مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَبْلِيغِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ باب: نبی اکرم ﷺ کو جس چیز کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم ﷺ کا اس کی تبلیغ کرنا اور اس حوالے سے صبر سے کام لینا
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : اجْتَمَعَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا ، فَقَالَ : انْظُرُوا أَعْلَمَكُمْ بِالسِّحْرِ ، وَالْكِهَانَةِ ، وَالشِّعْرِ ، فَلْيَأْتِ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدْ فَرَّقَ جَمَاعَتَنَا ، وَشَتَّتَ أَمْرَنَا وَعَابَ دِينَنَا ، فَلْيُكَلِّمْهُ وَلْيَنْظُرْ مَا يَرُدُّ عَلَيْهِ ، قَالُوا : مَا نَعْلَمُ أَحَدًا غَيْرَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالُوا : أَنْتَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ . فَأَتَاهُ عُتْبَةُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَنْتَ خَيْرٌ أَمْ عَبْدُ اللَّهِ ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أَنْتَ خَيْرٌ أَمْ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَإِنْ كُنْتَ تَزْعُمُ أَنَّ هَؤُلَاءِ خَيْرٌ مِنْكَ قَدْ عَبَدُوا الْآلِهَةَ الَّتِي عِبْتَ ، وَإِنْ كُنْتَ تَزْعُمُ أَنَّكَ خَيْرٌ مِنْهُمْ ، فَتَكَلَّمْ حَتَّى نَسْمَعَ قَوْلَكَ ، أَمَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا سَخْطَةً أَشْأَمَ عَلَى قَوْمِكَ مِنْكَ ، فَرَّقْتَ جَمَاعَتَنَا ، وَشَتَّتْتَ أَمْرَنَا ، وَعِبْتَ دِينَنَا ، وَفَضَحْتَنَا فِي الْعَرَبِ حَتَّى طَارَ فِيهِمْ : أَنَّ فِي قُرَيْشٍ سَاحِرًا ، وَأَنَّ فِي قُرَيْشٍ كَاهِنًا وَاللَّهِ ، مَا نَنْتَظِرُ إِلَّا مِثْلَ صَيْحَةِ الْحُبْلَى ، بِأَنْ يَقُومَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ بِالسُّيُوفِ ، حَتَّى نَتَفَانَى أَيُّهَا الرَّجُلُ ، إِنْ كَانَ إِنَّمَا بِكَ الْحَاجَةُ ، جَمَعْنَا لَكَ مِنْ أَمْوَالِنَا حَتَّى تَكُونَ أَغْنَى قُرَيْشٍ رَجُلًا ، وَإِنْ كَانَ إِنَّمَا بِكَ الْبَاءَةُ ، فَاخْتَرْ أَيَّ نِسَاءِ قُرَيْشٍ فَنُزَوِّجَكَ عَشْرًا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَفَرَغْتَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حم تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " حَتَّى بَلَغَ : " فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ " فَقَالَ عُتْبَةُ : حَسْبُكَ حَسْبُكَ ، مَا عِنْدَكَ غَيْرُ هَذَا ؟ قَالَ : " لَا " . فَرَجَعَ إِلَى قُرَيْشٍ ، فَقَالُوا : مَا وَرَاءَكَ ؟ فَقَالَ : مَا تَرَكْتُ شَيْئًا أَرَى أَنَّكُمْ تُكَلِّمُونَهُ بِهِ إِلَّا كَلَّمْتُهُ . قَالُوا : هَلْ أَجَابَكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : وَالَّذِي نَصَبَهَا بَنِيَّةً ، مَا فَهِمْتُ شَيْئًا مِمَّا قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ . قَالُوا : وَيْلَكَ ، يُكَلِّمُكَ رَجُلٌ بِالْعَرَبِيَّةِ فَلَا تَدْرِي مَا قَالَ ؟ ! قَالَ : لَا وَاللَّهِ ، مَا فَهِمْتُ شَيْئًا مِمَّا قَالَ غَيْرَ ذِكْرِ الصَّاعِقَةِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيِّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفُهُ النَّسَائِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک دن اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا: تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ جو شخص تم میں سے سب سے زیادہ جادو کہانت اور شاعری جانتا ہے وہ ان صاحب کے پاس آئے جنہوں نے ہماری جماعت کو منتشر کر دیا ہے ہمارے معاملے کو بکھیر دیا ہے اور ہمارے دین پر اعتراض کیا ہے اور وہ شخص ان کے ساتھ بات چیت کرے اور پھر اس بات کا جائزہ لے کہ وہ انہیں کیا جواب دیتے ہیں ؟ ان لوگوں نے کہا: ہمارے علم کے مطابق تو یہ خصوصیت عتبہ بن ربیعہ میں پائی جاتی ہے ان لوگوں نے کہا: اے ابوالید تم یہ کام کرو عتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اے محمد ! تم زیادہ بہتر ہو یا ( تمہارے والد ) عبداللہ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس نے دریافت کیا : تم زیادہ بہتر ہو یا جناب عبدالمطلب ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس نے کہا: اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ لوگ تم سے بہتر ہیں ، تو یہ انہی معبودوں کی عبادت کیا کرتے تھے جن پر تم اعتراض کرتے ہو ، اور اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تم ان سے بہتر ہو ، تو تم بات کرو تاکہ ہم تمہاری بات سنیں ۔ اللہ کی قسم ! ہم نے کبھی کسی ایسی ناراضگی کے بارے میں نہیں دیکھا جو اپنی قوم کے لئے اس سے زیادہ بری ہو جتنی تمہاری طرف سے تمہاری قوم کے لئے ہے تم نے ہماری اجتماعیت کو منتشر کر دیا ہے ہمارے معاملے کو بکھیر دیا ہے ہمارے دین پر اعتراض کیا ہے عربوں میں ہمیں رسوا کر دیا ہے ، یہاں تک کہ یہ چیز ان کے درمیان پھیل گئی ہے کہ قریش میں ایک جادوگر موجود ہے قریش میں ایک کاہن موجود ہے ۔ اللہ کی قسم ! ہم صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ حاملہ عورت کی طرح کی ایک چیخ آئے اور پھر ہم ایک دوسرے کے مقابلے میں تلواریں لے کر آ جائیں اور ایک دوسرے کو فنا کر دیں اے فرد اگر تمہاری کوئی خواہش ہے ، تو ہم اپنے اموال جمع کر دیتے ہیں ، یہاں تک کہ تم قریش کے سب سے زیادہ خوشحال فرد بن جاؤ گے اگر تم شادی کرنا چاہتے ہو ، تو قریش کی کوئی سی خواتین منتخب کر لو ہم دس عورتوں کے ساتھ تمہاری شادی کروا دیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : کیا تم فارغ ہو گئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت کیں : ” حم ! یہ بڑے مہربان نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے نازل کردہ ہے “ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اگر وہ منہ پھیر لیں ، تو تم فرما دو کہ میں تمہیں اس زبردست کڑک دار بجلی کی آواز ( کے عذاب ) سے ڈراتا ہوں جو عاد اور ثمود کے زبردست کڑک دار بجلی کی آواز ( کے عذاب ) کی مانند ہو گا “ ۔ تو عتبہ نے کہا: بس کافی ہے بس کافی ہے آپ کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی نہیں ! عتبہ قریش کے پاس واپس گیا انہوں نے دریافت کیا : کیا صورت حال ہے ؟ اس نے کہا: تم لوگ ان کے حوالے سے جو باتیں بھی ذکر کرتے تھے میں نے وہ ان کے ساتھ کیں انہوں نے دریافت کیا : انہوں نے پھر تمہیں کیا جواب دیا ؟ عتبہ نے جواب دیا : اس ذات کی قسم ! جی نے تعمیر کو نصب کیا ہے ( یعنی خانہ کعبہ بنایا ہے ) انہوں نے جو کچھ کہا: ہے مجھے اس میں سے کسی بات کی سمجھ نہیں آئی البتہ انہوں نے یہ کہا: تھا : ” میں تمہیں اس زبردست کڑک دار بجلی کی آواز ( کے عذاب ) سے ڈراتا ہوں جو عاد اور ثمود کے زبردست کڑک دار بجلی کی آواز ( کے عذاب ) کی مانند ہو گا “ انہوں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ایک شخص تمہارے ساتھ عربی میں بات چیت کر رہا تھا ، اور تمہیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کہہ رہا تھا ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے ان کی باتوں میں سے کوئی چیز سمجھ نہیں آئی ، صرف ” زبردست کڑک دار بجلی کی آواز “ کا تذکرہ سمجھ میں آیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح کندی جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔