مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَبْلِيغِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ باب: نبی اکرم ﷺ کو جس چیز کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم ﷺ کا اس کی تبلیغ کرنا اور اس حوالے سے صبر سے کام لینا
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَقَدْ ضَرَبُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّةً حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهِ ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَجَعَلَ يُنَادِي : وَيْلَكُمُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ؟ ! فَقَالُوا : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : أَبُو بَكْرٍ الْمَجْنُونُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَزَادَ : فَتَرَكُوهُ ، وَأَقْبَلُوا عَلَى أَبِي بَكْرٍ . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا یہاں تک کہ آپ بے ہوش ہو گئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر بلند آواز میں یہ کہنے لگے تم لوگوں کا ستیاناس ہو کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے لوگوں نے کہا: یہ کون ہے ؟ دوسروں نے بتایا : یہ ابوبکر مجنون ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف آ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔