حدیث نمبر: 9828
وَعَنْ مُنِيبٍ الْأَزْدِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، قُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا " . فَمِنْهُمْ مَنْ تَفَلَ فِي وَجْهِهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ حَثَا عَلَيْهِ التُّرَابَ ، وَمِنْهُمْ مَنْ سَبَّهُ حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ ، فَأَقْبَلَتْ جَارِيَةٌ بِعُسٍّ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، وَقَالَ : " يَا بُنَيَّةُ ، لَا تَخْشِي عَلَى أَبِيكِ غِيلَةً ، وَلَا ذِلَّةً " . فَقُلْتُ : مَنْ هَذِهِ ؟ قَالُوا : زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ جَارِيَةٌ ، وَضِيئَةٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُنِيبُ بْنُ مُدْرِكٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا منیب ازدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ یہ فرما رہے تھے اے لوگو ! تم لا الہ الا اللہ پڑھ لو ، تم کامیاب ہو جاؤ گے تو کوئی شخص آپ کے چہرے کی طرف تھوک دیتا تھا کوئی آپ پر مٹی ڈال دیتا تھا کوئی آپ کو برا کہتا تھا یہاں تک کہ دوپہر کا وقت ہو گیا اسی دوران ایک لڑکی ایک پانی کا پیالہ لے کے آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور ارشاد فرمایا : اے میری بیٹی ! تم اپنے باپ کے حوالے سے کسی دھوکے یا ذلت کا اندیشہ نہ رکھنا ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : اللہ کے رسول کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں ، وہ اس وقت وجیہہ و شکیل لڑکی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منیب بن مدرک ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9828
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (342/20)»