کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف لام الف سے شروع ہونے والی احادیث
«لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا بإحدى ثلاث: الثيب الزاني والنفس بالنفس والتارك لدينه المفارق للجماعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس مسلمان کا خون حلال نہیں جو گواہی دے کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) اور میں اللہ کا رسول ہوں، سوائے تین وجوہات میں سے کسی ایک کے: شادی شدہ زانی، جان کے بدلے جان، اور اپنا دین چھوڑ کر جماعت سے الگ ہو جانے والا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7643
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الإرواء ٢١٩٦، السنة ٦٠: ابن أبي عاصم.
" لا يحل سلف وبيع ولا شرطان في بيع، ولا ربح ما لم يضمن ولا بيع ما ليس عندك"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرض اور بیع کو ایک ساتھ ملانا جائز نہیں، اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں لگانا، اور نہ ہی اس چیز کا نفع لینا جو تمہاری ضمانت میں نہ ہو، اور نہ ہی وہ چیز فروخت کرنا جو تمہارے پاس نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7644
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث المشكاة ٢٨٧٠، الإرواء ١٣٠٦، أحاديث البيوع.
«لا يحل لأحدكم أن يحمل بمكة السلاح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کسی کے لیے مکہ میں ہتھیار اٹھانا جائز نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7645
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن جابر. مختصر مسلم ٧٦٧.
«لا يحل لامرأة أن تسافر إلا ومعها ذو محرم منها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورت کے لیے سفر کرنا جائز نہیں سوائے اس کے کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7646
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة.
«لا يحل لامرأة أن تصوم وزوجها شاهد إلا بإذنه أو تأذن في بيته إلا بإذنه وما أنفقت من نفقة من غير أمره فإنه يؤدي إليه شطره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورت کے لیے اپنے خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھنا جائز نہیں، اور نہ ہی اس کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر کسی کو داخل ہونے کی اجازت دینا جائز ہے، اور وہ اس کے حکم کے بغیر جو کچھ خرچ کرے گی اس کا نصف اجر اسے ادا کیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7647
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الإرواء ٢٠٠٤، صحيح الترغيب ٩٣١: حم، د٢.
«لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث ليال إلا زوج فإنها تحد عليه أربعة أشهر وعشرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو عورت اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ منائے، سوائے خاوند کے، کہ اس پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7648
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٣] عن أم حبيبة وزينب بنت جحش [حم م ت هـ] عن حفصة وعائشة [ن] عن أم سلمة. الإرواء ٢٠١٤، أحكام الجنائز ص ٢٤.
«لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد فوق ثلاث إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا فإنها لا تكتحل ولا تلبس ثوبا مصبوغا إلا ثوب عصب ولا تمس طيبا إلا إذا طهرت من محيضها نبذة من قسط أظفار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو عورت اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ سوگ منائے، سوائے خاوند کے کہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ منائے، اس دوران وہ نہ سرمہ لگائے، نہ رنگے ہوئے کپڑے پہنے سوائے دھاری دار کپڑے کے، اور نہ خوشبو لگائے، سوائے اس کے کہ جب وہ حیض سے پاک ہو تو تھوڑا سا قسط یا اظفار استعمال کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7649
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن هـ] عن أم عطية. الإرواء ٢٠١٤.
«لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر سفرا يكون ثلاثة أيام فصاعدا إلا ومعها أبوها أو ابنها أو زوجها أو أخوها أو ذومحرم منها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو عورت اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر کرے سوائے اس کے کہ اس کے ساتھ اس کا باپ، بیٹا، خاوند، بھائی یا کوئی محرم ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7650
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ت هـ] عن أبي سعيد. مختصر مسلم ٦٤٥.
«لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر مسيرة ثلاث إلا ومعها ذو محرم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو عورت اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین دن کی مسافت کا سفر کرے سوائے اس کے کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7651
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن عمر.
«لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر مسيرة يوم إلا مع ذي محرم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو عورت اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایک دن کی مسافت کا سفر کرے سوائے کسی محرم کے ساتھ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7652
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٦٤٦، الإرواء ٥٦٧: خ.
«لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر مسيرة يوم وليلة إلا مع ذي محرم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو عورت اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایک دن رات کی مسافت کا سفر کرے سوائے کسی محرم کے ساتھ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7653
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ت] عن أبي هريرة. المصدر نفسه.
«لا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسقي ماءه زرع غيره ولا أن يبتاع مغنما حتى يقسم ولا أن يلبس ثوبا من فيء المسلمين حتى إذا أخلقه رده فيه ولا يركب دابة من فيء المسلمين حتى إذا أعجفها ردها فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو آدمی اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے پانی سے کسی دوسرے کی کھیتی سیراب کرے، اور نہ ہی مالِ غنیمت تقسیم ہونے سے پہلے اسے خرید لے، اور نہ ہی مسلمانوں کے مالِ فَے سے کوئی کپڑا اس طرح پہنے کہ جب وہ بوسیدہ ہو جائے تو اسے واپس کر دے، اور نہ ہی مسلمانوں کے مالِ فَے سے کوئی جانور اس طرح سواری میں لائے کہ جب وہ دبلا ہو جائے تو اسے واپس کر دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7654
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث الإرواء ١٨٧، ٢١٣٧.
«لا يحل لرجل أن يعطي عطية أو يهب هبة فيرجع فيها إلا الوالد فيما يعطي ولده ومثل الذي يعطي العطية ثم يرجع فيها كمثل الكلب يأكل فإذا شبع قاء ثم عاد في قيئه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کوئی تحفہ یا ہبہ دے کر اسے واپس لے لے، سوائے باپ کے جو اپنی اولاد کو دے، اور جو شخص تحفہ دے کر اسے واپس لے لیتا ہے اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا ہے، جب سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے، پھر اپنی قے چاٹنے لگتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7655
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٤ ك] عن ابن عمر وابن عباس. الضعيفة ١/٣٦٣، المشكاة ٣٠٢١، الإرواء ١٦٢٢.
«لا يحل لرجل أن يفرق بين اثنين إلا بإذنهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر تفریق ڈالے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7656
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت] عن ابن عمرو. المشكاة ٤٧٠٣.
«لا يحل لمؤمن أن يهجر أخاه فوق ثلاثة أيام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی رکھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7657
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن عمر. الإرواء ٢٠٢٩.
«لا يحل لمسلم أن يروع مسلما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7658
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن رجال. غاية المرام ٤٤٧.
«لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث فمن هجر فوق ثلاث فمات دخل النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی رکھے، جو تین دن سے زیادہ قطع تعلقی رکھے اور اسی حالت میں مر جائے وہ جہنم میں داخل ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7659
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة. الإرواء ٢٠٢٩، المشكاة ٥٠٣٥.
«لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال يلتقيان فيصد هذا ويصد هذا وخيرهما الذي يبدأ بالسلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلقی رکھے، دونوں ملیں تو یہ منہ پھیر لے اور وہ منہ پھیر لے، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7660
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ت] عن أبي أيوب. الإرواء ٢٠٢٩.
«لا يحل لي من غنائمكم مثل هذا إلا الخمس والخمس مردود فيكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے تمہارے مالِ غنیمت میں سے اس جیسی معمولی چیز بھی حلال نہیں سوائے خمس کے، اور خمس بھی تمہاری طرف ہی لوٹا دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7661
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن عمرو بن عبسة. الإرواء ١٢٤٠.
«لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی مسلمان کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر حلال نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7662
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن حنيفة٢ الرقاشي. المشكاة ٢٩٤٦، الإرواء ١٤٥٩.
«لا يختلجن في صدرك شيء ضارعت فيه النصرانية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارے دل میں کوئی ایسی بات نہ کھٹکے جس میں تم نے نصرانیت سے مشابہت اختیار کی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7663
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د ت] عن هلب. حجاب المرأة ص ٩٢.
«لا يخطب أحدكم على خطبة أخيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام نہ بھیجے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7664
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هـ] عن أبي هريرة وابن عمر. الإرواء ١٨١٧، الصحيحة ١٠٣٠.
«لا يخطب أحدكم على خطبة أخيه حتى ينكح أو يترك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام نہ بھیجے یہاں تک کہ وہ نکاح کر لے یا چھوڑ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7665
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أبي هريرة. الإرواء ١٨١٧، الصحيحة ١٠٣٠.
«لا يخطب الرجل على خطبة أخيه ولا يسوم على سوم أخيه ولا تنكح المرأة على عمتها ولا على خالتها ولا تسأل المرأة طلاق أختها لتكفأ صحفتها ولتنكح فإنما لها ما كتب الله لها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام نہ بھیجے، اور نہ ہی اپنے بھائی کی بولی پر بولی لگائے، اور کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے، اور عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کا پیالہ خالی کر کے خود نکاح کر لے، کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اللہ نے اس کے لیے مقدر کیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7666
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة.
«لا يدخل أحدا منكم عمله الجنة ولا يجير من النار ولا أنا إلا برحمة الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کسی کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا اور نہ ہی اسے جہنم سے بچائے گا، اور نہ ہی مجھے، سوائے اللہ کی رحمت کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7667
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن جابر.
«لا يدخل الجنة أحد إلا أري مقعده من النار لوأساء ليزداد شكرا ولا يدخل النار أحد إلا أري مقعده من الجنة لو أحسن ليكون عليه حسرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت میں کوئی شخص داخل نہیں ہو گا مگر اسے جہنم میں اس کا وہ ٹھکانہ دکھایا جائے گا جو اسے ملتا اگر وہ برائی کرتا، تاکہ اس کا شکر بڑھ جائے، اور جہنم میں کوئی شخص داخل نہیں ہو گا مگر اسے جنت میں اس کا وہ ٹھکانہ دکھایا جائے گا جو اسے ملتا اگر وہ نیکی کرتا، تاکہ یہ اس کے لیے حسرت بن جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7668
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة.
«لا يدخل الجنة الجواظ ولا الجعظري»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جواظ (سخت مزاج بخیل) اور جعظری (تکبر سے اکڑ کر چلنے والا) جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7669
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن حارثة بن وهب. المشكاة ٥٠٨٠.
«لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة ولا يطوف بالبيت عريان ولا يجتمع المسلمون والمشركون في المسجد الحرام بعد عامهم هذا ومن كان بينه وبين النبي عهد فعهده إلى مدته ومن لم يكن له عهد فأجله أربعة أشهر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت میں صرف مسلمان جان ہی داخل ہو گی، اور کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگا ہو کر نہیں کرے گا، اور اس سال کے بعد مسلمان اور مشرکین مسجد حرام میں اکٹھے نہیں ہوں گے، اور جس کا نبی ﷺ کے ساتھ کوئی عہد ہے تو اس کا عہد اس کی مدت تک قائم رہے گا، اور جس کا کوئی عہد نہیں اس کی مہلت چار مہینے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7670
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ك] عن علي. الإرواء ١١٠١.
«لا يدخل الجنة قاطع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”رشتہ توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7671
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ت] عن جبير بن مطعم. مختصر مسلم ١٧٦٥، غاية المرام ٤٠٣.
«لا يدخل الجنة قتات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7672
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٣] عن حذيفة. مختصر مسلم ١٨٠٨، الصحيحة ١٠٣٤.
«لا يدخل الجنة مدمن خمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شراب کا عادی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7673
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي الدرداء. الصحيحة ٦٧٢، ٦٧٥، ٦٧٨.
«لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر قيل: إن الرجل يحب أن يكون ثوبه حسنا ونعله حسنة قال: إن الله جميل يحب الجمال الكبر بطر الحق وغمط الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ عرض کیا گیا: آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے، تکبر تو حق کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7674
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث مختصر مسلم ٥٤، إصلاح المساجد ١١٥: حم، د، ت، ابن خزيمة، ابن سعد. طب - عن عبد الله بن سلام.
«لا يدخل الجنة من لا يأمن جاره بوائقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7675
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٣٣، الصحيحة ٥٤٩: حب، ك - أنس.
«لا يدخل الجنة منان ولا عاق ولا مدمن خمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”احسان جتانے والا، والدین کا نافرمان اور شراب کا عادی جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7676
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن ابن عمرو. الصحيحة ٦٧٠.
«لا يدخل المدينة المسيح والطاعون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسیح دجال اور طاعون مدینہ میں داخل نہیں ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7677
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٤٥٧.
«لا يدخل المدينة رعب المسيح الدجال لها يومئذ سبعة أبواب على كل باب ملكان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسیح دجال کا خوف مدینہ میں داخل نہیں ہو گا، اس دن مدینہ کے سات دروازے ہوں گے، ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7678
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي بكرة. المصدر نفسه.
«لا يدخل النار أحد في قلبه مثقال حبة خردل من إيمان ولا يدخل الجنة أحد في قلبه مثقال حبة خردل من كبرياء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا، اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7679
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د ت هـ] عن ابن مسعود. إصلاح المساجد ١١٥.
«لا يدخل النار أحد ممن بايع تحت الشجرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی جہنم میں داخل نہیں ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7680
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت] عن جابر [م] عن أم مبشر. مختصر مسلم ١٧١٩، الصحيحة ٢١٦٠، السنة ٨٦٠: حم، ابن أبي عاصم، ابن سعد - أم.
«لا يدخلن رجل بعد يومي هذا على مغيبة إلا ومعه رجل أو اثنان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے آج کے دن کے بعد کوئی آدمی کسی ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا خاوند موجود نہ ہو مگر اس کے ساتھ ایک یا دو اور آدمی ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7681
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن ابن عمر. مختصر مسلم ١٤٤٠.
«لا يذبحن أحدكم حتى يصلي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کوئی نماز (عید) پڑھنے سے پہلے قربانی نہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7682
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن البراء. م ٦/٧٥.