مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَبْلِيغِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ باب: نبی اکرم ﷺ کو جس چیز کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم ﷺ کا اس کی تبلیغ کرنا اور اس حوالے سے صبر سے کام لینا
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ : جَلَسْنَا إِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ يَوْمًا ، وَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ وَاسْتَمَعْنَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : طُوبَى لِهَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاللَّهِ لَوَدِدْنَا أَنَّا رَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ ، وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتَ . فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ : مَا يَحْمِلُ الرَّجُلَ أَنْ يَتَمَنَّى مَحْضَرًا غَيَّبَهُ اللَّهُ عَنْهُ ، لَا يَدْرِي كَيْفَ يَكُونُ فِيهِ ؟ ! وَاللَّهِ ، لَقَدْ حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْوَامٌ كَبَّهُمُ اللَّهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ ، لَمْ يُجِيبُوهُ ، وَلَمْ يُصَدِّقُوهُ ، أَلَا يَحْمَدُ اللَّهَ تَعَالَى ، أَحَدُكُمُ أَنْ لَا تَعْرِفُوا إِلَّا رَبَّكُمْ مُصَدِّقِينَ بِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ ، فَقَدْ كُفِيتُمُ الْبَلَاءَ بِغَيْرِكُمْ ، وَاللَّهِ لَقَدْ بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَشَدِّ حَالٍ بُعِثَ عَلَيْهَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فِي فِطْرَةٍ وَجَاهِلِيَّةٍ ، لَمْ يَرَوْا أَنَّ دِينًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ ، فَجَاءَ بِفُرْقَانٍ فَرَّقَ بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ ، وَفَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ ، حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَرَى وَالِدَهُ أَوْ وَلَدَهُ أَوْ أَخَاهُ كَافِرًا ، وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى قُفْلَ قَلْبِهِ لِلْإِيمَانِ ، لِيَعْلَمَ أَنَّهُ قَالَ : هَلَكَ مَنْ دَخْلَ النَّارَ ، فَلَا تَقَرُّ عَيْنُهُ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ حَمِيمَهُ فِي النَّارِ ، وَأَنَّهَا الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : ( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ فِي أَحَدِهَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، وَثَّقَهُ الذَّهَبِيُّ ، وَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ، ایک دن سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ہمارے پاس سے ایک شخص گزرا ہم ان کی طرف متوجہ تھے ۔ انہوں نے کہا: ان دونوں آنکھوں کے لئے مبارکباد ہے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ۔ اللہ کی قسم ! ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم نے بھی وہ چیز دیکھی ہوتی جو آپ نے دیکھی ہو اور ہم بھی اس میں موجود ہوئے ہوتے جس میں آپ موجود رہے ، تو سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : آدمی کو کیا چیز اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ وہاں موجود ہونے کی آرزو کرے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے اسے غیر موجود رکھا تھا ، کیونکہ وہ تو یہ نہیں جانتا کہ اس صورت حال میں اس نے کیا کرنا تھا ۔ اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں بہت سے ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ تعالیٰ ان کے نتھنوں کے بل جہنم میں اوندھے منہ ڈال دے گا ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو قبول نہیں کیا آپ کی تصدیق نہیں کی کیا تم میں سے کوئی ایک شخص اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرتا کہ تم لوگوں کو صرف تمہارے پروردگار کی معرفت حاصل ہے اور تم اس چیز کی تصدیق کرنے والے ہو جو تمہارے نبی لے کے آئے تھے اور آزمائش میں تمہاری بجائے دوسروں کو مبتلاء کر دیا گیا ۔ اللہ کی قسم ! جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو اتنی سخت صورت حال میں کسی اور نبی کو مبعوث نہیں کیا گیا تھا نہ زمانہ فطرت میں اور نہ زمانہ جاہلیت میں ، لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بتوں کی عبادت سے زیادہ فضیلت والا دین اور کوئی نہیں ہو سکتا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرقان لے کے آئے جس نے حق اور باطل کے درمیان فرق کر دیا باپ اور بیٹے کو الگ کر دیا یہاں تک کہ کوئی شخص اپنے باپ کو یا اپنے بیٹے کو یا اپنے بھائی کو کافر سمجھتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کے قفل کو ایمان کے لئے کھول دیا تاکہ وہ یہ بات جان لے کہ پروردگار نے یہ فرمایا ہے ( یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے ) کہ جو شخص جہنم میں داخل ہو گا وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا ، اور اس کی آگ ٹھنڈی نہیں ہو گی اور وہ یہ بھی جان لے کہ اس کا قریبی دوست جہنم میں جائے گا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ( وہ یہ کہتے ہیں : ) ” اے ہمارے پروردگار ! ہمارے بیویوں اور ہماری اولاد کے حوالے سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی یحیی بن صالح ہے جسے امام ذہبی نے ثقہ قرار دیا ہے محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔