مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَبْلِيغِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ باب: نبی اکرم ﷺ کو جس چیز کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم ﷺ کا اس کی تبلیغ کرنا اور اس حوالے سے صبر سے کام لینا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ ، وَأَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ ، وَشَيْبَةُ ، وَعُتْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ ، وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ ، وَرَجُلَانِ آخَرَانِ كَانُوا سَبْعَةً ، وَهُمْ فِي الْحِجْرِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي ، فَلَمَّا سَجَدَ أَطَالَ السُّجُودَ ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : أَيُّكُمْ يَأْتِي جَزُورَ بَنِي فُلَانٍ ، فَيَأْتِينَا بِفَرْثِهَا ، فَيُلْقِيهِ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْطَلَقَ أَشْقَاهُمْ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَأَتَى بِهِ ، فَأَلْقَاهُ عَلَى كَتِفَيْهِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدٌ لَمْ يَهْتَمَّ ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : وَأَنَا قَائِمٌ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَكَلَّمَ لَيْسَ عِنْدِي مِنْعَةٌ تَمْنَعُنِي ، فَأَنَا أَذْهَبُ إِذْ سَمِعَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَتْ حَتَّى أَلْقَتْ ذَلِكَ عَنْ عَاتِقِهِ ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْ قُرَيْشًا تَسُبُّهُمْ ، فَلَمْ يُرْجِعُوا إِلَيْهَا شَيْئًا ، وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ كَمَا كَانَ يَرْفَعُ عِنْدَ تَمَامِ السُّجُودِ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاتَهُ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ " ثَلَاثًا " عَلَيْكَ بِعُتْبَةَ ، وَعُقْبَةَ ، وَأَبِي جَهْلٍ ، وَشَيْبَةَ " . ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَلَقِيَهُ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ وَمَعَ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ سَوْطٌ يَتَخَصَّرُ بِهِ ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْكَرَ وَجْهَهُ ، فَقَالَ : مَا لَكَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَلِّ عَنِّي " . قَالَ : عَلِمَ اللَّهُ لَا أُخَلِّيَ عَنْكَ أَوْ تُخْبِرَنِي مَا شَأْنُكَ ، فَلَقَدْ أَصَابَكَ شَيْءٌ ؟ فَلَمَّا عَلِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ غَيْرُ مُخَلٍّ عَنْهُ ، أَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ أَبَا جَهْلٍ أَمَرَ فَطُرِحَ عَلَيَّ فَرْثٌ " . فَقَالَ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ : هَلُمَّ إِلَى الْمَسْجِدِ . فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو الْبَخْتَرِيِّ ، فَدَخَلَا الْمَسْجِدَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ إِلَى أَبِي جَهْلٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْحَكَمِ ، أَنْتَ الَّذِي أَمَرْتَ بِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَطُرِحَ عَلَيْهِ الْفَرْثُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَرَفَعَ السَّوْطَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَهُ قَالَ : فَثَارَ الرِّجَالُ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ قَالَ : وَصَاحَ أَبُو جَهْلٍ : وَيْحَكُمُ هِيَ لَهُ ، إِنَّمَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُلْقِيَ بَيْنَنَا الْعَدَاوَةَ ، وَيَنْجُوَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں موجود تھے ( یعنی خانہ کعبہ کے پاس موجود تھے ) وہاں ابوجہل بن ہشام ، شیبہ ، عتبہ یہ دونوں ربیعہ کے بیٹے ہیں ، عقبہ بن ابومعیط ، امیہ بن خلف اور دو افراد بھی موجود تھے یہ سات افراد تھے اور یہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے جب آپ سجدے میں گئے تو آپ نے طویل سجدہ کیا ابوجہل نے کہا: تم میں کون بنوں فلاں کے اونٹ کے پاس جائے گا ، اور اس کی اوجھ ہمارے پاس لے کے آئے گا ، اور اسے محمد پر ڈال دے گا ، تو ان میں سے سب سے زیادہ بد نصیب عقبہ بن ابومعیط چلا گیا اور اسے لے آیا اور وہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر ڈال دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے آپ اسے روک نہیں پائے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں اس وقت کھڑا ہوا تھا ، اور میں کوئی بات بھی نہیں کر سکتا تھا ، کیونکہ میرے پاس وہ حیثیت ہی نہیں تھی کہ میں کچھ کر پاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جب اس صورت حال کے بارے میں سنا تو وہ آئیں اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے سے ہٹایا پھر وہ قریش کی طرف رخ کر کے انہیں برا کہنے لگیں ان لوگوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کوئی جواب نہیں دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا جس طرح آپ سجدہ مکمل کرنے کے بعد سر اٹھاتے تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا : اے اللہ ! قریش کو اپنی گرفت میں لے ! عتبہ کو ابوجہل کو شیبہ کو اپنی گرفت میں لے ! پھر آپ مسجد سے تشریف لے گئے ابوبختری کی آپ سے ملاقات ہوئی ابوبختری کے پاس ایک چھڑی تھی جس کو وہ پہلو کے ساتھ لگاتا تھا ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے دیکھا کہ آپ کے چہرے کی حالت تبدیل ہے ، تو اس نے دریافت کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا راستہ چھوڑ دو اس نے کہا: اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ میں آپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک آپ مجھے بتاتے نہیں ہیں لگتا ہے آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہوئی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندازہ ہو گیا کہ وہ آپ کو یوں نہیں رہنے دے گا ، تو آپ نے اس کو صورت حال کے بارے میں بتا دیا آپ نے بتایا : ابوجہل نے یہ ہدایت کی تو میرے اوپر گندگی لا کے ڈال دی گئی ابوبختری نے کہا: چلیں مسجد کی طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور بختری تشریف لائے یہ دونوں مسجد میں داخل ہوئے ابوبختری ابوجہل کی طرف گیا اور بولا: اے ابوالحکم کیا تم وہ فرد ہو جس نے ( سیدنا ) محمد کے بارے میں یہ حکم دیا کہ ان پر گندگی ڈال دی جائے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، ابوبختری نے چھڑی اٹھا کر اس کے ذریعے ابوجہل کے سر پر ضرب لگائی لوگ ایک دوسرے سے بھڑنے لگے تو ابوجہل نے بلند آواز میں چیخ کر کہا: تمہارا ستیاناس ہو ! یہ ضرب چھوڑ دو محمد یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے درمیان دشمنی ڈال دیں تاکہ وہ اور اس کے ساتھی نجات پا جائیں ۔