مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَبْلِيغِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ باب: نبی اکرم ﷺ کو جس چیز کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم ﷺ کا اس کی تبلیغ کرنا اور اس حوالے سے صبر سے کام لینا
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قُلْتُ لَهُ : مَا أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا كَانَتْ تُظْهِرُ مِنْ عَدَاوَتِهِ ؟ . قَالَ : حَضَرْتُهُمْ ، وَقَدِ اجْتَمَعَ أَشْرَافُهُمْ يَوْمًا فِي الْحِجْرِ فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ قَطُّ ، سَفَّهَ أَحْلَامَنَا ، وَشَتَمَ آبَاءَنَا ، وَعَابَ دِينَنَا ، وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا ، وَسَبَّ آلِهَتَنَا ، لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْهُ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ . أَوْ كَمَا قَالُوا . ¤ قَالَ : فَبَيْنَمَا هُمْ فِي ذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ، ثُمَّ مَرَّ بِهِمْ طَائِفًا بِالْبَيْتِ ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمْ غَمَزُوهُ بِبَعْضِ مَا يَقُولُ قَالَ : فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ . ثُمَّ مَضَى ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمُ الثَّانِيَةَ غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا ، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ مَضَى ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمُ الثَّالِثَةَ ، فَغَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا فَقَالَ : " أَتَسْمَعُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ " . فَأَخَذَتِ الْقَوْمَ كَلِمَتُهُ ، حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا عَلَى رَأْسِهِ طَائِرٌ وَاقِعٌ ، حَتَّى إِنَّ أَشَدَّهُمْ فِيهِ وَصَاةً قَبْلَ ذَلِكَ ، لَيَرْفَؤُهُ بِأَحْسَنَ مَا يَجِدُ مِنَ الْقَوْلِ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ : انْصَرِفْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، انْصَرِفْ رَاشِدًا ، فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ جَهُولًا . فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ ، وَأَنَا مَعَهُمْ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : ذَكَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْكُمْ ، وَمَا بَلَغَكُمْ عَنْهُ ، حَتَّى إِذَا بَادَأَكُمْ بِمَا تَكْرَهُونَ تَرَكْتُمُوهُ ، فَبَيْنَمَا هُمْ فِي ذَلِكَ ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَثَبُوا إِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، فَأَطَافُوا بِهِ يَقُولُونَ : أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ كَذَا وَكَذَا ؟ لِمَا كَانَ يَبْلُغُهُمْ مِنْ عَيْبِ آلِهَتِهِمْ وَدِينِهِمْ قَالَ : فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ ، أَنَا الَّذِي أَقُولُ ذَلِكَ " . قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِهِ ، وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ دُونَهُ ، يَقُولُ : وَهُوَ يَبْكِي : أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنْهُ ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَأَشَدُّ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا بَلَغَتْ مِنْهُ قَطُّ . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقُ بِالسَّمَاعِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عروہ بن زبیر نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ میں نے ان سے کہا: قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو دشمنی کا رویہ رکھا تھا آپ نے جو دیکھا ہے اس میں سب سے زیادہ شدید کیا تھا ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ان لوگوں کے پاس موجود تھا ان کے معززین ایک دن حطیم میں موجود تھے ۔ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرنے لگے انہوں نے یہ کہا: میں اس نوجوان سے زیادہ اور کسی پر صبر نہیں کرنا پڑا اس نے ہمارے سمجھ دار لوگوں کو بے وقوف بنا لیا ہے ہمارے آبا ؤ اجداد کو برا کہتا ہے ہمارے دین پر اعتراض کرتا ہے ہماری اجتماعیت کو منتشر کر چکا ہے ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے ہم نے اس کے حوالے سے ایک بڑی چیز پر صبر سے کام لیا ہے یا جس طرح بھی انہوں نے کہا: ، ابھی وہ لوگ وہاں موجود تھے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے آپ چلتے ہوئے تشریف لائے آپ نے رکن کا استلام کیا پھر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان لوگوں کے پاس سے گزرے جب آپ ان لوگوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آوازیں کسیں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ناگواریت کا احساس ہوا پھر آپ تشریف لے گئے لیکن جب آپ دوسری مرتبہ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پھر اس طرح کیا مجھے آپ کے چہرے سے ناگواری کا اندازہ ہو گا لیکن آپ تشریف لے گئے جب آپ تیسری مرتبہ ان کے سامنے سے گزرے اور انہوں نے پھر ایسا ہی کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے قریش کے گروہ کیا تم لوگ یہ بات سنتے ہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے میں تمہارے پاس ذبح ہونے کا حکم لے کے آیا ہوں ( یعنی تم لوگ مار دیے جاؤ گے ) لوگوں نے آپ کی بات سنی تو یہ عالم ہوا کہ ہر شخص کے سر پر گویا پرندہ بیٹھا ہوا ہے ، یہاں تک کہ جو شخص پہلے آپ کے خلاف بڑھ چڑھ کر بول رہا تھا اس نے بھی اچھے طریقے سے آپ کے ساتھ بات چیت کی اور یہ کہا: کہ اے ابوالقاسم آپ تشریف لے جائیں آپ آرام سے تشریف لے جائیں ۔ اللہ کی قسم ! آپ تو اتنی سختی کا مظاہرہ کرنے والے نہیں تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، یہاں تک کہ جب اگلا دن آیا وہ لوگ حطیم میں اکٹھے ہوئے تو میں ان لوگوں کے ساتھ تھا ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تمہیں یاد ہے ، جو تمہاری طرف سے گیا اور جو ان کی طرف سے تم تک آیا ؟ یہاں تک کہ انہوں نے تمہارے سامنے وہ چیز ظاہر کی جو تمہیں ناپسند ہے ، تو تم نے انہیں چھوڑ دیا ابھی وہ اسی عالم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے تشریف لائے وہ اکٹھے اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے ، اور آپ کے ارد گرد ہو کر یہ کہنے لگے آپ نے ہی یہ یہ بات کہی ہے انہوں نے ان چیزوں کا ذکر کیا ہے ، جو ان کے معبودوں اور ان کے دین پر اعتراض کے حوالے سے ان تک پہنچی تھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں میں نے یہ بات کہی ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو پکڑ لیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے تھے ۔ وہ لڑتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کیا تم ایک ایسے شخص کے ساتھ جھگڑا کر رہے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چلے گئے قریش کی طرف سے یہ سب سے زیادہ سختی تھی جو میں نے دیکھی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔