کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اسلام کا اپنے مخالف ہر دین پر بلند ہونا اور اس پر غالب آنا
عَنْ زِيَادِ بْنِ جَهْوَرٍ قَالَ : وَرَدَ عَلَيَّ كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى زِيَادِ بْنِ جَهْوَرٍ سِلْمٌ أَنْتَ ، سَلَامٌ عَلَيْكَ ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، أَمَّا بَعْدُ : فَإِنِّي أُذَكِّرُكَ اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ . ¤ أَمَّا بَعْدُ : فَلْيُوضَعَنَّ كُلُّ دِينٍ دَانَ بِهِ النَّاسُ إِلَّا الْإِسْلَامَ ، فَاعْلَمْ ذَلِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زیاد بن جہور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک مکتوب آیا جس میں یہ تحریر تھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے ۔ یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زیاد بن جمہور کے نام ہے تم سلامت رہو تم پر سلامتی نازل ہو میں تمہارے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی معبود ہے ۔ اما بعد ! میں تمہیں اللہ اور آخرت کے دن کی یاد دلاتا ہوں ۔ اما بعد ! لوگوں نے جس بھی دین کو اختیار کیا ہوا ہے اسلام کے علاوہ ہر ایک دین اٹھا لیا گیا ہے تم یہ بات جان لو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9805
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (422) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (5297)»
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَظْهَرُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الرُّومِ ، وَيَظْهَرُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى فَارِسَ ، وَيَظْهَرُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى جَزِيرَةِ الْعَرَبِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مسلمان روم پر غالب آ جائیں گے مسلمان فارس پر غالب آ جائیں گے مسلمان جزیرہ عرب پر غالب آ جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9806
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1847)»
وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لِيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ ، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ يُعَزُّ عَزِيزٌ أَوْ يُذَلُّ ذَلِيلٌ ، عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الْإِسْلَامَ وَأَهْلَهُ ، وَذُلًّا يُذِلُّ اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ " . ¤ وَكَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ يَقُولُ : قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ فِي أَهْلِ بَيْتِيَ ، لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمُ الْخَيْرُ وَالشَّرَفُ وَالْعِزُّ ، وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ كَافِرًا الذُّلُّ وَالصَّغَارُ وَالْجِزْيَةُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ( کچے گھروں کی ) ہر بستی اور ( پکے گھروں کے ) ہر میں اس دین کو داخل کر دے گا ، عزت دار کو عزت نصیب ہو گی ذلیل کو ذلت ملے گی عزت وہ ہو گی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اسلام اور اہل اسلام کو عزت دے گا ، اور ذلت وہ ہو گی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو ذلیل کرے گا ۔ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے یہ بات اپنے اہل خانہ میں پا لی تھی جس نے اسلام قبول کیا تھا اسے بھلائی شرف اور عزت نصیب ہوئی اور جو ان میں سے کافر رہ گیا اسے ذلت کمتری اور جزیہ ملا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9807
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1280) اخرجه احمد فى المسند (103/4)»
وَعَنْ مِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ ، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ يُعَزُّ عَزِيزٌ أَوْ يُذَلُّ ذَلِيلٌ ، إِمَّا يُعِزُّهُمْ فَيَجْعَلُهُمْ مِنْ أَهْلِهِمْ ، أَوْ يُذِلُّهُمْ فَيَدِينُونَ لَهُمْ " . إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِمَّا يُعِزُّهُمْ فَيَهْدِيهِمْ إِلَى الْإِسْلَامِ ، أَوْ يُذِلُّهُمْ فَيُؤَدُّونَ الْجِزْيَةَ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” روئے زمین پر کوئی کچا یا پکا گھر ایسا نہیں رہے گا ، جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کے کلمے کو داخل نہ کر دے عزت دار کو عزت ملے گی ذلیل کو ذلت ملے گی جو لوگ اس کی عزت کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں اہل اسلام میں کر دے گا ، اور جو شخص اس کی تحقیر کریں گے وہ حقارت والے دین کو اختیار کریں گے ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو اس کی عزت کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں اسلام کی طرف رہنمائی فرمائے گا ، اور جو اس کی تحقیر کریں گے وہ جزیہ ادا کریں گے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9808
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (254/20) اخرجه احمد فى المسند (4/6)»