حدیث نمبر: 9816
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُنْتُ غُلَامًا يَافِعًا أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ ، وَقَدْ فَرَّا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَا : " يَا غُلَامُ ، هَلْ عِنْدَكَ مِنْ لَبَنٍ تَسْقِينَا ؟ " . قُلْتُ : إِنِّي مُؤْتَمَنٌ ، وَلَسْتُ بِسَاقِيكُمَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں ، ایک قریب البلوغ لڑکا تھا ، اور عقبہ بن ابومعیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے یہ دونوں حضرات مشرکین سے بچ کے آ رہے تھے ان دونوں نے کہا: اے لڑکے ! کیا تمہارے پاس دودھ ، ہے ، جو تم ہمیں پینے کے لئے دو ؟ میں نے کہا: میں امین ہوں ، میں آپ دونوں کو نہیں پلاؤں گا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9816
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (513) اخرجه أبو يعلى فى المسند (4985 و 5096 و 5311) اخرجه احمد فى المسند (379/1)»