کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«أكثر الناس شبعا في الدنيا أطولهم جوعا في الآخرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دنیا میں سب سے زیادہ پیٹ بھر کر کھانے والے آخرت میں سب سے طویل عرصے تک بھوکے رہیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1199
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حل] عن سلمان. الصحيحة ٣٤٣.
«أكثرت عليكم في السواك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے تمہیں مسواک کرنے کے بارے میں بہت زیادہ تاکید کر دی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1200
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن] عن أنس.
«أكثر خطايا ابن آدم في لسانه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابن آدم (انسان) کی زیادہ تر غلطیاں اور گناہ اس کی زبان کی وجہ سے ہوتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1201
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب هب] عن ابن مسعود. الصحيحة ٥٣٤.
«أكثر عذاب القبر من البول»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عذاب قبر کا زیادہ تر حصہ پیشاب (کے چھینٹوں سے نہ بچنے) کی وجہ سے ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1202
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ ك] عن أبي هريرة. الإرواء ٢٨٠.
«أكثر منافقي أمتي قراؤها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کے زیادہ تر منافق اس کے قاری (یعنی دکھاوے کے لیے قرآن پڑھنے والے) ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1203
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب هب] عن ابن عمرو [حم طب] عن عقبة بن عامر [طب عد] عن عصمة ابن مالك. الصحيحة ٧٥٠.
«أكثر من السجود فإنه ليس من مسلم يسجد لله تعالى سجدة إلا رفعه الله بها درجة في الجنة وحط عنه بها خطيئة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کثرت سے سجدے کیا کرو، کیونکہ کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرے اور اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے جنت میں اس کا ایک درجہ بلند نہ کر دے اور اس کا ایک گناہ نہ مٹا دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1204
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن سعد حم] عن أبي فاطمة. الصحيحة ١٥١٩.
«أكثر من لا حول ولا قوة إلا بالله فإنها من كنز الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کثرت سے «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» پڑھا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1205
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع طب حب] عن أبي أيوب. المشكاة ٢٣١٩.
«أكثر من يموت من أمتي بعد قضاء الله وقدره بالعين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں اللہ تعالیٰ کے قضا و قدر (یعنی اس کے فیصلے اور تقدیر) کے بعد سب سے زیادہ اموات نظرِ بد لگنے کی وجہ سے ہوں گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1206
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [الطيالسي تخ الحكيم البزار الضياء] عن جابر. الصحيحة ٧٤٧.
«أكثروا الصلاة علي فإن الله وكل بي ملكا عند قبري فإذا صلى علي رجل من أمتي قال لي ذلك الملك: يا محمد إن فلان ابن فلان صلى عليك الساعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میری قبر پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہوا ہے، پس جب میری امت کا کوئی شخص مجھ پر درود پڑھتا ہے تو وہ فرشتہ مجھ سے کہتا ہے: اے محمد! (ﷺ) فلاں بن فلاں نے اس وقت آپ پر درود بھیجا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1207
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [فر] عن أبي بكر. الصحيحة ١٥٣٠.
«أكثروا الصلاة علي في يوم الجمعة فإنه ليس يصلي علي أحد يوم الجمعة إلا عرضت على صلاته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، کیونکہ جو شخص بھی جمعہ کے دن مجھ پر درود پڑھتا ہے تو اس کا درود مجھ پر (باقاعدہ) پیش کیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1208
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك هب] عن أبي مسعود الأنصاري. الصحيحة ١٥٢٧.
«أكثروا الصلاة علي يوم الجمعة وليلة الجمعة فمن صلى علي صلاة صلى الله عليه عشرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1209
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هق] عن أنس. الصحيحة ١٤٠٧.
«أكثروا ذكر هاذم اللذات: الموت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لذتوں کو توڑنے (اور ختم کرنے) والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1210
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن هـ حل] عن ابن عمر [ك هب] عن أبي هريرة [طس حل هب] عن أنس. المشكاة ١٦٠٧ الإرواء ٦٨٢.
«أكثروا ذكر هاذم اللذات: الموت فإنه لم يذكره أحد في ضيق من العيش إلا وسعه عليه ولا ذكره في سعة إلا ضيقها عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لذتوں کو ختم کرنے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو، کیونکہ جس شخص نے بھی اسے رزق کی تنگی کے وقت یاد کیا تو اس (موت کی یاد) نے اس پر اس تنگی کو کشادہ (اور ہلکا) کر دیا، اور جس نے اسے فراخی اور خوشحالی میں یاد کیا تو اس نے اس (دنیا کی کشادگی) کو اس پر تنگ کر دیا (یعنی اسے دنیا کی بے ثباتی کا احساس دلا دیا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1211
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هب حب] عن أبي هريرة [البزار] عن أنس. الإرواء ٦٨٢.
«أكثروا من شهادة: أن لا إله إلا الله قبل أن يحال بينكم وبينها ولقنوها موتاكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس گواہی کی کثرت کیا کرو کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں)، اس سے پہلے کہ تمہارے اور اس (کلمے) کے درمیان موت حائل کر دی جائے، اور اپنے مرنے والوں (یعنی قریب المرگ افراد) کو اس کی تلقین کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1212
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ع عد] عن أبي هريرة. الصحيحة ٤٦٨ خط، ابن عساكر.
«أكثروا من غرس الجنة فإنه عذب ماؤها طيب ترابها فأكثروا من غراسها: لا حول ولا قوة إلا بالله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت کے پودے کثرت سے لگاؤ، کیونکہ اس کا پانی میٹھا اور اس کی مٹی نہایت عمدہ اور زرخیز ہے، لہٰذا اس کے پودے کثرت سے لگایا کرو، اور وہ (پودا) «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» پڑھنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1213
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن ابن عمر. تخريج الترغيب ٢/٢٥٦.
«أكثروا من قول: لا حول ولا قوة إلا بالله فإنها من كنوز الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کثرت سے «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1214
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عد] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٥٢٨: حم، ت.
«أكثروا من هذه النعال فإن الرجل لا يزال راكبا ما انتعل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جوتوں کا کثرت سے استعمال کیا کرو (یعنی جوتے پہن کر رکھا کرو)، کیونکہ انسان جب تک جوتے پہنے رہتا ہے، وہ گویا سوار ہی رہتا ہے (یعنی جوتے کی وجہ سے اسے پیدل چلنے کی تکلیف اور تھکاوٹ کم محسوس ہوتی ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1215
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن جابر. الصحيحة ٣٤٥: حم، م، خط.
«أكرم الناس أتقاهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ پرہیزگار (متقی) ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1216
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي هريرة.
«أكرم الناس يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے زیادہ عزت اور شرف والے یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1217
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي هريرة [طب] عن ابن مسعود. الضعيفة ٣٣٤.
«أكرم شعرك وأحسن إليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے بالوں کا اکرام کرو اور انہیں اچھے طریقے سے (دھو کر اور تیل لگا کر) سنوار کر رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1218
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ن] عن أبي قتادة. الصحيحة ٥٠٠.
«أكرموا الخبز»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”روٹی کا احترام کرو (یعنی اسے ضائع ہونے اور گرنے سے بچاؤ اور اس کی قدر کرو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1219
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك هب] عن عائشة. الضعيفة ٢٨٨٤, ٢٨٨٥.
«أكرموا الشعر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بالوں کا اکرام کرو (یعنی انہیں صاف ستھرا رکھو اور سنوارو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1220
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن عائشة. الصحيحة ٦٦٦.
«اكسروا فيها قسيكم - يعني في الفتنة - واقطعوا فيها أوتاركم والزموا فيها أجواف بيوتكم وكونوا فيها كالخير من ابني آدم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس میں (یعنی فتنے کے دور میں) اپنی کمانوں کو توڑ دو، ان کی تانتیں (ڈوریاں) کاٹ دو، اپنے گھروں کے اندرونی حصوں کو لازم پکڑ لو (یعنی ان میں سمٹ کر بیٹھ جاؤ)، اور اس میں آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں میں سے بہتر بیٹے (یعنی ہابیل کی طرح، جو قتل ہونا تو مان گیا مگر قتل کرنا گوارا نہ کیا) کی طرح بن جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1221
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي موسى. الصحيحة ١٥٢٤: هب، ابن عساكر.
«اكشف البأس رب الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگوں کے رب! تکلیف کو دور فرما دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1222
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن] عن ثابت بن قيس بن شماس. الصحيحة ١٥٢٦: تخ، حب.
«اكشف البأس رب الناس! إله الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگوں کے رب! اے لوگوں کے معبود! تکلیف کو دور فرما دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1223
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن رافع بن خديج. الصحيحة ١٥٢٦.
«اكشف البأس رب الناس! لا يكشف الكرب غيرك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگوں کے رب! تکلیف کو دور فرما دے، کیونکہ تیرے سوا اس کرب و مصیبت کو کوئی اور دور نہیں کر سکتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1224
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الخرائطي في مكارم الأخلاق] عن عائشة. الصحيحة ١٥٢٦: حم.
" اكفلوا لي بست أكفل لكم بالجنة: إذا حدث
أحدكم فلا يكذب وإذا ائتمن فلا يخن وإذا وعد فلا يخلف وغضوا أبصاركم وكفوا أيديكم واحفظوا فروجكم"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو، میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں: (١) جب تم میں سے کوئی بات کرے تو جھوٹ نہ بولے، (٢) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت نہ کرے، (٣) جب وہ وعدہ کرے تو وعدہ خلافی نہ کرے، (٤) اپنی نگاہوں کو نیچا رکھو، (٥) اپنے ہاتھوں کو (کسی پر ظلم کرنے سے) روکے رکھو، اور (٦) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1225
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [البغوي طب] عن أبي أمامة. الصحيحة ١٥٢٥: عد.
«أكل طعامكم الأبرار وصلت عليكم الملائكة وأفطر عندكم الصائمون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، فرشتے تم پر رحمت کی دعا کریں، اور روزہ دار تمہارے ہاں افطار کریں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1226
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن] عن أنس. آداب الزفاف ٨٥.
«أكل كل ذي ناب من السباع حرام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کچلیوں (نوکیلے دانتوں) والے ہر درندے کا کھانا حرام ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1227
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الإرواء ٢٤٨٨: م, ن.
«اكلفوا من العمل ما تطيقون فإن الله لا يمل حتى تملوا وإن أحب العمل إلى الله تعالى أدومه وإن قل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(نیک) عمل کا اتنا ہی بوجھ اٹھایا کرو جتنی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں اکتاتا یہاں تک کہ تم (عمل کرنے سے) اکتا جاؤ، اور یقیناً اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے خواہ وہ تھوڑا ہی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1228
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن] عن عائشة. صحيح أبي داود ١٢٣٨: ق.
«اكلفوا من العمل ما تطيقون فإن خير العمل أدومه وإن قل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(نیک) عمل کا اتنا ہی بوجھ اٹھایا کرو جتنی تم میں طاقت ہو، کیونکہ سب سے بہترین عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے خواہ وہ تھوڑا ہی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1229
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ١٢٣٨: حم.
«أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومنوں میں ایمان کے اعتبار سے سب سے کامل وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1230
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د حب ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٨٤. إيمان ابن أبي شيبة ١٧ - ٢٠، إيمان أبي عبيد ص ١٧.
«أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا الموطئون أكنافا الذين يألفون ويؤلفون ولا خير فيمن لا يألف ولا يؤلف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومنوں میں ایمان کے لحاظ سے سب سے کامل وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں، جو نرم خو اور تواضع والے ہوں، جو لوگوں سے محبت و انسیت رکھتے ہیں اور لوگ ان سے محبت و انسیت رکھتے ہیں، اور اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو نہ کسی سے انسیت رکھے اور نہ کوئی اس سے انسیت رکھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1231
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طس] عن أبي سعيد. الصحيحة ٧٥١: أبو نعيم.
"أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا وخياركم خياركم
لنسائهم"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومنوں میں کامل ترین ایمان اس کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں، اور تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں (بیویوں) کے حق میں بہترین ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1232
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت حب] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٨٤.
«ألبان البقر شفاء وسمنها دواء ولحومها داء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”گائے کا دودھ شفا ہے، اس کا گھی دوا ہے اور اس کا گوشت بیماری ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1233
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن مليكة بنت عمرو. الصحيحة ١٥٣٣.
«البس جديدا وعش حميدا ومت شهيدا ويرزقك الله قرة عين في الدنيا والآخرة» - قاله لعمر بن الخطاب -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نئے کپڑے پہنو، قابلِ ستائش (اور نیک) زندگی گزارو اور شہادت کی موت مرو، اور اللہ تمہیں دنیا و آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرمائے۔“ (آپ ﷺ نے یہ دعا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دی)
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1234
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم هـ] عن ابن عمر. الصحيحة ٣٥٢: حم، حب، ابن السني، طب.
«البسوا الثياب البيض فإنها أطهر وأطيب وكفنوا فيها موتاكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ بہت پاکیزہ اور عمدہ ہوتے ہیں، اور اپنے مردوں کو بھی انہی میں کفنایا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1235
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ن هـ ك] عن سمرة. الجنائز ٦٢.
«البسوا من ثيابكم البياض فإنها من خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم وإن من خير أكحالكم الإثمد يجلوا البصر وينبت الشعر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ تمہارے بہترین کپڑوں میں سے ہیں، اور اپنے مردوں کو بھی انہی میں کفن دیا کرو، اور یقیناً تمہارے سرموں میں سب سے بہترین سرمہ اثمد ہے، یہ نگاہ کو تیز کرتا ہے اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1236
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت حب] عن ابن عباس. الجنائز ٦٢.
«التمسوا الساعة التي ترجى في يوم الجمعة بعد العصر إلى غيبوبة الشمس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جمعہ کے دن جس گھڑی (میں قبولیتِ دعا) کی امید کی جاتی ہے، اسے عصر کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک تلاش کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1237
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن أنس. المشكاة ١٣٦٠، صحيح الترغيب ٧٠٣: طب.
«التمسوا ليلة القدر آخر ليلة من رمضان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر کو رمضان کی آخری رات میں تلاش کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1238
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن نصر] عن معاوية. المشكاة ٢٠٩٢، الصحيحة ١٤٧١.