صحیح الجامع الصغیر
حرف التاء— حرف تا
الأحاديث المبدوءة بحرف التاء باب: حرف تا سے شروع ہونے والی احادیث
«تحاجت النار والجنة فقالت النار: أوثرت بالمتكبرين والمتجبرين وقالت الجنة: فما لي لا يدخلني إلا ضعفاء الناس وسقطهم وعجزهم؟ فقال الله عز وجل للجنة: إنما أنت رحمتي أرحم بك من أشاء من عبادي وقال للنار: إنما أنت عذابي أعذب بك من أشاء من عبادي ولكل واحدة منكما ملؤها فأما النار فلا تمتلئ حتى يضع الله قدمه عليها فتقول: قط قط فهنالك تمتلئ وينزوي بعضها إلى بعض فلا يظلم الله من خلقه أحدا وأما الجنة فإن الله ينشئ لها خلقا»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت اور جہنم نے آپس میں جھگڑا کیا، جہنم نے کہا: مجھے متکبرین اور جبار لوگوں کے ساتھ خاص کیا گیا ہے، اور جنت نے کہا: مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میرے اندر صرف کمزور، حقیر اور بے بس لوگ ہی داخل ہوتے ہیں؟ تو اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا: تو تو میری رحمت ہے، میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں رحم فرماتا ہوں، اور جہنم سے فرمایا: تو تو میرا عذاب ہے، میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں عذاب دیتا ہوں، اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھرنا ہے۔ رہی جہنم، تو وہ اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ اپنا قدم اس پر نہ رکھ دے، تب وہ کہے گی: بس بس! تب وہ بھر جائے گی اور اس کے حصے سمٹ کر ایک دوسرے کے ساتھ مل جائیں گے، اور اللہ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ رہی جنت، تو اللہ اس کے لیے نئی مخلوق پیدا فرمائے گا۔“