مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَبْلِيغِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ باب: نبی اکرم ﷺ کو جس چیز کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم ﷺ کا اس کی تبلیغ کرنا اور اس حوالے سے صبر سے کام لینا
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي : مَا هَذِهِ الْجَمَاعَةُ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ الَّذِينَ اجْتَمَعُوا عَلَى صَابِئٍ لَهُمْ . قَالَ : فَنَزَلْنَا فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو النَّاسَ إِلَى تَوْحِيدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَالْإِيمَانِ بِهِ ، وَهُمْ يَرُدُّونَ عَلَيْهِ ، وَيُؤْذُونَهُ حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ ، وَانْصَدَعَ النَّاسُ عَنْهُ ، أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ قَدْ بَدَا نَحْرُهَا تَحْمِلُ قَدَحًا وَمَنْدِيلًا ، فَتَنَاوَلَهُ مِنْهَا فَشَرِبَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " يَا بُنَيَّةُ ، خَمِّرِي عَلَيْكِ نَحْرَكِ ، وَلَا تَخَافِينَ عَلَى أَبِيكِ " . قُلْنَا : مَنْ هَذِهِ ؟ قَالُوا : هَذِهِ زَيْنَبُ بِنْتُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا حارث بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : یہ لوگ کس لئے اکٹھے ہوئے ہیں ، تو انہوں نے بتایا یہ وہ لوگ ہیں ، جو اپنے میں سے ایک بے دین فرد کے خلاف اکٹھے ہوئے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے پڑاؤ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس پر ایمان رکھنے کی طرف دعوت دے رہے تھے اور لوگ آپ کی بات کو مسترد کر رہے تھے اور آپ کو اذیت پہنچا رہے تھے ، یہاں تک کہ دوپہر کا وقت ہو گیا تو لوگ آپ کے پاس سے ہٹ گئے اسی دوران ایک عورت آئی جس کا گلہ ظاہر ہو رہا تھا اس نے ایک پیالہ اور ایک رومال اُٹھایا ہوا تھا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی پیش کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا وضو کیا ، پھر آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا : اے میری بیٹی ! اپنے گلے کو ڈھانپ کے رکھو اور اپنے باپ کے حوالے سے اندیشہ کا شکار نہ ہو ، ہم نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ ان کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں