مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَبْلِيغِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ باب: نبی اکرم ﷺ کو جس چیز کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم ﷺ کا اس کی تبلیغ کرنا اور اس حوالے سے صبر سے کام لینا
حدیث نمبر: 9822
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : مَرِضَ أَبِي مَرَضًا شَدِيدًا ، فَقَالَ : لَئِنْ شَفَانِي اللَّهُ مِنْ وَجَعِي هَذَا ، لَا يُعْبَدُ إِلَهُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ بِبَطْنِ مَكَّةَ أَبَدًا ، قَالَ خَالِدٌ : فَهَلَكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى الْأُمَوِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَدِّهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد شدید بیمار ہو گئے انہوں نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بیماری سے شفاء دے دی تو محمد بن ابوکبشہ کے معبود کی مکہ کی وادی میں کبھی عبادت نہیں کی جائے گی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تو وہ فوت ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمرو بن یحیی اموی کا معاملہ مختلف ہے انہوں نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے ۔