حدیث نمبر: 9834
وَفِي رِوَايَةٍ : وَالنَّاسُ مُنْقَصِفُونَ عَلَيْهِ ، فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا يَقُولُ شَيْئًا ، وَهُوَ لَا يَسْكُتُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَابْنُهُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَالْأَوْسَطُ بِاخْتِصَارٍ بِأَسَانِيدَ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ ثِقَاتُ الرِّجَالِ . وَتَأْتِي لَهُ طَرِيقٌ فِي عَرْضِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَفْسَهُ عَلَى الْقَبَائِلِ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : لوگ آپ کو آپ کے حال پر چھوڑ دیتے تھے ، میں نے کسی شخص کو کچھ کہتے ہوئے نہیں دیکھا اور آپ خاموش نہیں ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور ان کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ مختلف اسانید کے حوالے سے نقل کی ہے عبداللہ بن أحمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں اس روایت کا ایک طریق ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مختلف قبائل کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنے سے متعلق باب میں آئے گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9834
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (492/3)»