کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کا بتوں کو توڑ دینا
حدیث نمبر: 9836
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَتَيْنَا الْكَعْبَةَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْلِسْ " . وَصَعِدَ عَلَى مَنْكِبَيَّ ، فَذَهَبْتُ لِأَنْهَضَ بِهِ ، فَرَأَى مِنِّي ضَعْفًا ، فَنَزَلَ وَجَلَسَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اصْعَدْ عَلَى مَنْكِبَيَّ " ، قَالَ : فَصَعَدْتُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ قَالَ : فَنَهَضَ بِي قَالَ : فَإِنَّهُ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنِّي لَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ أُفُقَ السَّمَاءِ ، حَتَّى صَعِدْتُ عَلَى الْبَيْتِ ، وَعَلَيْهِ تِمْثَالُ صُفْرٍ أَوْ نُحَاسٍ ، فَجَعَلْتُ أُزَاوِلُهُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ ، وَمِنْ خَلْفِهِ ، حَتَّى اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْذِفْ بِهِ " . فَقَذَفَ بِهِ فَتَكَسَّرَ كَمَا تَتَكَسَّرُ الْقَوَارِيرُ ، ثُمَّ نَزَلْتُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَسْتَبِقُ ، حَتَّى تَوَارَيْنَا بِالْبُيُوتِ ; خَشْيَةَ أَنْ يَلْقَانَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں آ گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر میرے کندھے پر سوار ہوئے میں نے اٹھنا چاہا ، لیکن آپ نے مجھ میں کمزوری دیکھی تو آپ نیچے اتر آئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے بیٹھ گئے ، اور آپ نے فرمایا : تم میرے کندھوں پر چڑھ جاؤ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر چڑھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ گئے مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اگر میں چاہوں ، تو آسمان کے افق تک پہنچ سکتا ہوں میں بیت اللہ کے اوپری حصے پر چڑھ گیا ، وہاں پیتل یا تانبے کی کچھ تصویریں بنی ہوئی تھیں ، میں نے دائیں طرف سے بائیں طرف سے سامنے سے پیچھے سے انہیں ہٹایا یہاں تک کہ جب یہ کام مکمل کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا انہیں پھینک دو میں نے انہیں پھینک دیا اور وہ یوں ٹوٹ گئیں ، جس طرح شیشے کی بنی ہوئی کوئی چیز ٹوٹتی ہے پھر میں نیچے اتر آیا پھر میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے چلتے ہوئے چلے گئے ، یہاں تک کہ ہم گھروں کے درمیان نگاہوں سے اوجھل ہو گئے اس اندیشہ کے تحت لوگوں میں سے کوئی ہم سے نہ ملے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9836
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2401) اخرجه ابو يعلى فى المسند (292) اخرجه احمد فى المسند (644)»
حدیث نمبر: 9837
وَفِي رِوَايَةٍ : كَانَ عَلَى الْكَعْبَةِ ، أَصْنَامٌ فَذَهَبْتُ أَحْمِلُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ أَسْتَطِعْ ، فَحَمَلَنِي فَجَعَلْتُ أَقْطَعُهَا ، وَلَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ السَّمَاءَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ : حَتَّى اسْتَتَرْنَا بِالْبُيُوتِ ، فَلَمْ يُوضَعْ عَلَيْهَا بَعْدُ - يَعْنِي مِنْ تِلْكَ الْأَصْنَامِ - وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : خانہ کعبہ میں بت پڑے ہوئے تھے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھانے لگا تھا لیکن میں ایسا نہیں کر پایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اٹھا لیا میں نے انہیں ، توڑ دیا اگر میں چاہتا ، تو آسمان تک پہنچ سکتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور ان کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے انہوں نے روایت کے ان الفاظ ، یہاں تک کہ ہم گھروں میں چھپ گئے اس کے بعد یہ نقل کیا ہے : اس کے بعد اس میں وہ نہیں رکھے گئے یعنی وہ بت نہیں رکھے گئے ، ان تمام روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9837
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 9838
وَعَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ الْحُصَيْبِ ; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسَّ صَنَمًا ، فَتَوَضَّأَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بت کو چھو لیا پھر آپ نے وضو کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حیان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9838
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (279)»
حدیث نمبر: 9839
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْهَدُ مَعَ الْمُشْرِكِينَ مَشَاهِدَهُمْ قَالَ : فَسَمِعَ مَلَكَيْنِ خَلْفَهُ ، وَأَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ : اذْهَبْ بِنَا حَتَّى نَقُومَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَقَالَ : كَيْفَ نَقُومُ خَلْفَهُ وَإِنَّمَا عَهْدُهُ بِاسْتِلَامِ الْأَصْنَامِ قَبْلُ ؟ قَالَ : فَلَمْ يَعُدْ بَعْدَ ذَلِكَ يَشْهَدُ مَعَ الْمُشْرِكِينَ مَشَاهِدَهُمْ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے ساتھ ایک جنگ میں شریک ہوئے آپ نے اپنے پیچھے دو فرشتوں کی آواز سنی ان میں سے ایک دوسرے سے یہ کہہ رہا تھا تم ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم اللہ کے رسول کے پیچھے کھڑے ہو جائیں ، تو دوسرے فرشتے نے کہا: ہم ان کے پیچھے کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں ، جبکہ انہوں نے تھوڑی دیر پہلے ایک بت کو چھو لیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مشرکین کی کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9839
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1877)»