مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَبْلِيغِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ باب: نبی اکرم ﷺ کو جس چیز کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم ﷺ کا اس کی تبلیغ کرنا اور اس حوالے سے صبر سے کام لینا
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ مُنْهِبٍ قَالَ : بَلَغَ مُعَاوِيَةَ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَشْتُمُ أَبَا سُفْيَانَ ، فَقَالَ : بِئْسَ لَعَمْرُ اللَّهِ مَا يَقُولُ فِي عَمِّهِ ، لَكِنِّي لَا أَقُولُ فِي عَبْدِ اللَّهِ إِلَّا خَيْرًا ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ امْرَأً صَالِحًا ، خَرَجَ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى بَادِيَةٍ لَهُ مُرْدِفًا هِنْدٌ ، وَخَرَجْتُ أَسِيرُ أَمَامَهُمَا - وَأَنَا غُلَامٌ - عَلَى حِمَارَةٍ ، إِذْ لَحِقْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : انْزِلْ يَا مُعَاوِيَةُ ، حَتَّى يَرْكَبَ مُحَمَّدٌ . فَنَزَلْتُ عَنِ الْحِمَارَةِ ، فَرَكِبَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَارَ أَمَامَهُمَا هُنَيْهَةً ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْهِمَا ، فَقَالَ : " يَا أَبَا سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ ، وَيَا هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ ، وَاللَّهِ لَتَمُوتُنَّ ، ثُمَّ لَتُبْعَثُنَّ ، ثُمَّ لَيَدْخُلَنَّ الْمُحْسِنُ الْجَنَّةَ ، وَالْمُسِيءُ النَّارَ ، وَأَنَّ مَا أَقُولُ لَكُمْ حَقٌّ ، وَإِنَّكُمْ أَوَّلُ مَنْ أُنْذِرْتُمْ " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حم تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " . حَتَّى بَلَغَ : " قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ " . فَقَالَ لَهُ أَبُو سُفْيَانَ : أَفَرَغْتَ يَا مُحَمَّدُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحِمَارَةِ ، وَرَكِبْتُهَا ، فَأَقْبَلَتْ هِنْدٌ عَلَى أَبِي سُفْيَانَ ، فَقَالَتْ : أَلِهَذَا السَّاحِرِ الْكَذَّابِ أَنْزَلْتَ ابْنِي ؟ فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا هُوَ بِسَاحِرٍ ، وَلَا كَذَّابٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . وَحُمَيْدُ بْنُ مُنْهِبٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤حمید بن منہب بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو برا کہتے ہیں : تو سیدنا ابومعاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! وہ شخص اپنے چچا کے بارے میں جو کہتا ہے وہ بری بات ہے ، لیکن میں عبداللہ کے بارے میں صرف بھلائی کی بات کہوں گا اللہ تعالیٰ کی اس پر رحمت ہو وہ ایک نیک آدمی ہے ایک مرتبہ ابوسفیان نے اپنی اہلیہ ہند کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا اور شہر سے باہر کی طرف روانہ ہوئے میں ان دونوں سے آگے چلتا ہوا نکلا میں کمسن تھا میں ایک گدھی پر سوار تھا ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ملے سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے معاویہ نیچے اترو تاکہ محمد سوار ہو جائیں میں گدھی سے نیچے اتر آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے آپ ان دونوں کے آگے کچھ دیر چلتے رہے پھر آپ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے ابوسفیان بن حرب اے ہند بنت عتبہ ! اللہ کی قسم ! تم مر جاؤ گے پھر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، اور پھر نیکی کرنے والا جنت میں داخل ہو گا ، اور برائی کرنے والا جہنم میں داخل ہو گا میں تمہیں ، جو بات کہہ رہا ہوں وہ حق ہے اور تم وہ پہلے لوگ ہو ، جنہیں ڈرایا گیا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت کیں : ” حم یہ نہایت مہربان بڑے رحم کرنے والے کی طرف سے نازل کیا گیا ہے “ ۔ یہ آیات یہاں تک تلاوت کیں ” وہ دونوں کہیں گے : ہم اپنی رضا مندی سے آئے ہیں “ ۔ ابوسفیان نے آپ سے کہا: اے محمد ! کیا آپ فارغ ہو گئے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گدھے سے اتر گئے ، اور میں اس پر سوار ہو گیا ہند ابوسفیان کی طرف متوجہ ہوئی اور بولی: کیا اس جھوٹے جادوگر کے لئے آپ نے میرے بیٹے کو سواری سے نیچے اتارا تھا ، تو ابوسفیان نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ نہ تو جادوگر ہے اور نہ ہی جھوٹا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے حمید بن منہب نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔