ مَنْ سَبَّهُ حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ ، فَأَقْبَلَتْ جَارِيَةٌ بِعُسٍّ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، وَقَالَ : " يَا بُنَيَّةُ ، لَا تَخْشِي عَلَى أَبِيكِ غِيلَةً ، وَلَا ذِلَّةً " . فَقُلْتُ : مَنْ هَذِهِ ؟ قَالُوا : زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ جَارِيَةٌ ، وَضِيئَةٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُنِيبُ بْنُ مُدْرِكٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا منیب ازدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ یہ فرما رہے تھے اے لوگو ! تم لا الہ الا اللہ پڑھ لو ، تم کامیاب ہو جاؤ گے تو کوئی شخص آپ کے چہرے کی طرف تھوک دیتا تھا کوئی آپ پر مٹی ڈال دیتا تھا کوئی آپ کو برا کہتا تھا یہاں تک کہ دوپہر کا وقت ہو گیا اسی دوران ایک لڑکی ایک پانی کا پیالہ لے کے آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور ارشاد فرمایا : اے میری بیٹی ! تم اپنے باپ کے حوالے سے کسی دھوکے یا ذلت کا اندیشہ نہ رکھنا ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : اللہ کے رسول کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں ، وہ اس وقت وجیہہ و شکیل لڑکی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منیب بن مدرک ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منیب بن مدرک ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مُدْرِكٍ قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ أَبِي فَلَمَّا نَزَلْنَا مِنًى ، إِذَا نَحْنُ بِجَمَاعَةٍ ، فَقُلْتُ لِأَبِي : مَا هَذِهِ الْجَمَاعَةُ ؟ قَالَ : هَذَا الصَّابِئُ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، قُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مدرک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کے ساتھ حج کیا ، جب ہم نے منی میں پڑاؤ کیا ہوا تھا ، تو وہاں کچھ لوگ اکٹھے موجود تھے میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : یہ لوگ کیوں اکٹھے ہوئے ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ ایک دین سے پھرا ہوا شخص ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے : اے لوگو ! تم لا الہ الا اللہ پڑھ لو تم کامیاب ہو جاؤ گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ كِنَانَةٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَتَخَلَّلُهَا، يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا " . قَالَ : وَأَبُو جَهْلٍ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ ، وَيَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسِ لَا يَغْوِيَنَّكُمْ هَذَا عَنْ دِينِكُمْ ، فَإِنَّمَا يُرِيدُ لِتَتْرُكُوا آلِهَتَكُمْ ، وَتَتْرُكُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى . قَالَ : وَمَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قُلْتُ : انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : بَيْنَ بُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ مَرْبُوعٌ كَثِيرُ اللَّحْمِ ، حَسَنُ الْوَجْهِ ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ، أَبْيَضُ شَدِيدُ الْبَيَاضِ، سَابِغُ الشَّعْرِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
بنو مالک بن کنانہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ آپ لوگوں کے درمیان میں سے گزر رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے : اے لوگو ! تم لا الہ الا اللہ پڑھ لو تم کامیاب ہو جاؤ گے ۔ راوی کہتے ہیں : ابوجہل آپ پر مٹی ڈال دیتا تھا ، اور یہ کہتا تھا اے لوگو یہ شخص تمہیں تمہارے دین کے حوالے سے گمراہ نہ کرے یہ چاہتا ہے کہ تم لوگ اپنے معبودوں کو ترک کر دو تم لوگ لات اور عزیٰ کو ترک کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف توجہ نہیں کر رہے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ ہمارے سامنے بیان کریں ، تو انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سرخ چادریں اوڑھی ہوئی تھیں آپ چوڑے کندھوں کے مالک بھرے جسم کے مالک خوبصورت چہرے والے شخص تھے آپ کے بال انتہائی سیاہ تھے اور رنگ انتہائی سفید تھا ، اور آپ کے بال لمبے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ - وَكَانَ جَاهِلِيًّا - قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا " . ¤ وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ ، وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ وَضِيءُ الْوَجْهِ، أَحْوَلُ ذُو غَدِيرَتَيْنِ، يَقُولُ : إِنَّهُ صَابِئٌ كَاذِبٌ ، يَتْبَعُهُ حَيْثُ ذَهَبَ ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَذَكَرُوا لِي نَسَبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالُوا لِي : هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ربیعہ بن عباد رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو دیل سے ہے اور انہوں نے زمانہ جاہلیت دیکھا ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا آپ یہ فرما رہے تھے : اے لوگو ! تم لا الہ الا اللہ پڑھ لو تم کامیاب ہو جاؤ گے لوگ آپ کے پاس اکٹھے ہوتے تھے آپ کے پیچھے ایک شخص تھا ، جس کا چہرہ صاف تھا وہ بھینگا تھا ، اور اس نے بڑے بال رکھے ہوئے تھے وہ یہ کہتا تھا یہ بے دین اور جھوٹا شخص ہے آپ جہاں بھی تشریف لے جاتے تھے ۔ وہ آپ کے پیچھے آ جاتا تھا میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا : تو لوگوں نے میرے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب بیان کیا اور یہ بتایا کہ یہ ان کا چچا ابولہب ہے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَفِرُّ مِنْهُ ، وَهُوَ يَتْبَعُهُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بچتے تھے اور وہ آپ کے پیچھے آ جاتا تھا ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : وَكَانَ جَاهِلِيًّا فَأَسْلَمَ .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : انہوں نے زمانہ جاہلیت بھی دیکھا اور پھر اسلام بھی قبول کر لیا ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : وَالنَّاسُ مُنْقَصِفُونَ عَلَيْهِ ، فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا يَقُولُ شَيْئًا ، وَهُوَ لَا يَسْكُتُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَابْنُهُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَالْأَوْسَطُ بِاخْتِصَارٍ بِأَسَانِيدَ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ ثِقَاتُ الرِّجَالِ . وَتَأْتِي لَهُ طَرِيقٌ فِي عَرْضِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَفْسَهُ عَلَى الْقَبَائِلِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : لوگ آپ کو آپ کے حال پر چھوڑ دیتے تھے ، میں نے کسی شخص کو کچھ کہتے ہوئے نہیں دیکھا اور آپ خاموش نہیں ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور ان کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ مختلف اسانید کے حوالے سے نقل کی ہے عبداللہ بن أحمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں اس روایت کا ایک طریق ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مختلف قبائل کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنے سے متعلق باب میں آئے گا ۔
یہ روایت امام أحمد اور ان کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ مختلف اسانید کے حوالے سے نقل کی ہے عبداللہ بن أحمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں اس روایت کا ایک طریق ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مختلف قبائل کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنے سے متعلق باب میں آئے گا ۔
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : إِنِّي بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ شَابٌّ ، عَلَيْهِ حُلَّةٌ مِنْ بُرْدٍ أَحْمَرَ ، وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، قُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا " . وَرَجُلٌ خَلْفَهُ قَدْ أَدْمَى عُرْقُوبَيْهِ وَسَاقَيْهِ ، يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ كَذَّابٌ فَلَا تُطِيعُوهُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : غُلَامُ بَنِي هَاشِمٍ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، وَهَذَا عَمُّهُ عَبَدُ الْعُزَّى ، فَلَمَّا هَاجَرَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَأَسْلَمَ النَّاسُ ، ارْتَحَلْنَا مِنَ الرَّبْذَةِ يَوْمَئِذٍ مَعَنَا ظَعِينَةً لَنَا فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَدْنَى حِيطَانِهَا ، لَبِسْنَا ثِيَابًا غَيْرَ ثِيَابِنَا ، إِذَا رَجُلٌ فِي الطَّرِيقِ ، فَقَالَ : مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ الْقَوْمُ ؟ قُلْنَا : نَمِيرُ أَهْلَنَا ، وَلَنَا جَمَلٌ أَحْمَرُ قَائِمٌ مَخْطُومٌ قَالَ : أَتَبِيعُونِي جَمَلَكُمْ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : بِكَمْ ؟ قُلْنَا : بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، فَمَا اسْتَنْقَصَنَا مِمَّا قُلْنَا شَيْئًا ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ فَأَخَذَ بِخِطَامِ الْجَمَلِ ، ثُمَّ أَدْبَرَ بِهِ ، فَلَمَّا تَوَارَى عَنَّا بِالْحِيطَانِ قُلْنَا : وَاللَّهِ مَا صَنَعْنَا شَيْئًا بِعْنَا مَنْ لَا نَعْرِفُ قَالَ : تَقُولُ امْرَأَةٌ جَالِسَةٌ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا كَأَنَّ وَجْهَهُ شَقَّةُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، وَلَا وَاللَّهِ لَا يَظْلِمُكُمْ ، لَا يُحَيِّرُكُمْ وَأَنَا ضَامِنَةٌ لِجَمَلِكُمْ ، فَأَتَى رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ ، هَذَا تَمْرُكُمْ فَكُلُوا وَاشْبَعُوا وَاكْتَالُوا قَالَ : فَأَكَلَنْا وَشَبِعْنَا وَاكْتَلْنَا وَاسْتَوْفَيْنَا ثُمَّ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ ، فَأَتَيْنَا الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا هُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَسَمِعْنَا مِنْ قَوْلِهِ : " تَصَدَّقُوا ; فَإِنَّ الصَّدَقَةَ خَيْرٌ لَكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ” ذوالجاز “ کے بازار میں موجود تھا ایک نوجوان شخص گزرا جس نے سرخ رنگ کا حلہ پہنا ہوا تھا وہ یہ کہہ رہا تھا اے لوگو تم لا الہ الا اللہ پڑھ لو تم کامیاب ہو جاؤ گے اس کے پیچھے ایک شخص تھا ، جس نے ان ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پنڈلیوں اور ایڑیوں کو خون آلود کر دیا ہوا تھا ، وہ شخص یہ کہہ رہا تھا : اے لوگو ! یہ شخص جھوٹا ہے تم اس کی بات نہ ماننا میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ تو کسی نے بتایا : یہ بنوہاشم سے تعلق رکھنے والا نوجوان ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے اس کے پیچھے اس کا چچا عبدالعزی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ، تو اس موقع پر ہم ربذہ سے روانہ ہوئے ہمارے ساتھ ایک بوڑھی خاتون بھی تھی جب ہم مدینہ منورہ آئے تو مدینہ منورہ کی آبادی کے قریب پہنچے تو ہم نے لباس تبدیل کیا اسی دوران راستے میں ایک صاحب نظر آئے انہوں نے دریافت کیا : آپ کہاں سے آئے ہیں ہم نے کہا: ہم اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر آئے ہیں ہمارے پاس ایک سرخ رنگ کا اونٹ ہے ، جو کھڑا ہوا ہے اور اسے لگام پڑی ہوئی ہے ان صاحب نے دریافت کیا : کیا آپ اپنا اونٹ فروخت کریں گے ہم نے جواب دیا : جی ہاں ۔ انہوں نے دریافت کیا : کتنے کے عوض میں ؟ ہم نے کہا: اتنے کے عوض میں اور اتنے صاع کھجور کے عوض میں ہم نے انہیں ، جو قیمت بتائی تھی انہوں نے اس میں کمی کے لئے نہیں کہا: پھر انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اونٹ کی لگام پکڑی اور اسے لے کے چلے گئے جب وہ آبادی میں ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے تو ہم نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ ہم نے کیا ، کیا ہے ہم نے ایک ایسے شخص کے ساتھ سودا کر لیا ہے جس سے ہم واقف ہی نہیں ہیں ، تو وہ خاتون جو بیٹھی ہوئی تھیں اس نے کہا: میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا ہے جس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کے ٹکڑے کی مانند ہے ۔ اللہ کی قسم ! وہ تمہارے ساتھ ظلم نہیں کریں گے تمہارے ساتھ زیادتی نہیں کریں گے میں تمہارے اونٹ کی ضمانت دیتی ہوں پھر ایک اور صاحب آئے اور وہ بولے : میں اللہ کے رسول کا قاصد ہوں جو تمہاری طرف آیا ہوں یہ تمہاری کھجوریں ہیں تم انہیں ماپ لو ، اور تم نہیں سیر ہو کے کھاؤ اور ماپ لو راوی کہتے ہیں : تو ہم نے انہیں کھایا اور ہم سیر ہو گئے ، اور ہم نے ماپ لیں ، تو وہ پوری تھیں پھر ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے پھر ہم مسجد میں آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر موجود خطبہ دے رہے تھے ۔ ہم نے آپ کی یہ بات سنی : تم لوگ صدقہ کرو بے شک صدقہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ مدلس ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ مدلس ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔