حدیث نمبر: 9826
وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدُّئَلِيِّ قَالَ : مَا أَسْمَعُكُمْ تَقُولُونَ : إِنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَنَالُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنِّي أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ ; أَنَّ مَنْزِلَهُ كَانَ بَيْنَ مَنْزِلِ أَبِي لَهَبٍ ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ، وَكَانَ يَنْقَلِبُ إِلَى بَيْتِهِ فَيَجِدُ الْأَرْحَامَ وَالدِّمَاءَ وَالْأَنْحَاتَ قَدْ نُصِبَتْ عَلَى بَابِهِ ، فَيُنَحِّي ذَلِكَ بِسِنَةِ قَوْسِهِ ، وَيَقُولُ : " بِئْسَ الْجِوَارُ هَذَا يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ الرَّافِقِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي تَأْيِيدِهِ عَلَى عَدُوِّهِ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ربیعہ بن عباد دئلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تم لوگ جو کہتے ہو وہ میں نے سنا ہے کہ قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچایا کرتے تھے میں نے زیادہ سے زیادہ جو چیز دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر ابولہب کے گھر اور عقبہ بن ابومعیط کے گھر کے درمیان میں تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر واپس آتے تھے ، تو آپ جانوروں کی بچہ دانیاں خون اور گندگی پاتے تھے کہ وہ آپ کے دروازے کے پاس رکھی گئی ہوتی تھیں ، تو آپ اپنی کمان کے کنارے کے ذریعے انہیں ایک طرف کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے : اے قریش کے گروہ ! یہ برا پڑوس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن علی بن حسین رافقی ہے اور وہ ضعیف ہے قریش کی عداوت کے بارے میں اس کی تائید میں چند روایات نبوت کی علامات سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9826
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف