مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَبْلِيغِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ باب: نبی اکرم ﷺ کو جس چیز کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم ﷺ کا اس کی تبلیغ کرنا اور اس حوالے سے صبر سے کام لینا
حدیث نمبر: 9811
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ تَحَيَّنُوا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا أَسْرَعَ مَا وَجَدْتُ فَقْدَكَ يَا عَمِّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، عَنْ شَخْصٍ لَقِيَ ابْنَ سَعِيدٍ الرَّازِيَّ ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَيْسَ بِذَاكَ ، وَعِيسَى بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب جناب ابوطالب کا انتقال ہو گیا تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے چچا ! مجھے آپ کی غیر موجودگی کتنی جلدی محسوس ہو رہی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک شخص کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو ابن سعید رازی سے ملا تھا امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے عیسیٰ بن عبدالسلام سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔