کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف لام الف سے شروع ہونے والی احادیث
«لا تركبوا الخز ولا النمار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ریشم ملی چادروں (خز) اور چیتے کی کھالوں پر سواری مت کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7283
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن معاوية. المشكاة ٤٣٥٧.
«لا تزال أمتي بخير ما عجلوا الإفطار.. ... »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت اس وقت تک بھلائی پر رہے گی جب تک وہ روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7284
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي ذر. الإرواء ٩١٧.
«لا تزال أمتي على الفطرة ما لم يؤخروا المغرب إلى اشتباك النجوم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت اس وقت تک فطرت پر قائم رہے گی جب تک وہ مغرب کی نماز کو ستاروں کے گنجان ہو جانے تک مؤخر نہیں کرے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7285
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ك] عن أبي أيوب وعقبة بن عامر ... [هـ] عن العباس. الإرواء ٩١٧، الروض النضير ٣٦٥، المشكاة ٦٠٩، صحيح أبي داود ٤٤٤.
«لا تزال جهنم يلقى فيها وتقول:» هل من مزيد حتى يضع فيها رب العزة قدمه فينزوي بعضها إلى بعض وتقول: قط قط وعزتك وكرمك ولا يزال في الجنة فضل حتى ينشئ الله لها خلقا آخر فيسكنهم في فضول الجنة "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جہنم میں لوگ ڈالے جاتے رہیں گے اور وہ کہتی رہے گی: کیا کچھ اور ہے؟ یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا قدم رکھ دے گا تو اس کے کچھ حصے سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی: بس، بس! تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم! اور جنت میں گنجائش باقی رہے گی یہاں تک کہ اللہ اس کے لیے ایک نئی مخلوق پیدا فرمائے گا اور انہیں جنت کی بچی ہوئی جگہ میں بسا دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7286
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت] عن أنس. السنة ٥٣١ - ٥٣٤.
«لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق حتى تقوم الساعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7287
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن عمر. الصحيحة ٢٧٠و ١٩٥٦: الطيالسي، الدارمي.
«لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين حتى يأتيهم أمر الله وهم ظاهرون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا یہاں تک کہ ان کے پاس اللہ کا حکم آ جائے اور وہ اسی حالت میں غالب ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7288
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن المغيرة. الصحيحة ١٩٥٥: حم.
«لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق لا يضرهم من خذلهم حتى يأتي أمر الله وهم كذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا، انہیں ان لوگوں کا کوئی نقصان نہیں پہنچے گا جو انہیں چھوڑ دیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے اور وہ اسی حالت میں ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7289
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ت هـ] عن ثوبان. مختصر مسلم ١٠٩٥، الصحيحة ١٩٥٧: حم، د، ك.
«لا تزال طائفة من أمتي قائمة بأمر الله لا يضرهم من خذلهم ولا من خالفهم حتى يأتي أمر الله وهم ظاهرون على الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گا، انہیں ان لوگوں کا کوئی نقصان نہیں پہنچے گا جو انہیں چھوڑ دیں یا ان کی مخالفت کریں، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے اور وہ لوگوں پر غالب ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7290
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن معاوية.
«لا تزال طائفة من أمتي قوامة على أمر الله لا يضرها من خالفها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والا انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7291
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٩٦٢.
" لا تزال طائفة من أمتي منصورين لا يضرهم خذلان من خذلهم حتى تقوم الساعة "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ مدد یافتہ رہے گا، انہیں چھوڑ دینے والوں کا چھوڑنا انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7292
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ حب] عن قرة بن أياس. المصدر نفسه.
«لا تزال طائفة من أمتي يقاتلون على الحق ظاهرين إلى يوم القيامة فينزل عيسى بن مريم فيقول أميرهم: تعال صل لنا فيقول: لا إن بعضكم على بعض أمير تكرمة الله لهذه الأمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کا ایک گروہ قیامت تک حق پر غالب ہو کر لڑتا رہے گا، پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے تو ان کا امیر کہے گا: آئیے، ہمیں نماز پڑھائیے۔ وہ کہیں گے: نہیں، تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں، یہ اللہ کی طرف سے اس امت کی عزت افزائی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7293
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن جابر. مختصر مسلم ٢٠٦١، الصحيحة ١٩٦٠: تخ.
«لا تزال طائفة من أمتي يقاتلون على الحق ظاهرين على من نأوأهم حتى يقاتل آخرهم المسيح الدجال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کا ایک گروہ حق پر لڑتا رہے گا اور اپنے مخالفین پر غالب رہے گا، یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ مسیح دجال سے لڑے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7294
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ك] عن عمران بن حصين. المشكاة ٣٨١٩، الصحيحة ١٩٥٩.
«لا تزال عصابة من أمتي يقاتلون على الحق لا يضرهم من خالفهم حتى تأتيهم الساعة وهم على ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کی ایک جماعت حق پر لڑتی رہے گی، مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے، یہاں تک کہ قیامت آ جائے اور وہ اسی حالت پر ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7295
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عقبة بن عامر. الصحيحة ١١٠٨.
«لا تزال عصابة من أمتي يقاتلون على أمر الله قاهرين لعدوهم لا يضرهم من خالفهم حتى تأتيهم الساعة وهم على ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کی ایک جماعت اللہ کے حکم پر لڑتی رہے گی اور اپنے دشمن پر غالب رہے گی، مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے، یہاں تک کہ قیامت آ جائے اور وہ اسی حالت پر ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7296
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عقبة بن عامر. مختصر مسلم ١٠٩٦، الصحيحة ١١٠٨: ك.
«لا تزكوا أنفسكم الله أعلم بأهل البر منكم سموها زينب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے آپ کو پاکیزہ (نیک) مت کہو، اللہ کو تم میں سے نیکوکار لوگوں کا خوب علم ہے، اس کا نام زینب رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7297
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د] عن زينب بنت أبي سلمة. مختصر مسلم ١٤٠٧، الصحيحة ٢١٠.
«لا تزوج المرأة المرأة ولا تزوج المرأة نفسها.. ... »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورت، عورت کا نکاح نہ کرے اور نہ ہی عورت خود اپنا نکاح کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7298
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الإرواء ١٨٤١.
" لا تزول قدما ابن آدم يوم القيامة من عند ربه حتى يسأل عن خمس: عن عمره فيم أفناه؟ وعن شبابه فيم أبلاه؟ وعن ماله من أين اكتسبه؟ وفيم أنفقه؟ وماذا عمل فيما علم؟ "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن ابن آدم کے قدم اپنے رب کے سامنے سے اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے اسے کس چیز میں فنا کیا؟ اس کی جوانی کے بارے میں کہ اس نے اسے کس چیز میں بوسیدہ کیا؟ اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے اسے کہاں سے کمایا؟ اور کہاں خرچ کیا؟ اور اس نے اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7299
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن ابن مسعود. الصحيحة ٩٤٦.
«لا تزول قدما عبد حتى يسأل عن أربع: عن عمره فيم أفناه وعن علمه ما فعل فيه وعن ماله من أين اكتسبه وفيم أنفقه وعن جسمه فيم أبلاه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے اسے کس چیز میں فنا کیا، اس کے علم کے بارے میں کہ اس نے اس پر کیا عمل کیا، اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اس نے اسے کس چیز میں بوسیدہ کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7300
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي برزة. اقتضاء العلم ١ - ٣، الصحيحة ٩٤٦.
«لا تسافر المرأة إلا مع ذي محرم ولا يدخل عليها رجل إلا ومعها محرم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے، اور کوئی مرد اس کے پاس اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک اس کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7301
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن ابن عباس. الإرواء ٩٩٥.
«لا تسافر المرأة بريدا إلا ومعها محرم يحرم عليها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورت ایک بَرید کی مسافت کا سفر بھی اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے ساتھ کوئی ایسا محرم نہ ہو جس سے اس کا نکاح حرام ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7302
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٤٢١: ابن خزيمة، ابن عساكر.
«لا تسافر المرأة ثلاثة أيام إلا مع ذي محرم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورت تین دن کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7303
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د] عن ابن عمر.
«لا تسافر المرأة مسيرة يومين إلا ومعها زوجها أو ذو محرم منها ولا صوم في يومين: الفطر والأضحى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورت دو دن کی مسافت کا سفر اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے ساتھ اس کا خاوند یا اس کا کوئی محرم نہ ہو، اور دو دنوں میں روزہ نہیں: عید الفطر اور عید الاضحیٰ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7304
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي سعيد.
«لا تسافروا بالقرآن فإني لا آمن أن يناله العدو»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن کو ساتھ لے کر سفر مت کرو کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ دشمن اسے حاصل کر لے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7305
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن عمر. الإرواء ٢٥٥٨، ١٣٠٠.
«لا تسأل المرأة طلاق أختها لتستفرغ صحفتها ولتنكح فإن لها ما قدر لها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورت اپنی (دینی) بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کا پیالہ خالی کر کے خود نکاح کر لے، کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کے مقدر میں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7306
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ د] عن أبي هريرة.
" لا تسأل الناس شيئا ولا سوطك وإن سقط منك حتى تنزل إليه فتأخذه"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں سے کچھ نہ مانگو، حتیٰ کہ اپنا کوڑا بھی نہیں، اگرچہ وہ تم سے گر جائے، یہاں تک کہ تم خود اتر کر اسے اٹھا لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7307
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي ذر. المشكاة ١٨٥٨، صحيح الترغيب ٨٠٤.
«لا تسألوني عن شيء إلى يوم القيامة إلا حدثتكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھ سے قیامت کے دن تک جس چیز کے بارے میں بھی پوچھو گے میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7308
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أنس.
«لا تسبن أحدا ولا تحقرن من المعروف شيئا ولو أن تكلم أخاك وأنت منبسط إليه وجهك إن ذلك من المعروف وارفع إزارك إلى نصف الساق فإن أبيت فإلى الكعبين وإياك وإسبال الإزار فإنه من المخيلة وإن الله لا يحب المخيلة وإن امرؤ شتمك وعيرك بما يعلم فيك فلا تعيره بما تعلم فيه فإنما وبال ذلك عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی کو گالی مت دو، اور کسی نیکی کو حقیر مت جانو خواہ وہ اپنے بھائی سے کھلے چہرے کے ساتھ بات کرنا ہی ہو، بے شک یہ بھی نیکی میں سے ہے۔ اور اپنا تہبند نصف پنڈلی تک اونچا رکھو، اگر یہ گوارا نہ ہو تو ٹخنوں تک، اور تہبند لٹکانے سے بچو کیونکہ یہ تکبر میں سے ہے اور اللہ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔ اور اگر کوئی آدمی تمہیں گالی دے اور تمہارے کسی ایسے عیب کا طعنہ دے جو وہ تمہارے بارے میں جانتا ہے تو تم اسے اس کے کسی ایسے عیب کا طعنہ مت دو جو تم اس کے بارے میں جانتے ہو، کیونکہ اس کا وبال اسی پر ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7309
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن جابر بن سليم. الصحيحة ١١٠٩و ١٣٥٢.
«لا تسبوا أصحابي فوالذي نفسي بيده لوأن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے صحابہ کو گالی مت دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان کے ایک مد بلکہ اس کے آدھے کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7310
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ت] عن أبي سعيد [م هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٧٤٦، السنة ٩٨٨: الطيالسي، ابن أبي عاصم - أبي سعيد.
«لا تسبوا الأموات فإنهم قد أفضوا إلى ما قدموا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مُردوں کو گالی مت دو کیونکہ وہ اپنے اعمال تک پہنچ چکے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7311
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن] عن عائشة. الروض النضير ١/٤٣٧، الصحيحة ٢٣٩٧.
«لا تسبوا الأموات فتؤذوا الأحياء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مُردوں کو گالی مت دو کیونکہ اس سے تم زندوں کو تکلیف پہنچاؤ گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7312
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الروض ٣٥٧، الصحيحة ٢٣٧٩: حب، الترغيب ٤/١٧٥.
«لا تسبوا الدهر فإن الله هو الدهر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”زمانے کو گالی مت دو کیونکہ اللہ ہی زمانہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7313
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٨١٤.
«لا تسبوا الديك فإنه يوقظ للصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مرغ کو گالی مت دو کیونکہ وہ نماز کے لیے جگاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7314
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن زيد بن خالد. المشكاة ٤١٣٦.
«لا تسبوا الريح فإذا رأيتم ما تكرهون فقولوا: اللهم إنا نسألك من خير هذا الريح وخير ما فيها وخير ما أمرت به ونعوذ بك من شر هذا الريح وشر ما فيها وشر ما أمرت به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہوا کو گالی مت دو، اور جب تم اس میں سے کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو تو یوں کہو: اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بھلائی، اس میں موجود بھلائی اور جس بھلائی کا اسے حکم دیا گیا ہے اس کا سوال کرتے ہیں، اور ہم اس ہوا کے شر، اس میں موجود شر اور جس شر کا اسے حکم دیا گیا ہے اس سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7315
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي. المشكاة ١٥١٨: حم، خد، الطحاوي.
«لا تسبوا الريح فإنها من روح الله تعالى تأتي بالرحمة والعذاب ولكن سلوا الله من خيرها وتعوذوا بالله من شرها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہوا کو گالی مت دو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں سے ہے، وہ رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی، لیکن تم اللہ سے اس کی بھلائی مانگو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7316
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن أبي هريرة. الكلم الطيب ١٥٣، المشكاة ١٥١٦.
«لا تسبوا الريح فإنها من روح الله وسلوا الله خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وتعوذوا بالله من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہوا کو گالی مت دو کیونکہ وہ اللہ کی رحمت میں سے ہے، تم اللہ سے اس کی بھلائی، اس میں موجود بھلائی اور جس بھلائی کے ساتھ وہ بھیجی گئی ہے اس کا سوال کرو، اور اس کے شر، اس میں موجود شر اور جس شر کے ساتھ وہ بھیجی گئی ہے اس سے اللہ کی پناہ مانگو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7317
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن ك] عن أبي. المشكاة ١٥١٨.
«لا تسبوا الشيطان وتعوذوا بالله من شره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شیطان کو گالی مت دو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7318
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [المخلص] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٤٢٢: تمام، الديلمي.
«لا تسبوا تبعا فإنه كان قد أسلم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تُبّع کو گالی مت دو کیونکہ وہ مسلمان ہو چکا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7319
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن سهل بن سعد. الصحيحة ٢٤٢٣: طس، الروياني، ابن عساكر. أبو بكر بن خلاد، طب، طس، خط، ابن عساكر - ابن عباس. ابن عساكر - وهب بن منبه مرسلا.
«لا تسبوا ورقة بن نوفل فإني قد رأيت له جنة أو جنتين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ورقہ بن نوفل کو گالی مت دو کیونکہ میں نے اس کے لیے ایک یا دو جنتیں دیکھی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7320
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن عائشة. الصحيحة ٤٠٥.
«لا تسبي الحمى فإنها تذهب خطايا بني آدم كما يذهب الكير خبث الحديد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بخار کو گالی مت دو کیونکہ وہ بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو دور کر دیتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7321
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن جابر. مختصر مسلم ١٤٦٩، الصحيحة ١٢١٥: خد، ابن سعد.
"لا تسبي الحمى فإنها تنفي الذنوب كما تنفي النار خبث الحديد"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بخار کو گالی مت دو کیونکہ وہ گناہوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے آگ لوہے کے میل کو دور کر دیتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7322
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٢١٥.