حدیث نمبر: 9813
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا أَرَادُوا قَتْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا يَوْمًا ائْتَمَرُوا بِهِ ، وَهُمْ جُلُوسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عِنْدَ الْمَقَامِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُقْبَةُ ابْنُ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَجَعَلَ رِدَاءَهُ فِي عُنُقِهِ ، ثُمَّ جَذَبَهُ حَتَّى وَجَبَ لِرُكْبَتَيْهِ ، وَتَصَايَحَ النَّاسُ ، وَظَنُّوا أَنَّهُ مَقْتُولٌ قَالَ : وَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ يَشْتَدُّ حَتَّى أَخَذَ بِضَبْعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ وَرَائِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ انْصَرَفُوا ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ مَرَّ بِهِمْ ، وَهُمْ جُلُوسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ إِلَّا بِالذَّبْحِ " . وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى حَلْقِهِ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ : يَا مُحَمَّدُ مَا كُنْتَ جَهُولًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتَ مِنْهُمْ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے قریش کو کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا البتہ اس دن کا معاملہ مختلف ہے جب انہوں نے اس بارے میں باہمی طور پر مشورہ کیا وہ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کر رہے تھے عقبہ بن ابومعیط اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا اس نے اپنی چادر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں ڈالی اور پھر اسے کھینچا یہاں تک کہ آپ گھٹنوں کے بل جھک گئے ، وہ لوگ چیخیں مارنے لگے ، وہ یہ سمجھے کہ آپ شہید ہو گئے ہیں ، اسی دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور انہوں نے پیچھے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلو سے پکڑ لیا ، وہ یہ کہہ رہے تھے : کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو ؟ جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پیچھے ہو گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ ان کے پاس سے گزرے وہ لوگ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : اے قریش کے گروہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے تم لوگوں کی طرف صرف ذبح کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دست مبارک کے ذریعے حلق کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ابوجہل نے آپ کی خدمت میں گزارش کی : اے محمد ! آپ تو سختی کرنے والے نہیں تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ان لوگوں میں سے ایک ہو ( جنہیں ذبح کیا جائے گا ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ امام طبرانی کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9813
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7339)»