حدیث نمبر: 6451
«من قتل في عميا في رمى يكون بينهم بحجارة أو بالسياط أو ضرب بعصا فهو خطأ وعقله عقل الخطأ ومن قتل عمدا فهو قود يد ومن حال دونه فعليه لعنة الله وغضبه لا يقبل منه صرفا ولا عدلا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کسی ایسی اندھی لڑائی میں مارا جائے جس میں پتھروں، کوڑوں یا لاٹھی سے مارا جاتا ہو تو یہ خطا ہے اور اس کی دیت خطا کی دیت ہے، اور جو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس سے قصاص لیا جائے گا، اور جو اسے قصاص سے روکے اس پر اللہ کی لعنت اور اس کا غضب ہو، اور نہ اس کا کوئی نفلی عمل قبول کیا جائے گا اور نہ فرض۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6451
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن] عن ابن عباس. المصدر نفسه.