کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف میم سے شروع ہونے والی احادیث
"من قال إذا أصبح: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير كان له عدل رقبة من ولد إسماعيل وكتبت له بها عشر حسنات وحط عنه بها عشر سيئات ورفع له بها عشر درجات وكان في حرز من الشيطان حتى يمسي وإذا قالها إذا أمسى كان له مثل ذلك حتى يصبح"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے صبح کے وقت یہ کہا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے، تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے)، تو یہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، دس گناہ مٹا دیے جاتے ہیں، دس درجے بلند کیے جاتے ہیں اور وہ شام تک شیطان سے محفوظ رہتا ہے، اور اگر وہ شام کے وقت یہ کہے تو صبح تک اسے یہی حاصل ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6418
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ] عن أبي عياش الزرقي.
«من قال إذا خرج من بيته: بسم الله توكلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله يقال له: كفيت ووقيت وتنحى عنه الشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنے گھر سے نکلتے وقت کہے: «بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (اللہ کے نام سے، میں نے اللہ پر بھروسا کیا، اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی برائی سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت)، تو اسے کہا جاتا ہے: تجھے کفایت کر دی گئی اور تجھے بچا لیا گیا، اور شیطان اس سے دور ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6419
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الترغيب ٢/٢٦٤، المشكاة ٢٤٤٣: د، حب، ابن السني.
«من قال أنا خير من يونس بن متى فقد كذب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے کہا کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اس نے جھوٹ بولا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6420
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ت هـ] عن أبي هريرة.
«من قال إني بريء من الإسلام فإن كان كاذبا فهو كما قال وإن كان صادقا لم يعد إلى الإسلام سالما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے کہا کہ میں اسلام سے بری ہوں تو اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ سچا ہے تو وہ سلامتی کے ساتھ اسلام کی طرف واپس نہیں لوٹے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6421
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هـ ك] عن بريدة. الإرواء ٢٥٧٦.
«من قال حين يسمع المؤذن: وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا غفر الله له ما تقدم من ذنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو مؤذن کی اذان سن کر کہے: «وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا» (اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، محمد ﷺ کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں)، تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6422
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ٤] عن سعد. مختصر مسلم ٢٠٠، صحيح أبي داود ٥٣٦.
«من قال حين يسمع النداء: اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته حلت له شفاعتي يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اذان سن کر یہ دعا پڑھے: اے اللہ! اس مکمل پکار اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں اس مقامِ محمود پر فائز فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے، تو قیامت کے دن اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6423
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ٤] عن جابر. صحيح أبي داود ٥٤٠، فقه السيرة ٤١٨، الإرواء ٢٤٣، السنة ٨٢٦: ابن أبي عاصم.
«من قال حين يصبح أو حين يمسي: اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء لك بنعمتك علي وأبوء بذنبي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت فمات من يومه أو ليلته دخل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو صبح یا شام کے وقت یہ دعا پڑھے: اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں، اور جہاں تک ہو سکے میں تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں، میں اپنے کیے کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیری نعمت کا اعتراف کرتا ہوں جو تو نے مجھ پر کی اور اپنے گناہ کا بھی اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخش سکتا، پھر وہ اسی دن یا اسی رات مر جائے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6424
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن هـ حب ك] عن بريدة. الصحيحة ١٧٤٧.
«من قال حين يصبح وحين يمسي: سبحان الله العظيم وبحمده مائة مرة لم يأت أحد يوم القيامة بأفضل مما جاء به إلا أحد قال مثل ذلك وزاد عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو صبح و شام سو بار «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» (پاک ہے اللہ جو عظمت والا ہے، اپنی تعریف کے ساتھ) کہے تو قیامت کے دن کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہیں آئے گا سوائے اس کے جس نے اتنا ہی کہا ہو یا اس سے زیادہ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6425
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث مختصر مسلم ١٩٠٣، صحيح الترغيب ٦٥٠.
«من قال حين يمسي: بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم ثلاث مرات لم يصبه فجأة بلاء حتى يصبح ومن قالها حين يصبح ثلاث مرات لم يصبه فجأة بلاء حتى يمسي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شام کے وقت تین بار کہے: اللہ کے نام سے جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ سننے والا جاننے والا ہے، تو اسے صبح تک کوئی اچانک مصیبت نہیں پہنچے گی، اور جو صبح کے وقت تین بار یہ کہے اسے شام تک کوئی اچانک مصیبت نہیں پہنچے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6426
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د حب ك] عن عثمان. صحيح الترغيب ٦٥٢.
«من قال حين يمسي ثلاث مرات: أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم يضره لدغة حية في تلك الليلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شام کے وقت تین بار کہے: میں اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ لیتا ہوں اس کی مخلوق کے شر سے، تو اس رات اسے سانپ کا کاٹنا نقصان نہیں پہنچائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6427
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت حب ك] عن أبي هريرة. صحيح الترغيب ٧٤٩.
«من قال رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا وجبت له الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے کہا: میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوں، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6428
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د حب ك] عن أبي سعيد. الصحيحة ٣٣٤.
«من قال: سبحان الله العظيم وبحمده غرست له بها نخلة في الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے کہا: «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» (عظمت والا اللہ اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے)، اس کے لیے اس کے بدلے جنت میں ایک کھجور کا درخت لگا دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6429
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت حب ك] عن جابر. الروض النضير ٢٤٣، الصحيحة ٦٤.
«من قال: سبحان الله وبحمده سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك فإن قالها في مجلس ذكر كانت كالطابع يطبع عليه ومن قالها في مجلس لغوكانت كفارة له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے کہا: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» (اللہ پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ، اے اللہ! تو پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں)، تو اگر وہ اسے ذکر کی مجلس میں کہے تو یہ گویا اس پر مہر لگا دی جاتی ہے، اور اگر وہ اسے لغو باتوں کی مجلس میں کہے تو یہ اس کے لیے کفارہ بن جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6430
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن ك] عن جبير بن مطعم. الصحيحة ٨١.
«من قال: سبحان الله وبحمده في يوم مائة مرة حطت خطاياه وإن كانت مثل زبد البحر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے دن میں سو بار «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» (اللہ پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ) کہا اس کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں خواہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6431
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٩٠٨.
«من قال لصاحبه يوم الجمعة والإمام يخطب: أنصت فقد لغا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو جمعہ کے دن، جب امام خطبہ دے رہا ہو، اپنے ساتھی سے کہے: خاموش ہو جاؤ، تو اس نے لغو کام کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6432
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث صحيح أبي داود ١٠١٨، الإرواء ٦١٩: حم، ق١.
«من قال: لا إله إلا الله مخلصا دخل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے خلوص دل سے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) کہا وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6433
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن أبي سعيد. الصحيحة ٢٣٥٥: حم، حب، حل - جابر. حل - أنس.
«من قال: لا إله إلا الله نفعته يوما من دهره يصيبه قبل ذلك ما أصابه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) کہا وہ کلمہ اسے اس کی زندگی میں کسی نہ کسی دن ضرور فائدہ دے گا خواہ اس سے پہلے اسے کچھ بھی پیش آئے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6434
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار هب] عن أبي هريرة. الروض النضير ١١٤٥، الترغيب ٢/٢٣٨، الصحيحة ١٩٣٢: ابن الأعرابي، طص، حل، الخطيب.
"من قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير عشرا كان كمن أعتق رقبة من ولد إسماعيل "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے دس بار کہا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے، تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے)، تو وہ ایسا ہے جیسے اس نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6435
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ت ن] عن أبي أيوب ولفظ [ت] :١ كانت له عدل أربع رقاب من ولد إسماعيل" .
«من قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد،.... وهو على كل شيء قدير عشر مرات كان له بعدل نسمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے دس بار کہا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ»… «وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے، تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے)، تو اس کے لیے یہ ایک جان (غلام) آزاد کرنے کے برابر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6436
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن حب ك] عن البراء. الترغيب ٢/٢٤١.
«من قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير في يوم مائة مرة كانت له عدل عشر رقاب وكتبت له مائة حسنة ومحيت عنه مائة سيئة وكانت له حرزا من الشيطان يومه ذلك حتى يمسي ولم يأت أحد بأفضل مما جاء به إلا أحد عمل عملا أكثر من ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے دن میں سو بار کہا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے، تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے)، تو یہ اس کے لیے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہے، اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اس کے سو گناہ مٹا دیے جاتے ہیں اور یہ اس دن شام تک اس کے لیے شیطان سے حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے، اور اس سے بہتر عمل کوئی نہیں لا سکتا سوائے اس کے جس نے اس سے زیادہ عمل کیا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6437
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٩٠٨.
«من قال: لا إله إلا الله وكفر بما يعبد من دون الله حرم ماله ودمه وحسابه على الله عز وجل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) کہا اور اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے ان کا انکار کیا تو اس کا مال اور خون حرام (محفوظ) ہو گیا اور اس کا حساب اللہ عزوجل کے ذمے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6438
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن والد أبي مالك الأشجعي.
«من قام بعشر آيات لم يكتب من الغافلين ومن قام بمائة آية كتب من القانتين ومن قام بألف آية كتب من المقنطرين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے رات کے قیام میں دس آیتیں پڑھیں وہ غافلوں میں نہیں لکھا جاتا، جس نے سو آیتیں پڑھیں وہ فرمانبرداروں میں لکھا جاتا ہے، اور جس نے ہزار آیتیں پڑھیں وہ ڈھیروں اجر پانے والوں میں لکھا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6439
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د حب] عن ابن عمرو. الصحيحة ٦٤٢.
«من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے رمضان کا قیام ایمان اور احتساب کے ساتھ کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6440
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ٤] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٣٩٨، الإرواء ٩٠٦.
«من قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے شب قدر کا قیام ایمان اور احتساب کے ساتھ کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6441
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ٣] عن أبي هريرة.
«من قتل تحت راية عمية ينصر العصبية ويغضب للعصبية فقتلته جاهلية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کسی اندھے (بے مقصد) جھنڈے کے نیچے، عصبیت کی حمایت اور عصبیت کی خاطر غصے میں مارا جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6442
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن] عن جندب [هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ٤٢٤.
«من قتل خطأ فديته مائة من الإبل ثلاثون بنت مخاض وثلاثون بنت لبون وثلاثون حقة وعشرة بني لبون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو غلطی سے قتل ہو جائے اس کی دیت سو اونٹ ہے: تیس بنت مخاض (ایک سالہ اونٹنیاں)، تیس بنت لبون (دو سالہ اونٹنیاں)، تیس حقہ (تین سالہ اونٹنیاں) اور دس بنو لبون (دو سالہ اونٹ)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6443
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ن] عن ابن عمرو. الإرواء ٢١٩٩.
«من قتل دون ماله فهو شهيد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6444
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن] عن ابن عمرو [ت حب] عن سعيد بن زيد [ن] عن بريدة. الإرواء ٧٠٨، أحكام الجنائز ص ٤١.
«من قتل دون ماله فهو شهيد ومن قتل دون دمه فهو شهيد ومن قتل دون دينه فهو شهيد ومن قتل دون أهله فهو شهيد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے، جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے، جو اپنے دین کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے، اور جو اپنے اہل خانہ کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6445
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٣ حب] عن سعيد بن زيد. المشكاة ٣٥٢٩، أحكام الجنائز ٤٢، الترغيب ٢/٢٠٤، الإرواء ٧٠٨.
«من قتل دون ماله مظلوما فله الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے ظلماً مارا جائے اس کے لیے جنت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6446
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن ابن عمرو. أحكام الجنائز ص ٤١.
«من قتل دون مظلمته فهو شهيد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6447
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن الضياء] عن سويد بن مقرن. أحكام الجنائز ٤٢: حم - أبن عباس.
«من قتل رجلا من أهل الذمة لم يجد ريح الجنة وإن ريحها ليوجد من مسيرة سبعين عاما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے کسی ذمی (عہد والے غیر مسلم) کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے محسوس کی جا سکتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6448
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن رجل. الترغيب ٣/٢٠٤: هـ، ك - أبي هريرة.
«من قتل في سبيل الله فهو شهيد ومن مات في سبيل الله فهو شهيد ومن مات في الطاعون فهو شهيد ومن مات في البطن فهو شهيد ومن غرق فهو شهيد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے، جو اللہ کی راہ میں مر جائے وہ شہید ہے، جو طاعون سے مر جائے وہ شہید ہے، جو پیٹ کی بیماری سے مر جائے وہ شہید ہے، اور جو ڈوب کر مر جائے وہ شہید ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6449
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. أحكام الجنائز ٣٦ - ٣٧: حم.
«من قتل في عميا أو رميا يكون بينهم بحجر أو سوط فعقله عقل خطأ ومن قتل عمدا فقود يديه فمن حال بينه وبينه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کسی ایسی اندھی لڑائی یا پتھراؤ اور کوڑوں کی جھڑپ میں مارا جائے جو لوگوں کے درمیان ہو تو اس کی دیت خطا کی دیت ہے، اور جو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس سے قصاص لیا جائے گا، اور جو اس کے اور قصاص کے درمیان حائل ہو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6450
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن هـ] عن ابن عباس١. المشكاة ٣٤٧٨.
«من قتل في عميا في رمى يكون بينهم بحجارة أو بالسياط أو ضرب بعصا فهو خطأ وعقله عقل الخطأ ومن قتل عمدا فهو قود يد ومن حال دونه فعليه لعنة الله وغضبه لا يقبل منه صرفا ولا عدلا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کسی ایسی اندھی لڑائی میں مارا جائے جس میں پتھروں، کوڑوں یا لاٹھی سے مارا جاتا ہو تو یہ خطا ہے اور اس کی دیت خطا کی دیت ہے، اور جو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس سے قصاص لیا جائے گا، اور جو اسے قصاص سے روکے اس پر اللہ کی لعنت اور اس کا غضب ہو، اور نہ اس کا کوئی نفلی عمل قبول کیا جائے گا اور نہ فرض۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6451
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن] عن ابن عباس. المصدر نفسه.
«من قتل كافر فله سلبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے کسی کافر کو قتل کیا تو اس کا سامان (سلب) اسی کا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6452
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د ت] عن قتادة [حم د] عن أنس [حم هـ] عن سمرة. الإرواء ١٢٢١.
«من قتل له قتيل فهو بخير النظرين إما أن يقاد وإما أن يفدي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کا کوئی رشتہ دار قتل کر دیا جائے وہ دو باتوں میں سے بہتر کا اختیار رکھتا ہے: یا تو قصاص لے یا دیت لے کر معاف کر دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6453
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هـ] عن أبي هريرة. الإرواء ١٠٥٧.
«من قتل مؤمنا فاغتبط بقتله لم يقبل الله منه صرفا ولا عدلا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے کسی مومن کو قتل کیا اور اس کے قتل پر خوش ہوا تو اللہ تعالیٰ اس کا نہ کوئی نفلی عمل قبول کرے گا نہ فرض۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6454
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د الضياء] عن عبادة بن الصامت. الترغيب ٣/٢٠٤.
«من قتل متعمد دفع إلى أولياء المقتول فإن شاءوا قتلوا وإن شاءوا أخذوا الدية وهي ثلاثون حقة وثلاثون جذعة وأربعون خلفة وما صولحوا عليه فهو لهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے جان بوجھ کر قتل کیا اسے مقتول کے ورثاء کے حوالے کر دیا جائے، اگر وہ چاہیں تو قصاص لے لیں اور اگر چاہیں تو دیت لے لیں، جو یہ ہے: تیس حقے، تیس جذعے اور چالیس حاملہ اونٹنیاں، اور جس چیز پر بھی وہ صلح کر لیں وہ انہی کا حق ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6455
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت هـ] عن ابن عمرو. الإرواء ٢١٩٩.
«من قتل معاهدا في غير كنهه حرم الله عليه الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے کسی معاہد (عہد والے غیر مسلم) کو ناحق قتل کیا اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6456
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن ك] عن أبي بكرة. الترغيب ٣/٢٠٤: الدارمي.
«من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة وإن ريحها ليوجد من مسيرة أربعين عاما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے کسی معاہد کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی جا سکتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6457
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن هـ] عن ابن عمرو. غاية المرام ٤٤٩.