مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَبْلِيغِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ باب: نبی اکرم ﷺ کو جس چیز کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم ﷺ کا اس کی تبلیغ کرنا اور اس حوالے سے صبر سے کام لینا
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ; أَنَّهُمْ قَالُوا لَهَا : مَا أَشَدُّ مَا رَأَيْتِ الْمُشْرِكِينَ بَلَغُوا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَتْ : كَانَ الْمُشْرِكُونَ قَعَدُوا فِي الْمَسْجِدِ يَتَذَاكَرُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا يَقُولُ فِي آلِهَتِهِمْ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامُوا إِلَيْهِ بِأَجْمَعِهِمْ ، فَأَتَى الصَّرِيخُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالُوا : أَدْرِكْ صَاحِبَكَ ! فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِنَا ، وَإِنَّ لَهُ لَغَدَائِرَ أَرْبَعًا ، وَهُوَ يَقُولُ : وَيْلَكُمُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ فَلَهُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقْبَلُوا عَلَى أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : فَرَجَعَ إِلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ ، فَجَعْلَ لَا يَمَسُّ شَيْئًا مِنْ غَدَائِرِهِ إِلَّا جَاءَ مَعَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ تَدْرُوسُ جَدُّ أَبِي الزُّبَيْرِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے سب سے زیادہ شدید چیز کیا دیکھی جو مشرکین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچائی ہو ؟ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے بتایا : مشرکین مسجد ( یعنی خانہ کعبہ کے پاس ) بیٹھے ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر رہے تھے اور اس بات کا ذکر کر رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے معبودوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ ابھی وہ اسی عالم میں تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی دوران تشریف لے آئے وہ سب لوگ اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے کسی نے بلند آواز میں آ کے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہا: آپ اپنے آقا کے پاس پہنچیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے نکلے ان کی چار لٹیں تھیں ، اور وہ یہ کہہ رہے تھے : تم لوگوں کا ستیاناس ہو کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے واضح نشانیاں لے کے آیا ہے ، تو ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر لیا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ، تو ان کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے بالوں میں سے جس کو بھی مس کرتے تھے ۔ وہ ساتھ آ جاتا تھا ، اور وہ یہ کہہ رہے تھے : اے جلال اور اکرام والے ! تو برکت والا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی تدروس ہے ، جو ابوزبیر کا دادا ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔