حدیث نمبر: 2913
«تتركون المدينة على خير ما كانت لا يغشاها إلا العوافي وآخر من يحشر راعيان من مزينة يريدان المدينة ينعقان بغنمهما فيجدانها وحوشا حتى إذا بلغا ثنية الوداع خرا على وجوههما»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم مدینہ کو اس کی بہترین حالت میں چھوڑ دو گے، اس میں صرف پرندے اور درندے (آ کر) رہا کریں گے۔ اور سب سے آخر میں قبیلہ مزینہ کے دو چرواہے جمع کیے جائیں گے جو مدینہ آنا چاہیں گے، وہ اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے لائیں گے تو انہیں جنگلی جانوروں کی شکل میں پائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ ثنیۃ الوداع (کی گھاٹی) پر پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے (یعنی وفات پا جائیں گے)۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2913
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة. الصحيحة ٦٨٣.