حدیث نمبر: 9819
وَفِي رِوَايَةٍ فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ ، حَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ : اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ " . قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ قِصَّةِ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْأَجْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ ابْنِ مَعِينٍ ، وَغَيْرِهِ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ فرمایا اما بعد ! اے اللہ ! قریش کے گروہ پر گرفت کر لے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، جس میں ابوبختری کا قصہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح بن عبداللہ کندی ہے اور وہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات کے نزدیک ثقہ ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9819
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2399)»