مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَبْلِيغِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ باب: نبی اکرم ﷺ کو جس چیز کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم ﷺ کا اس کی تبلیغ کرنا اور اس حوالے سے صبر سے کام لینا
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : إِنِّي بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ شَابٌّ ، عَلَيْهِ حُلَّةٌ مِنْ بُرْدٍ أَحْمَرَ ، وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، قُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا " . وَرَجُلٌ خَلْفَهُ قَدْ أَدْمَى عُرْقُوبَيْهِ وَسَاقَيْهِ ، يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ كَذَّابٌ فَلَا تُطِيعُوهُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : غُلَامُ بَنِي هَاشِمٍ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، وَهَذَا عَمُّهُ عَبَدُ الْعُزَّى ، فَلَمَّا هَاجَرَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَأَسْلَمَ النَّاسُ ، ارْتَحَلْنَا مِنَ الرَّبْذَةِ يَوْمَئِذٍ مَعَنَا ظَعِينَةً لَنَا فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَدْنَى حِيطَانِهَا ، لَبِسْنَا ثِيَابًا غَيْرَ ثِيَابِنَا ، إِذَا رَجُلٌ فِي الطَّرِيقِ ، فَقَالَ : مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ الْقَوْمُ ؟ قُلْنَا : نَمِيرُ أَهْلَنَا ، وَلَنَا جَمَلٌ أَحْمَرُ قَائِمٌ مَخْطُومٌ قَالَ : أَتَبِيعُونِي جَمَلَكُمْ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : بِكَمْ ؟ قُلْنَا : بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، فَمَا اسْتَنْقَصَنَا مِمَّا قُلْنَا شَيْئًا ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ فَأَخَذَ بِخِطَامِ الْجَمَلِ ، ثُمَّ أَدْبَرَ بِهِ ، فَلَمَّا تَوَارَى عَنَّا بِالْحِيطَانِ قُلْنَا : وَاللَّهِ مَا صَنَعْنَا شَيْئًا بِعْنَا مَنْ لَا نَعْرِفُ قَالَ : تَقُولُ امْرَأَةٌ جَالِسَةٌ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا كَأَنَّ وَجْهَهُ شَقَّةُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، وَلَا وَاللَّهِ لَا يَظْلِمُكُمْ ، لَا يُحَيِّرُكُمْ وَأَنَا ضَامِنَةٌ لِجَمَلِكُمْ ، فَأَتَى رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ ، هَذَا تَمْرُكُمْ فَكُلُوا وَاشْبَعُوا وَاكْتَالُوا قَالَ : فَأَكَلَنْا وَشَبِعْنَا وَاكْتَلْنَا وَاسْتَوْفَيْنَا ثُمَّ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ ، فَأَتَيْنَا الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا هُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَسَمِعْنَا مِنْ قَوْلِهِ : " تَصَدَّقُوا ; فَإِنَّ الصَّدَقَةَ خَيْرٌ لَكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ” ذوالجاز “ کے بازار میں موجود تھا ایک نوجوان شخص گزرا جس نے سرخ رنگ کا حلہ پہنا ہوا تھا وہ یہ کہہ رہا تھا اے لوگو تم لا الہ الا اللہ پڑھ لو تم کامیاب ہو جاؤ گے اس کے پیچھے ایک شخص تھا ، جس نے ان ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پنڈلیوں اور ایڑیوں کو خون آلود کر دیا ہوا تھا ، وہ شخص یہ کہہ رہا تھا : اے لوگو ! یہ شخص جھوٹا ہے تم اس کی بات نہ ماننا میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ تو کسی نے بتایا : یہ بنوہاشم سے تعلق رکھنے والا نوجوان ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے اس کے پیچھے اس کا چچا عبدالعزی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ، تو اس موقع پر ہم ربذہ سے روانہ ہوئے ہمارے ساتھ ایک بوڑھی خاتون بھی تھی جب ہم مدینہ منورہ آئے تو مدینہ منورہ کی آبادی کے قریب پہنچے تو ہم نے لباس تبدیل کیا اسی دوران راستے میں ایک صاحب نظر آئے انہوں نے دریافت کیا : آپ کہاں سے آئے ہیں ہم نے کہا: ہم اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر آئے ہیں ہمارے پاس ایک سرخ رنگ کا اونٹ ہے ، جو کھڑا ہوا ہے اور اسے لگام پڑی ہوئی ہے ان صاحب نے دریافت کیا : کیا آپ اپنا اونٹ فروخت کریں گے ہم نے جواب دیا : جی ہاں ۔ انہوں نے دریافت کیا : کتنے کے عوض میں ؟ ہم نے کہا: اتنے کے عوض میں اور اتنے صاع کھجور کے عوض میں ہم نے انہیں ، جو قیمت بتائی تھی انہوں نے اس میں کمی کے لئے نہیں کہا: پھر انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اونٹ کی لگام پکڑی اور اسے لے کے چلے گئے جب وہ آبادی میں ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے تو ہم نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ ہم نے کیا ، کیا ہے ہم نے ایک ایسے شخص کے ساتھ سودا کر لیا ہے جس سے ہم واقف ہی نہیں ہیں ، تو وہ خاتون جو بیٹھی ہوئی تھیں اس نے کہا: میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا ہے جس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کے ٹکڑے کی مانند ہے ۔ اللہ کی قسم ! وہ تمہارے ساتھ ظلم نہیں کریں گے تمہارے ساتھ زیادتی نہیں کریں گے میں تمہارے اونٹ کی ضمانت دیتی ہوں پھر ایک اور صاحب آئے اور وہ بولے : میں اللہ کے رسول کا قاصد ہوں جو تمہاری طرف آیا ہوں یہ تمہاری کھجوریں ہیں تم انہیں ماپ لو ، اور تم نہیں سیر ہو کے کھاؤ اور ماپ لو راوی کہتے ہیں : تو ہم نے انہیں کھایا اور ہم سیر ہو گئے ، اور ہم نے ماپ لیں ، تو وہ پوری تھیں پھر ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے پھر ہم مسجد میں آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر موجود خطبہ دے رہے تھے ۔ ہم نے آپ کی یہ بات سنی : تم لوگ صدقہ کرو بے شک صدقہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ مدلس ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔