مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَبْلِيغِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ باب: نبی اکرم ﷺ کو جس چیز کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم ﷺ کا اس کی تبلیغ کرنا اور اس حوالے سے صبر سے کام لینا
وَفِي رِوَايَةٍ فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ ، حَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ : اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ " . قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ قِصَّةِ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْأَجْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ ابْنِ مَعِينٍ ، وَغَيْرِهِ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَغَيْرُهُ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ فرمایا اما بعد ! اے اللہ ! قریش کے گروہ پر گرفت کر لے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، جس میں ابوبختری کا قصہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح بن عبداللہ کندی ہے اور وہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات کے نزدیک ثقہ ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔