حدیث نمبر: 2902
«تأتي الإبل على ربها على خير ما كانت إذا هي لم يعط فيها حقها تطؤه بأخفافها وتأتي الغنم على ربها على خير ما كانت إذا لم يعط فيها حقها تطؤه بأظلافها وتنطحه بقرونها ومن حقها أن تحلب على الماء ألا لا يأتين أحدكم يوم القيامة ببعير يحمله على رقبته له رغاء فيقول: يا محمد! فأقول: لا أملك لك شيئا قد بلغت ألا لا يأتين أحدكم يوم القيامة بشاة يحملها على رقبته لها يعار فيقول: يا محمد! فأقول: لا أملك لك شيئا قد بلغت ويكون كنز أحدكم يوم القيامة شجاعا أقرع يفر منه صاحبه ويطلبه: أنا كنزك فلا يزال حتى يلقمه إصبعه»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اونٹ قیامت کے دن اپنے مالک کے پاس اپنی بہترین اور موٹی تازی حالت میں آئیں گے، اگر اس نے ان میں اللہ کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کیا ہوگا تو وہ اسے اپنے پاؤں سے روندیں گے۔ اور بکریاں اپنے مالک کے پاس بہترین حالت میں آئیں گی، اگر اس نے ان کا حق ادا نہیں کیا ہوگا تو وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گی اور اپنے سینگوں سے ماریں گی۔ اور ان کا ایک حق یہ بھی ہے کہ انہیں پانی پلانے کی جگہ پر دوہا جائے۔ خبردار! تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن اس حال میں نہ آئے کہ اس نے اپنی گردن پر ایسا اونٹ اٹھا رکھا ہو جو بلبلا رہا ہو اور وہ مجھے پکارے: اے محمد! تو میں اسے جواب دوں گا کہ میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا، میں نے تو پیغام پہنچا دیا تھا۔ خبردار! تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن اس حال میں نہ آئے کہ اس نے اپنی گردن پر بکری اٹھا رکھی ہو جو ممیا رہی ہو اور وہ مجھے پکارے: اے محمد! تو میں اسے جواب دوں گا کہ میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا، میں نے تو پیغام پہنچا دیا تھا۔ اور تم میں سے کسی (زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے) کا خزانہ قیامت کے دن ایک گنجا زہریلا سانپ بن جائے گا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا اور وہ سانپ اس کا پیچھا کرتے ہوئے کہے گا کہ میں تیرا خزانہ ہوں، وہ مسلسل اس کا پیچھا کرتا رہے گا یہاں تک کہ وہ شخص اپنی انگلیاں اس کے منہ میں دے دے گا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2902
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هـ] عن أبي هريرة. الترغيب ٢/٢٦٦.