حدیث نمبر: 9820
وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ دَعَامَةَ قَالَ : تَزَوَّجَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُتَيْبَةُ بْنُ أَبِي لَهَبٍ ، وَكَانَتْ رُقَيَّةُ عِنْدَ أَخِيهِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ ، فَلَمْ يَبْنِ بِهَا حَتَّى بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا نَزَلَ قَوْلُهُ تَعَالَى : ( تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ ) قَالَ أَبُو لَهَبٍ لِابْنَيْهِ : عُتْبَةَ ، وَعُتَيْبَةَ : رَأْسِي فِي رُءُوسِكُمَا حَرَامٌ ، إِنْ لَمْ تُطَلِّقَا ابْنَتَيْ مُحَمَّدٍ . وَقَالَتْ أُمُّهُمَا بِنْتُ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ - وَهِيَ حَمَّالَةُ الْحَطَبِ - : طَلِّقَاهُمَا يَا بَنِيَّ ، فَإِنَّهُمَا صَبَأَتَا . فَطَلَّقَاهُمَا . وَلَمَّا طَلَّقَ عُتَيْبَةُ أُمَّ كُلْثُومٍ ، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ فَارَقَهَا ، فَقَالَ : كَفَرْتُ بِدِينِكَ ، أَوْ فَارَقْتُ ابْنَتَكَ ، لَا تُحِبُّنِي وَلَا أُحِبُّكَ ، ثُمَّ سَطَا عَلَيْهِ فَشَقَّ قَمِيصَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ خَارِجٌ نَحْوَ الشَّامِ تَاجِرًا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا إِنِّي أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يُسَلِّطَ عَلَيْكَ كَلْبَهُ " . فَخَرَجَ فِي تَجْرٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، حَتَّى نَزَلُوا بِمَكَانٍ مِنَ الشَّامِ - يُقَالُ لَهُ : الزَّرْقَاءُ - لَيْلًا ، فَأَطَافَ بِهِمُ الْأَسَدُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، فَجَعَلَ عُتَيْبَةُ يَقُولُ : وَيْلَ أُمِّي ، هَذَا وَاللَّهِ آكِلِي كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ ، قَاتِلِي ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ وَهُوَ بِمَكَّةَ وَأَنَا بِالشَّامِ ، فَعَدَا عَلَيْهِ الْأَسَدُ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ فَأَخَذَ بِرَأْسِهِ ، فَضَغَمَهُ ضَغْمَةً فَقَتَلَهُ . ¤ قَالَ زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ : فَحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ الْأَسَدَ لَمَّا أَطَافَ بِهِمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ انْصَرَفَ ، فَنَامُوا ، وَجُعِلَ عُتَيْبَةُ وَسَطَهُمْ ، فَأَقْبَلَ السَّبُعُ يَتَخَطَّاهُمْ حَتَّى أَخَذَ بِرَأْسِ عُتَيْبَةَ فَفَدَغَهُ ، وَخَلَفَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - بَعْدَ رُقَيَّةَ عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ هَكَذَا مُرْسَلًا ، وَفِيهِ زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

قتادہ بن دعامہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی عتیبہ بن ابولہب کے ساتھ اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی شادی عتبہ بن ابولہب کے ساتھ ہوئی لیکن ابھی ان خواتین کی رخصتی نہیں ہوئی تھی اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہو گئی جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں “ ۔ تو ابولہب نے اپنے دونوں بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے کہا: اس وقت تک میرا تمہارا تعلق حرام ہو گا جب تک تم محمد کی دونوں صاحبزادیوں کو طلاق نہیں دیتے ان دونوں کی ماں جو حرب بن امیہ کی بیٹی تھی جو گٹھے کو اٹھانے والی تھی ۔ اس نے بھی یہ کہا: میرے بیٹے تم انہیں طلاق دے دو کیونکہ ان دونوں نے اپنا دین تبدیل کر لیا ہے ، تو ان دونوں افراد نے ان دونوں صاحبزادیوں کو طلاق دے دی جب عتیبہ نے سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہ کو طلاق دی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جب کہ وہ اپنی اہلیہ سے علیحدگی اختیار کر چکا تھا اس نے کہا: میں آپ کے دین کا انکار کرتا ہوں اور آپ کی بیٹی سے علیحدگی اختیار کرتا ہوں نہ آپ مجھ سے محبت رکھتے ہیں اور نہ میں آپ سے محبت رکھتا ہوں پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کو چیر دیا پھر وہ تجارت کے سلسلے میں شام کی طرف روانہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ تم پر اپنے کسی کتے کو مسلط کر دے وہ قریش کے تاجروں کے ساتھ روانہ ہوا تھا یہاں تک کہ انہوں نے شام میں ” زرقاء “ نامی جگہ پر پڑاؤ کیا اس رات ایک شیر ان کے پاس آیا عتیبہ نے یہ کہنا شروع کیا میری ماں برباد ہو جائے ۔ اللہ کی قسم ! یہ مجھے اسی طرح کھا جائے گا ، جس طرح محمد نے کہا: تھا ابن ابوکبشہ جو مکہ میں ہیں اور میں شام میں ہوں وہ مجھے قتل کروا دیں گے پھر تمام لوگوں کے درمیان میں سے اس شیر نے اس پر حملہ کیا اور اس کا سر پکڑ لیا اور اسے چبا کر اُسے مار دیا ۔ زہیر بن العلاء بیان کرتے ہیں : ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ اس رات جب شیر نے پہلے ان کا چکر لگایا تو پھر وہ چلا گیا وہ لوگ سو گئے عتیبہ ان لوگوں کے درمیان سویا ہوا تھا پھر درندہ آیا اور لوگوں کو پھلانگ کر آ کر اس نے عتیبہ کا سر پکڑ لیا اور اسے توڑ دیا ۔ اس کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی اور ان کے انتقال کے بعد ) سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اس طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن العلاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9820
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (436/22)»