کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إن الحج والعمرة لمن سبيل الله وإن عمرة في رمضان تعدل حجة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ حج اور عمرہ اللہ کے راستے (میں جہاد کا حصہ) ہیں، اور یقیناً رمضان میں کیا گیا عمرہ ایک حج کے برابر ثواب رکھتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1599
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أم معقل. الحج الكبير.
«إن الحسن والحسين هما ريحانتاي من الدنيا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1600
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن ابن عمر [ن] عن أنس. الصحيحة ٥٦٤: خ.
«إن الحمد لله وسبحان الله ولا إله إلا الله والله أكبر لتساقط من ذنوب العبد كما تساقط ورق هذه الشجرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ»، «سُبْحَانَ اللَّهِ»، «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہنے سے بندے کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح اس درخت کے پتے جھڑ رہے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1601
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن أنس. المشكاة ٢٣١٨.
"إن الحور العين لتغنين في الجنة يقلن:
نحن الحور الحسان ... خبئنا لأزواج كرام"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ موٹی اور خوبصورت آنکھوں والی حوریں جنت میں گنگنائیں گی اور کہیں گی: «نَحْنُ الْحُورُ الْحِسَانُ، خُبِّئْنَا لِأَزْوَاجٍ كِرَامٍ» ہم خوبصورت حوریں ہیں، جنہیں معزز شوہروں کے لیے چھپا کر (محفوظ) رکھا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1602
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [سمويه] عن أنس. الروض النضير ٤٩٦.
«إن الحياء والإيمان قرنا جميعا فإذا رفع أحدهما رفع الآخر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ حیا اور ایمان دونوں آپس میں جڑے ہوئے ہیں، پس جب ان میں سے ایک اٹھا لیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1603
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك هب] عن ابن عمر. الروض النضير ٢/٤٢٣، المشكاة ٥٠٩٤.
«إن الخمر من العصير والزبيب والتمر والحنطة والشعير والذرة وإني أنهاكم عن كل مسكر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ شراب (انگور کے) رس، کشمش، کھجور، گندم، جو اور مکئی سے بنائی جاتی ہے اور میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1604
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن النعمان بن بشير. الصحيحة ١٥٩٣: حم، حب.
«إن الدال على الخير كفاعله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کی طرح (اجر پانے والا) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1605
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أنس. صحيح الترغيب ١١٢.
«إن الدجال ممسوح العين اليسرى عليها ظفرة مكتوب بين عينيه كافر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ دجال بائیں آنکھ سے کانا ہوگا، اس پر ایک موٹا ناخونہ (گوشت کا لوتھڑا) ہوگا، اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان «كَافِر» لکھا ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1606
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أنس. حم ٣/١١٥، ٢٠١. حم ٥/٣٨٦, ٤٠٥، م ٨/١٩٥ –حذيفة.
«إن الدجال يخرج من قبل المشرق من مدينة يقال لها: خراسان يتبعه أقوام كأن وجوههم المجان المطرقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ دجال مشرق کی جانب سے ایک علاقے سے نکلے گا جسے خراسان کہا جاتا ہے، اس کے پیچھے ایسے لوگ چلیں گے جن کے چہرے تہہ بہ تہہ جڑی ہوئی ڈھالوں کی طرح (چوڑے اور چپٹے) ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1607
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن أبي بكر. الصحيحة٣ ١٥٩١: ت، ك.
«إن الدنيا حلوة خضرة فمن أصاب منها شيئا من حله فذاك الذي يبارك له فيه وكم من متخوض في مال الله ومال رسوله له النار يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ دنیا میٹھی اور سرسبز و شاداب ہے، پس جس شخص نے اس میں سے کچھ حلال طریقے سے حاصل کیا تو اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں ناحق گھسنے والے (ناجائز تصرف کرنے والے) ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن صرف آگ ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1608
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عمرة بنت الحارث بن أبي ضرار. الصحيحة ١٥٩٢: ابن أبي عاصم، عم.
«إن الدنيا ملعونة ملعون ما فيها إلا ذكر الله وما والاه وعالما أو متعلما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون (اللہ کی رحمت سے دور) ہے، سوائے اللہ کے ذکر کے، اور اس چیز کے جو اللہ کی اطاعت کے قریب کر دے، اور عالم یا علم دین سیکھنے والے کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1609
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت هـ] عن أبي هريرة. صحيح الترغيب ٧١. أبي الدرداء بنحوه.
«إن الدين النصيحة لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ دین سراپا خیر خواہی ہے، اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے اور ان کے عوام کے لیے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1610
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ن] عن تميم الداري [ت ن] عن أبي هريرة [حم] عن ابن عباس. مختصر مسلم ١٢٠٩.
«إن الدين يسر ولا يشاد الدين أحد إلا غلبه فسددوا وقاربوا وأبشروا واستعينوا بالغدوة والروحة وشيء من الدلجة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ دین آسان ہے، اور جو شخص بھی دین میں سختی کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا۔ پس تم میانہ روی اختیار کرو، (کمال نہ ملنے پر) حق کے قریب ترین رہو، خوشخبری دو اور صبح، دوپہر کے بعد اور رات کے کچھ حصے کی عبادت سے مدد طلب کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1611
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن] عن أبي هريرة.
«إن الرؤيا تقع على ما تعبر ومثل ذلك مثل رجل رفع رجليه فهو ينتظر متى يضعها فإذا رأى أحدكم رؤيا فلا يحدث بها إلا ناصحا أو عالما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ خواب کی جو تعبیر بتائی جائے وہ اسی کے مطابق واقع ہو جاتا ہے، اور اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے اپنا پاؤں اٹھا رکھا ہو اور وہ انتظار کر رہا ہو کہ اسے کب نیچے رکھے۔ پس جب تم میں سے کوئی شخص (کوئی اچھا) خواب دیکھے تو وہ کسی خیر خواہ یا عالم کے سوا کسی اور سے اسے بیان نہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1612
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أنس. الصحيحة ١٢٠.
«إن الرجل أحق بصدر دابته وصدر فراشه وأن يؤم في رحله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ آدمی اپنی سواری کے اگلے حصے اور اپنے بستر کے صدر مقام کا زیادہ حقدار ہے، اور اس بات کا بھی زیادہ حقدار ہے کہ وہ اپنی قیام گاہ (گھر) میں خود امامت کروائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1613
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عبد الله بن حنظلة. الصحيحة ١٥٩٥.
«إن الرجل إذا دخل في صلاته أقبل الله عليه بوجهه فلا ينصرف عنه حتى ينقلب أو يحدث حدث سوء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جب انسان اپنی نماز شروع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی شایانِ شان اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اس سے اس وقت تک اپنی توجہ نہیں ہٹاتا جب تک کہ وہ نماز سے فارغ نہ ہو جائے یا کوئی برا کام (وضو ٹوٹنے کا سبب) نہ کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1614
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن حذيفة. الصحيحة ١٥٩٦.
«إن الرجل إذا صلى مع الإمام حتى ينصرف كتب له قيام ليلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھتا رہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے، تو اس کے لیے پوری رات کی عبادت (قیام) کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1615
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٤ حب] عن أبي ذر. المشكاة ١٢٩٨.
«إن الرجل إذا مات بغير مولده قيس له من مولده إلى منقطع أثره في الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جب کوئی شخص اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کسی اور جگہ وفات پاتا ہے، تو اس کے لیے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے لے کر اس کی جائے وفات تک کی مسافت ناپ کر اتنی جگہ (جنت میں) دے دی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1616
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ن هـ] عن ابن عمرو. المشكاة ١٥٩٣.
«إن الرجل لترفع درجته في الجنة فيقول: أنى لي هذا؟ فيقال: باستغفار ولدك لك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جنت میں آدمی کا درجہ بلند کیا جاتا ہے تو وہ پوچھتا ہے: مجھے یہ مقام کہاں سے ملا؟ تو اسے جواب دیا جاتا ہے: تمہاری اولاد کے تمہارے حق میں بخشش کی دعا مانگنے کی وجہ سے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1617
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ هق] عن أبي هريرة. المشكاة ٢٣٥٤، الصحيحة ١٥٩٨: ابن أبي شيبة.
«إن الرجل ليتكلم بالكلمة لا يرى بها بأسا يهوي بها سبعين خريفا في النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ انسان زبان سے کوئی ایسا کلمہ کہہ دیتا ہے جس میں وہ کوئی حرج محسوس نہیں کرتا، حالانکہ وہ اس ایک کلمے کی وجہ سے جہنم کی آگ میں ستر سال کی مسافت تک گہرائی میں گر جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1618
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٥٤٠: ق.
«إن الرجل ليتكلم بالكلمة من رضوان الله تعالى ما يظن أن تبلغ ما بلغت فيكتب الله له بها رضوانه إلى يوم القيامة وإن الرجل ليتكلم بالكلمة من سخط الله تعالى ما يظن أن تبلغ ما بلغت فيكتب الله عليه بها سخطه إلى يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا مندی والا کوئی ایسا کلمہ بولتا ہے جس کے بارے میں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ اتنی بلندی تک پہنچ جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اس ایک کلمے کی بدولت اس کے لیے قیامت کے دن تک اپنی خوشنودی لکھ دیتا ہے۔ اور یقیناً انسان اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والا کوئی ایسا کلمہ بولتا ہے جس کے متعلق وہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ اس حد تک پہنچ جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کلمے کی وجہ سے اس پر قیامت کے دن تک کے لیے اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1619
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ت ن هـ حب ك] عن بلال بن الحارث. الصحيحة ٨٨٨.
«إن الرجل ليدرك بحسن خلقه درجات قائم الليل صائم النهار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ انسان اپنے بہترین اخلاق کی بدولت رات کو تہجد پڑھنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کے درجات پا لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1620
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم١ ك] عن عائشة. الصحيحة ٧٩٥: د، حب.
«إن الرجل ليدرك بحسن خلقه درجة القائم بالليل الظامئ بالهواجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ آدمی اپنے حسن اخلاق کے ذریعے رات کو قیام کرنے والے اور سخت دوپہر کی گرمی میں پیاسے رہنے (روزہ رکھنے) والے کا درجہ پا لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1621
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. الصحيحة ٧٩٤.
"إن الرجل ليسألني الشيء فأمنعه حتى تشفعوا
فتؤجروا"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ کوئی آدمی مجھ سے کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو میں اسے اس لیے روک دیتا ہوں تاکہ تم سفارش کرو اور تمہیں اس پر اجر ملے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1622
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن معاوية. الصحيحة ١٤٦٤: ن.
«إن الرجل ليعمل الزمن الطويل بعمل أهل الجنة ثم يختم له عمله بعمل أهل النار وإن الرجل ليعمل الزمن الطويل بعمل أهل النار ثم يختم له عمله بعمل أهل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ایک آدمی طویل عرصے تک جنتیوں والے اعمال کرتا رہتا ہے، پھر اس کا خاتمہ جہنمیوں والے عمل پر ہوتا ہے، اور ایک آدمی طویل عرصے تک جہنمیوں والے اعمال کرتا ہے، پھر اس کا خاتمہ جنتیوں والے عمل پر ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1623
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٨٤٥.
«إن الرجل ليعمل عمل الجنة فيما يبدو للناس وهو من أهل النار وإن الرجل ليعمل عمل النار فيما يبدو للناس وهو من أهل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ایک شخص لوگوں کی نظر میں بظاہر جنتیوں والے اعمال کرتا ہے حالانکہ وہ جہنمیوں میں سے ہوتا ہے، اور ایک شخص لوگوں کی نظر میں بظاہر جہنمیوں والے اعمال کرتا ہے حالانکہ وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1624
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن سهل بن سعد زاد [خ] : [وإنما الأعمال بخواتيمها] .
«إن الرجل ليكون له المنزلة عند الله فما يبلغها بعمل فلا يزال الله يبتليه بما يكره حتى يبلغه إياها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ کسی شخص کا اللہ کے ہاں ایک خاص مقام (مقرر) ہوتا ہے جس تک وہ اپنے کسی عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا، تو اللہ تعالیٰ اسے مسلسل ایسی چیزوں سے آزماتا ہے جو اسے ناپسند ہوتی ہیں یہاں تک کہ اللہ اسے اس مقام تک پہنچا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1625
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حب ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٥٩٩: أبو يعلى.
«إن الرجل لينصرف وما كتب له إلا عشر صلاته تسعها ثمنها سبعها سدسها خمسها ربعها ثلثها نصفها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ایک شخص (نماز پڑھ کر) لوٹتا ہے تو اس کے لیے اس کی نماز کا صرف دسواں حصہ، نواں حصہ، آٹھواں حصہ، ساتواں حصہ، چھٹا حصہ، پانچواں حصہ، چوتھائی حصہ، تہائی حصہ یا آدھا حصہ ہی (بطور ثواب) لکھا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1626
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د حب] عن عمار بن ياسر. صحيح أبي داود ٧٦١.
«إن الرجل من أهل الجنة ليعطى قوة مائة رجل في الأكل والشرب والشهوة والجماع حاجة أحدهم عرق يفيض من جلده فإذا بطنه قد ضمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جنتیوں میں سے ایک آدمی کو کھانے، پینے، شہوت اور ہمبستری میں سو آدمیوں کے برابر طاقت دی جائے گی، اور ان کی حاجت (قضائے حاجت) صرف پسینے کی صورت میں ہوگی جو ان کی جلد سے نکلے گا، جس سے ان کا پیٹ ہلکا (اور پچک) جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1627
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن زيد بن أرقم. المشكاة ٥٦٣٦: الدارمي، حب.
"إن الرجل من أهل النار ليعظم للنار حتى يكون الضرس
من أضراسه كأحد"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جہنمیوں میں سے کسی آدمی کو جہنم کی آگ کے لیے اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ اس کی ایک داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1628
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن زيد بن أرقم. الصحيحة ١٦٠١.
«إن الرحم شجنة آخذة بحجزة الرحمن تصل من وصلها وتقطع من قطعها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ رحم (رشتہ داری) ایک شاخ ہے جس نے رحمن کے کمر بند کو پکڑا ہوا ہے، وہ اسی سے جڑتی ہے جو اس (رشتہ داری) کو جوڑتا ہے اور اسی سے کٹتی ہے جو اسے کاٹتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1629
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن ابن عباس. الصحيحة ١٦٠٢.
«إن الرزق ليطلب العبد أكثر مما يطلبه أجله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بندے کا رزق اسے اتنی شدت سے تلاش کرتا ہے جتنا اس کی موت اسے تلاش نہیں کرتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1630
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب عد] عن أبي الدرداء. المشكاة ٥٣١٢، الترغيب ٣/٨، الصحيحة ٩٥٢.
«إن الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدي ولا نبي ولكن المبشرات رؤيا الرجل المسلم وهي جزء من أجزاء النبوة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی، البتہ بشارتیں باقی ہیں اور وہ مسلمان آدمی کا (سچا) خواب ہے جو کہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1631
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ك] عن أنس. الإرواء ٢٤٧٣.
«إن الرقى والتمائم والتولة شرك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ (شرکیہ) جھاڑ پھونک، تعویذ گنڈے اور میاں بیوی میں محبت پیدا کرنے والے جادو منتر شرک ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1632
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ ك] عن ابن مسعود. الصحيحة ٣٣١.
«إن الركن والمقام ياقوتتان من ياقوت الجنة طمس الله تعالى نورهما ولو لم يطمس نورهما لأضاءتا ما بين المشرق والمغرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی روشنی مدھم کر دی ہے، اگر وہ ان کی روشنی کو مدھم نہ کرتا تو وہ مشرق و مغرب کے درمیان سب کچھ روشن کر دیتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1633
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت حب ك] عن ابن عمرو. المشكاة ٢٥٧٩.
«إن الروح إذا قبض تبعه البصر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جب روح قبض کی جاتی ہے تو نگاہ اس کے پیچھے پیچھے جاتی ہے (اسی لیے مردے کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1634
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م هـ] عن أم سلمة. أحكام الجنائز ١٢.
"إن الساعة لا تقوم حتى تكون عشر آيات: الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربها وثلاثة خسوف: خسف
بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب ونزول عيسى وفتح يأجوج ومأجوج ونار تخرج من قعر عدن تسوق الناس إلى المحشر تبيت معهم حيث باتوا وتقيل معهم حيث قالوا"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں: دھواں، دجال، زمین کا جانور، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، تین جگہ زمین کا دھنسنا: ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرہ نما عرب میں زمین کا دھنسنا، عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول، یاجوج و ماجوج کا نکلنا، اور وہ آگ جو عدن کے گڑھے سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر میدان محشر کی طرف لے جائے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے یہ آگ بھی ان کے ساتھ رات گزارے گی اور جہاں لوگ قیلولہ کریں گے یہ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1635
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ٤] عن حذيفة بن أسيد.
«إن السحور بركة أعطاكموها الله فلا تدعوها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سحری کرنا ایک برکت ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کی ہے، لہٰذا تم اسے مت چھوڑو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1636
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن رجل. صحيح الترغيب ١٠٦١.
«إن السعيد لمن جنب الفتن ولمن ابتلي فصبر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ خوش نصیب تو وہ ہے جسے فتنوں سے بچا لیا گیا اور وہ شخص جسے آزمائش میں ڈالا گیا تو اس نے صبر کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1637
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن المقداد. الصحيحة ١٩٧٥.
«إن السلام اسم من أسماء الله تعالى فأفشوه بينكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ «السَّلَامُ» اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، لہٰذا تم اسے اپنے درمیان (کثرت سے) پھیلاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1638
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عق] عن أبي هريرة. الروض النضير: ١٠٧٥، الصحيحة ١٦٠٧: طص، خط، طب، البزار، حب – ابن سعد.