حدیث نمبر: 2936
«ترد علي أمتي الحوض وأنا أذود الناس عنه كما يذود الرجل إبل الرجل عن إبله قالوا: يا نبي الله تعرفنا؟ قال: نعم لكم سيما ليست لأحد غيركم تردون علي غرا محجلين من آثار الوضوء وليصدن عني طائفة منكم فلا يصلون فأقول: يا رب هؤلاء من أصحابي! فيجيبني ملك فيقول: وهل تدري ما أحدثوا بعدك»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی، اور میں لوگوں کو اس سے ہٹاؤں گا جیسے کوئی آدمی دوسرے کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے ہٹاتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، تمہاری ایک ایسی نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی اور کی نہیں ہو گی، تم وضو کے اثرات کی وجہ سے روشن پیشانیوں اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے، لیکن تم میں سے ایک گروہ کو ضرور مجھ سے ہٹا دیا جائے گا، وہ مجھ تک نہ پہنچ سکیں گے، تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں! تو ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا اور کہے گا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں ایجاد کیں؟“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2936
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة.