مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَبْلِيغِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ باب: نبی اکرم ﷺ کو جس چیز کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم ﷺ کا اس کی تبلیغ کرنا اور اس حوالے سے صبر سے کام لینا
عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : جَاءَتْ قُرَيْشٌ إِلَى أَبِي طَالِبٍ فَقَالُوا : يَا أَبَا طَالِبٍ ، إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَأْتِينَا فِي أَفْنِيَتِنَا ، وَفِي نَادِينَا ، فَيُسْمِعُنَا مَا يُؤْذِينَا بِهِ ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَكُفَّهُ عَنَّا فَافْعَلْ . فَقَالَ لِي : يَا عَقِيلُ ، الْتَمَسْ لِي ابْنَ عَمِّكَ ، فَأَخْرَجْتُهُ مِنْ كِبْسٍ مِنْ أَكْبَاسِ أَبِي طَالِبٍ ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي مَعِي يَطْلُبُ الْفَيْءَ يَمْشِي فِيهِ ، فَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو طَالِبٍ : يَا ابْنَ أَخِي ، وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنْ كُنْتَ لِي لَمُطَاعًا ، وَقَدْ جَاءَ قَوْمُكَ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَأْتِيهِمْ فِي كَعْبَتِهِمْ ، وَفِي نَادِيهِمْ تُسْمِعُهُمْ مَا يُؤْذِيهِمْ ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَكُفَّ عَنْهُمْ . فَحَلَّقَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ مَا أَنَا بِأَقْدَرَ أَنْ أَدَعَ مَا بُعِثْتُ بِهِ مِنْ أَنْ يُشْعِلَ أَحَدُكُمْ مِنْ هَذِهِ الشَّمْسِ شُعْلَةً مِنْ نَارٍ " . ¤ فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ : وَاللَّهِ مَا كَذَبَ ابْنُ أَخِي قَطُّ ، ارْجِعُوا رَاشِدِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : مَنْ جَلْسٍ ، مَكَانَ : كِبْسٍ . وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ يَسِيرٍ مِنْ أَوَّلِهِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عقیل بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش جناب ابوطالب کے پاس آئے اور بولے : اے جناب ابوطالب آپ کے بھتیجے ہمارے گھروں میں اور ہماری بیٹھکوں میں آتے ہیں اور ہمیں وہ بات سناتے ہیں ، جو ہمیں تکلیف دیتی ہے ، اگر آپ مناسب سمجھیں ، تو آپ انہیں ہمارے پاس آنے سے روک دیں ، تو جناب ابوطالب نے مجھ سے فرمایا : اے عقیل ! میرے بھتیجے کو ڈھونڈ کے لاؤ ! میں جناب ابوطالب کی جگہ سے نکلا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے آپ سایہ تلاش کر کے اس میں چل رہے تھے لیکن وہ نہیں مل رہا تھا یہاں تک کہ آپ جناب ابوطالب کے پاس آ گئے تو جناب ابوطالب نے آپ سے کہا: کہ اے میرے بھتیجے ! اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق تو تم میرے مطاع ہو ، تمہاری قوم کے لوگ آئے تھے ان کا یہ کہنا تھا کہ تم ان کے گھروں میں اور ان کی بیٹھکوں میں ان کے پاس جاتے ہو اور انہیں وہ چیز سناتے ہو جو انہیں تکلیف دیتی ہے ، تو اگر تم یہ مناسب سمجھو تو اس چیز سے باز آ جاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے جس چیز کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے میں اسے ترک کرنے کی اس سے زیادہ قدرت نہیں رکھتا کہ آپ میں سے کوئی ایک شخص اس سورج سے آگ کا ایک شعلہ جلا لے “ جناب ابوطالب نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میرے بھتیجے نے کبھی جھوٹ نہیں بولا: تم لوگ ہدایت پانے والے ہو کر واپس جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے لفظ کبس کی جگہ لفظ جلس نقل کیا ہے اسے امام ابویعلیٰ نے آغاز میں معمولی سے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔