کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عامر شعبی کی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا، فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا نَفَقَةَ لَكِ، وَلَا سُكْنَى»
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں، تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے نہ نفقہ ہے نہ رہائش۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21302
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 378، حدیث 934
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ أَبِي حَفْصِ بْنِ عَمْرِو - أَوْ عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ - فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّفَقَةِ وَالسُّكْنَى، فَقَالَ لَهَا: «اسْمَعِي يَا ابْنَةَ قَيْسٍ» وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَمَدَّهَا عَلَى بَعْضِ وَجْهِهِ كَأَنَّهُ يَسْتَتِرُ مِنْهَا، وَكَأَنَّهُ يَقُولُ: " اسْكُتِي إِنَّمَا النَّفَقَةُ لِلْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا مَا كَانَتْ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ، فَلَا نَفَقَةَ لَهَا وَلَا سُكْنَى ائْتِ فُلَانَةَ - أَوْ قَالَ: أُمَّ شَرِيكٍ - فَاعْتَدِّي عِنْدَهَا "، ثُمَّ قَالَ: " لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ يُجْتَمَعُ إِلَيْهَا - أَوْ قَالَ: يُتَحَدَّثُ عِنْدَهَا - اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ "
ترجمہ
عامر شعبی کہتے ہیں: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا، وہ ابوحفص بن عمرو — یا عمرو بن حفص — کے نکاح میں تھیں، تو وہ نفقے اور رہائش کے بارے میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”سنو، اے قیس کی بیٹی!“ اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اسے اپنے چہرے کے کچھ حصے پر پھیلا لیا، گویا وہ ان سے چھپ رہے ہوں، اور گویا فرما رہے ہوں: ”خاموش رہو، عورت کے لیے اپنے شوہر پر نفقہ تب تک ہے جب تک اس پر رجوع باقی ہو، تو اگر رجوع باقی نہیں تو نہ اس کے لیے نفقہ ہے نہ رہائش، فلاں عورت — یا فرمایا: ام شریک — کے پاس جاؤ اور اس کے ہاں عدت گزارو۔“ پھر فرمایا: ”نہیں، وہ ایسی عورت ہے جس کے ہاں لوگ جمع ہوتے ہیں — یا فرمایا: باتیں کی جاتی ہیں —، تم ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21303
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 378، حدیث 935
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: خَالَفَنَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ فِي سُكْنَى الْمُطَلَّقَةِ ونَفَقَتِها، فَقَالُوا لِي: بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، فَأَتَيْتُهَا فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي، فَقَالَ لِي أَخُوهُ: إِنَّهُ لَا سُكْنَى لَكِ وَلَا نَفَقَةَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ابْنَةَ قَيْسٍ، إِنَّمَا يَكُونُ السُّكْنَى، وَالنَّفَقَةُ مَا كَانَ لِزَوْجِكِ عَلَيْكِ رَجْعَةٌ»
ترجمہ
… تو اس کے بھائی نے مجھ سے کہا: تمہارے لیے نہ رہائش ہے نہ نفقہ، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے قیس کی بیٹی! رہائش اور نفقہ تب تک ہے جب تک تمہارے شوہر کو تم پر رجوع کا حق باقی ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21304
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 379، حدیث 936
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّهَا سَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي، وَلَمْ يَفْرِضْ لِي نَفَقَةً وَلَا سُكْنَى، فَقَالَ: لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ زَوْجَكِ لَا يُرَاجِعُكِ، إِنَّمَا السُّكْنَى، وَالنَّفَقَةُ لِلَّتِي يُرَاجِعُهَا زَوْجُهَا»
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا اور عرض کیا: میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے، اور اس نے میرے لیے نہ نفقہ مقرر کیا نہ رہائش، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تمہارا شوہر تم سے رجوع نہیں کر سکتا، رہائش اور نفقہ تو اسی عورت کے لیے ہے جس سے اس کا شوہر رجوع کر سکتا ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21305
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 379، حدیث 937
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنَا مُغِيرَةُ، وَحُصَيْنٌ، وَسَيَّارٌ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، وَمُجَالِدٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَأَشْعَثُ، كُلُّهُمْ: عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلْتُهَا عَنْ: قَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: «طَلَّقَنِي زَوْجِي ألْبَتَّةَ، فَخَاصَمْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى، وَالنَّفَقَةِ، فَلَمْ يَجْعَلْ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةً، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ»
ترجمہ
عامر شعبی کہتے ہیں: میں مدینہ میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: ”میرے شوہر نے مجھے حتمی طلاق دے دی، تو میں نے رہائش اور نفقے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا پیش کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے نہ رہائش مقرر کی نہ نفقہ، اور مجھے حکم دیا کہ میں ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزاروں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21306
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 379، حدیث 938
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التُّسْتَرِيُّ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ أَبُو زَيْدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا، أَيْنَ تَعْتَدُّ؟ فَقَالَتْ: «أَذِنَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَّقَنِي بِعْلِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي أَهْلِي»
ترجمہ
عامر شعبی کہتے ہیں: ہم فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ تین طلاق والی عورت کہاں عدت گزارے؟ تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھے اجازت دی تھی، جبکہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی تھی، کہ میں اپنے گھر والوں میں عدت گزاروں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21307
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 380، حدیث 939
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ الطَّائِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ثنا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي كِلَاهُمَا، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: «طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً»
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، آپ ﷺ نے میرے لیے نہ رہائش مقرر کی نہ نفقہ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21308
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 380، حدیث 940
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، طَلَّقَهَا زَوْجُهَا طَلَاقًا بَائِنًا، فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نَفَقَةَ لَكِ وَلَا سُكْنَى»
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے انہیں طلاقِ بائن دی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے نہ نفقہ ہے نہ رہائش۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21309
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 380، حدیث 941
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: «طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا، فَلَمْ يَجْعَلْ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً»
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے نہ رہائش مقرر کی نہ نفقہ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21310
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 380، حدیث 942
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ: سَأَلَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، قُلْتُ: كَمْ طَلَاقُ حَفْصِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو إِيَّاكِ؟ فَقَالَتْ: طَلَّقَنِي ثَلَاثًا وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَجَازَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثْتُ إِلَى أَهْلِ زَوْجِي أَسْأَلُهُمْ نَفَقَتِي، فَأَرَادُوا إِخْراجِي مِنْ مَنْزِلِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ»
ترجمہ
… تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی اجازت دی، تو میں نے اپنے شوہر کے گھر والوں کی طرف پیغام بھیجا تاکہ ان سے اپنا نفقہ طلب کروں، تو انہوں نے مجھے اپنے گھر سے نکالنا چاہا، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہو جاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21311
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 380، حدیث 943
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَقِيتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ بِالْحَرَّةِ فَسَأَلْتُهَا كَيْفَ كَانَ أَمْرُهَا؟ فَقَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي أَبُو عَمْرٍو قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الْيَمَنِ، وَوَكَّلَ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَأَعْطَانِي نَفَقَةً، فَرَافَعْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا نَفَقَةَ لَكِ عَلَيْهِمْ وَلَا سُكْنَى»
ترجمہ
… ان کا معاملہ کیسا تھا؟ تو انہوں نے کہا: میرے شوہر ابوعمرو نے یمن جانے سے پہلے مجھے طلاق دے دی، اور عیاش بن ابی ربیعہ کو اپنا وکیل بنایا، اور مجھے کچھ نفقہ دیا، تو میں نے یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان پر تمہارا نہ نفقہ ہے نہ رہائش۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21312
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 381، حدیث 944
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا قُرَّةُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا، فَأَرَدْتُ السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ فَقَالَ: «تَطْلِيقَةٌ، تَطْلِيقَتَانِ تَرِثِينَهُ وَيَرِثُكِ، ثَلَاثًا لَا تَرِثِينَهُ، وَلَا يَرِثُكِ، وَلَا سُكْنَى لَكِ، وَلَا نَفَقَةَ، انْزِلِي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ»
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں، تو میں رہائش اور نفقہ چاہتی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک طلاق، دو طلاقیں — تو تم اس کی وارث بنو گی اور وہ تمہارا وارث بنے گا، لیکن تین طلاقوں کے بعد نہ تم اس کی وارث بنو گی نہ وہ تمہارا وارث بنے گا، اور نہ تمہارے لیے رہائش ہے نہ نفقہ، ابن ام مکتوم کے ہاں ٹھہرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21313
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 381، حدیث 945
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَنِي ثَلَاثًا، فَقَالَ: لَيْسَ لَكِ عِنْدِي نَفَقَةٌ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي فَطَلَبْتُ مِنْهُ النَّفَقَةَ، فَقَالَ: لَا سُكْنَى لَكِ عِنْدِي وَلَا نَفَقَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكِ السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ» فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا فَقَالَ: «إِذًا اعْتَدِّي فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ» ثُمَّ قَالَ: «أُمُّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ مَغْشِيَّةٌ، وَلَكِنِ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ مَكْفُوفٌ»
ترجمہ
… میرے شوہر نے مجھے طلاق دی تو میں نے اس سے نفقہ طلب کیا، اس نے کہا: میرے پاس تمہارے لیے نہ رہائش ہے نہ نفقہ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے رہائش اور نفقہ ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے کہا: میں نے اسے تین طلاقیں دی ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر ام شریک کے گھر عدت گزارو۔“ پھر فرمایا: ”ام شریک تو ایک ایسی عورت ہے جس کے ہاں لوگوں کی آمد رہتی ہے، بلکہ ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21314
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 381، حدیث 946
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ عَنِ الْمَرْأَةِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا ثَلَاثًا، فَقَالَتْ: «طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ عَنِ السُّكْنَى، وَالنَّفَقَةِ، فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةَ»
ترجمہ
عامر شعبی کہتے ہیں: میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جسے اس کا شوہر تین طلاقیں دے دے، تو انہوں نے کہا: ”مجھے میرے شوہر نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تین طلاقیں دیں، تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور آپ سے رہائش اور نفقے کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے میرے لیے نہ رہائش مقرر کی نہ نفقہ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21315
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 382، حدیث 947
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّارُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ، ثنا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَجَلِيُّ، ثنا عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أُخْتِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ الْقُرَشِيِّ وَزَوْجُهَا أَبُو عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ، أَرْسَلَ إِلَيَّ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ فِي جَيْشٍ إِلَى الْيَمَنِ بِطَلَاقِي، فَسَأَلْتُ أَوْلِياءَهُ النَّفَقَةَ عَلِيَّ وَالسُّكْنَى، فَقَالُوا: مَا أَرْسَلَ إِلَيْنَا فِي ذَلِكَ بِشَيْءٍ وَلَا أَوْصَانَا بِهِ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ، أَرْسَلَ إِلَيَّ بِطَلَاقِي فَطَلَبْتُ السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ عَلَيَّ، فَقَالَ أَوْلِيَاؤُهُ: لَمْ يُرْسِلْ إِلَيْنَا فِي ذَلِكَ بِشَيْءٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِلْمَرْأَةِ إِذَا كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا رَجْعَةٌ، فَإِذَا كَانَتْ لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَلَا نَفَقَةَ لَهَا وَلَا سُكْنَى»
ترجمہ
… ابوعمرو بن حفص نے مجھے طلاق کا پیغام بھیجا، تو میں نے اپنے لیے رہائش اور نفقہ طلب کیا، تو اس کے رشتے داروں نے کہا: اس نے ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بھیجا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رہائش اور نفقہ عورت کے لیے تب ہے جب اس کے شوہر کو اس پر رجوع کا حق ہو، لیکن جب وہ اس کے لیے حلال نہ رہے یہاں تک کہ وہ کسی اور سے نکاح کرے، تو اس کے لیے نہ نفقہ ہے نہ رہائش۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21316
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 382، حدیث 948
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ حَدَّثَتْهُ، قَالَتْ: نَكَحْتُ حَفْصَ بْنَ الْمُغِيرَةِ، وَهُوَ مِنْ خِيَارِ شَبَابِ قُرَيْشٍ، فَلَمَّا تَأَيَّمْتُ خَطَبَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَطَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَوْلَاهُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَكُنْتُ قَدْ حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ» فَلَمَّا كَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: أَمْرِي بِيَدِكَ فَأَنْكِحْنِي مَنْ شِئْتَ، فَقَالَ: «انْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ، وَأُمُّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ غَنِيَّةٌ عَظِيمَةُ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ، يَنْزِلُ عَلَيْهَا الضِّيفَانُ» فَقُلْتُ: سَأَفْعَلُ قَالَ: «لَا تَفْعَلِي، فَإِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ امْرَأَةً كَثِيرَةً الضِّيفَانِ، وَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَنْكِ خِمَارُكِ، أَوْ يَنْكَشِفَ الثَّوْبُ عَنْ سَاقَيْكِ فَيَرَى الْقَوْمُ مِنْكِ بَعْضَ مَا تَكْرَهِينَ، وَلَكِنِ انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ» وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فِهْرٍ فِهْرِ قُرَيْشٍ، وَهُوَ مِنَ الْبَطْنِ الَّذِي هِيَ مِنْهُ، فَانْتَقَلْتُ إِلَيْهِ
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے آزاد کردہ غلام اسامہ بن زید کے لیے پیغامِ نکاح دیا، اور مجھے یہ بات بتائی گئی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو مجھ سے محبت کرے وہ اسامہ سے بھی محبت کرے۔“ تو جب رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے بات کی تو میں نے کہا: میرا معاملہ آپ کے ہاتھ میں ہے، جسے چاہیں میرا نکاح کر دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ام شریک کے ہاں منتقل ہو جاؤ، ام شریک ایک مالدار عورت ہے جو اللہ کی راہ میں بہت خرچ کرتی ہے، اس کے ہاں مہمان اترتے رہتے ہیں۔“ میں نے کہا: میں ایسا ہی کروں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرنا، کیونکہ ام شریک کے ہاں مہمانوں کی بہت آمد رہتی ہے، اور مجھے یہ ناپسند ہے کہ تمہاری اوڑھنی گر جائے، یا کپڑا تمہاری پنڈلیوں سے ہٹ جائے تو لوگ تمہاری وہ چیز دیکھ لیں جو تمہیں ناپسند ہو، بلکہ تم اپنے چچا زاد عبداللہ بن عمرو بن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہو جاؤ۔“ وہ بنو فہر — فہرِ قریش — میں سے ایک آدمی تھے، اور اسی قبیلے سے تھے جس سے فاطمہ خود تھیں، تو میں ان کے ہاں منتقل ہو گئی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21317
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 383، حدیث 949
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ الْجَوْهَرِيُّ، وَالْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ كَيْفَ كَانَ أَمْرُهَا؟ قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا جَمِيعًا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: زَعَمَ أَحْمَائِي أَنَّهُ لَيْسَ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً، قَالَ: «صَدَقُوا، اذْهَبِي فَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ» وَكَانَ أَعْمَى قَالَتْ: فَخَطَبَهَا أَبُو الْجَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ، وَمِنْ بَعْدِهِ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ، فَاسْتَشَارَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَمَا أَبُو جَهْمٍ فَضَرُوبٌ لِلنِّسَاءِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَمُمَلَّقٌ - يَعْنِي مُفْلِسَ - لَا يَمْلِكُ شَيْئًا، وَلَكِنْ أَيْنَ أَنْتِ عَنْ أُسَامَةَ؟» قُلْتُ: أَنْكِحُ أُسَامَةَ؟ قَالَ: «نَعَمِ انْكِحِي أُسَامَةَ»
ترجمہ
… میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ان کا معاملہ کیسا تھا؟ تو انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں اکٹھی دے دیں، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: میرے سسرالیوں کا خیال ہے کہ میرے لیے نہ رہائش ہے نہ نفقہ، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، جاؤ اور ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو۔“ وہ نابینا تھے۔ فاطمہ کہتی ہیں: پھر ابوجہم بن حذیفہ نے، اور عدت پوری ہونے کے بعد معاویہ نے، انہیں پیغامِ نکاح بھیجا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مشورہ لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک ابوجہم کا تعلق ہے تو وہ عورتوں کو بہت مارتا ہے، اور جہاں تک معاویہ کا تعلق ہے تو وہ نادار ہے — یعنی مفلس —، اس کے پاس کچھ نہیں، لیکن تم اسامہ کو کیوں نہیں اپناتیں؟“ میں نے عرض کیا: کیا میں اسامہ سے نکاح کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اسامہ سے نکاح کر لو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21318
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 383، حدیث 950
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ جَرِيرٍ الصُّورِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، «أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةً»
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ ”ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے دیں، تو نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے نہ رہائش مقرر کی نہ نفقہ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21319
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 384، حدیث 951
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، «أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَنًا وَلَا نَفَقَةً» قَالَ: وَزَوْجُهَا أَبُو حَفْصِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْمُغِيرَةِ
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ہم سے بیان کیا کہ ”ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے نہ رہائش مقرر کی نہ نفقہ۔“ عامر شعبی کہتے ہیں: اور ان کے شوہر ابوحفص بن عمرو بن مغیرہ تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21320
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 384، حدیث 952
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً»
ترجمہ
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے شوہر نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تین طلاقیں دے دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ رہائش ہے نہ نفقہ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21321
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 384، حدیث 953
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ زُرَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا، فَأَرَدْتُ النَّفَقَةَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ابْنِ عَمِّكِ فَاعْتَدِّي عِنْدَهُ»
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں، تو میں نے نفقہ چاہا، تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے چچا زاد ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جاؤ اور اس کے ہاں عدت گزارو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21322
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 385، حدیث 954
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرَ بْنِ سُفْيَانَ الرَّقِّيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، ثنا غَسَّانُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ حَكِيمٍ الْحَبَطِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، «أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ»
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”ان کے شوہر نے انہیں طلاق دے دی، تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں، تو آپ ﷺ نے انہیں ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21323
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 385، حدیث 955
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ أَبُو عَاصِمٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أُخْتِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ فَقُلْنَا: يَا فَاطِمَةُ حَدِّثِينَا حَدِيثًا سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: نَعَمْ فَأَطْعَمَتْنَا رُطَبًا، وَسَقَتْنَا شَرَابًا، وَقَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَعَاذَ النَّاسُ بِهِ ولاذُوا بِهِ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا أَجْلَسَنِي خَبَرٌ» قَالَتْ: وَفِي غَيْرِ السَّاعَةِ الَّتِي كَانَ يَجْلِسُ فِيهَا " أَنَّ تَمِيمَ الدَّارِ دَخَلَ عَلِيَّ الْيَوْمَ فِي الْهَاجِرَةِ أَوْ فِي الظَّهِيرَةِ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ بَنِي عَمٍّ لَهُ أَلْقَتْهُمُ سَفِينَةٌ لَهُمْ فِي الْبَحْرِ عَلَى جَزِيرَةٍ وَلَا يَعْرِفُونَهَا، فَخَرَجُوا فِيهَا يَمْشُونَ، فَلَقُوا شَيْئًا لَا يَدْرُونَ رَجُلًا هُوَ أَوِ امْرَأَةً مِمَّا عَلَيْهِ مِنَ الشَّعْرِ، فَقَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قَالُوا: أَخْبِرِينَا، قَالَتْ: لَا أُخْبِرُكُمْ وَلَا أَسْتَخْبِرُكُمْ، إِنْ كُنْتُمْ تُرِيدُونَ الْخَبَرَ فَعَلَيْكُمْ بِهَذَا الدَّيْرِ، وَأَشَارَتْ إِلَى دِيرٍ فِي الْجَزِيرَةِ غَيْرَ بَعِيدٍ، فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي حَتَّى دَخَلْنَا فَإِذَا رَجُلٌ مُوثَقٌ بِحَدِيدٍ كَبِيرٍ ثَقِيلٍ، وَإِذَا هُوَ مُسْتَنِدٌ ظَهْرُهُ إِلَى سَفْحِ جَبَلٍ، قَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا: أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ: مَا فَعَلَ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يُنْتَظَرُ؟ قُلْنَا: قَدْ خَرَجَ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ بَيْنَ عُمَانَ وَبَيْسَانَ؟ قُلْنَا: كَهَيْأَتِهِ يُطْعِمُ وَيُثْمِرُ، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرٍ؟ قُلْنَا: كَمَا هِيَ، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ؟ قُلْنَا: مَلْأَى، فَضَرَبَ بِيَدِهِ بَطْنَ قَدَمِهِ وَقَالَ: إِنِّي لَوْ قَدْ خَرَجْتُ مِنْ مَجْلِسِي هَذَا لَمْ أَدَعْ فِي الْأَرْضِ بُقْعَةً إِلَّا وَطَئْتُهَا، إِلَّا مَكَّةَ، وَطَيْبَةَ، قَالَ: ثُمَّ زَفَرَ فَسَارَ فِي الْجَبَلِ، ثُمَّ وَقَعَ، ثُمَّ سَارَ أُخْرَى أَبْعَدَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ وَقَعَ، ثُمَّ سَارَ الثَّالِثَةَ فَذَهَبَ فِي الْجَبَلِ، ثُمَّ وَقَعَ "، قَالَ: قُلْنَا: مَا لَهُ لَا بَارَكَ اللهُ فِيهِ، وَكَأَنَّهُ سَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ قَوْلُهُ: مَكَّةَ، وَطَيْبَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَيْبَةُ - مَرَّتَيْنِ - لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ، لَيْسَ مِنْهَا نَقْبٌ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ شَاهِرُ السَّيْفِ، وَمِنْ نَحْوِ الْيَمَنِ مَا هُوَ» ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ «وَكُمُّ قَمِيصِهِ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ مَرَّةٍ مِنْ نَحْوِ الْعِرَاقِ، وَمَا هُوَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ مَرَّةٍ»
ترجمہ
… فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے ہمیں کھجوریں کھلائیں اور مشروب پلایا، اور کہا: رسول اللہ ﷺ ایک دن باہر تشریف لائے اور منبر پر بیٹھ گئے، تو لوگ آپ کی طرف پناہ لینے اور آپ سے چمٹنے لگے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! مجھے صرف ایک خبر نے بٹھایا ہے۔“ فاطمہ کہتی ہیں: اور یہ اس وقت کے علاوہ تھا جس وقت آپ ﷺ عام طور پر بیٹھا کرتے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمیم داری آج دوپہر یا سخت گرمی کے وقت میرے پاس آیا، اس نے مجھے بتایا کہ اس کے چچازاد بھائیوں کو ان کے جہاز نے سمندر میں ایک جزیرے پر پھینک دیا جسے وہ پہچانتے نہ تھے، تو وہ اس میں چلتے ہوئے نکلے، تو انہیں ایک ایسی چیز ملی جس کے بارے میں انہیں معلوم نہ تھا کہ وہ مرد ہے یا عورت، کیونکہ وہ بالوں سے ڈھکی ہوئی تھی، انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں جساسہ ہوں، انہوں نے کہا: ہمیں خبر دو، اس نے کہا: میں نہ تمہیں خبر دوں گی نہ تم سے خبر پوچھوں گی، اگر تمہیں خبر چاہیے تو اس خانقاہ میں جاؤ، اور اس نے جزیرے میں تھوڑے فاصلے پر ایک خانقاہ کی طرف اشارہ کیا، تو ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم اس میں داخل ہوئے، تو وہاں ایک آدمی بڑی بھاری زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، اس کی پیٹھ پہاڑ کے دامن سے لگی ہوئی تھی، اس نے کہا: تم کون ہو؟ ہم نے کہا: عرب کے کچھ لوگ ہیں، اس نے کہا: اس امی نبی ﷺ کا کیا بنا جس کا انتظار کیا جا رہا تھا؟ ہم نے کہا: وہ ظاہر ہو چکے ہیں، اس نے کہا: عمان اور بیسان کے درمیان کھجور کے درختوں کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: جیسے تھے ویسے ہی ہیں، پھل دیتے اور پھلتے ہیں، اس نے کہا: زغر کے چشمے کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: جیسا تھا ویسا ہی ہے، اس نے کہا: طبریہ کی جھیل کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: بھری ہوئی ہے، تو اس نے اپنے پاؤں کے تلوے پر اپنا ہاتھ مارا اور کہا: اگر میں اپنی اس جگہ سے نکل جاؤں تو زمین کا کوئی حصہ ایسا نہیں چھوڑوں گا جسے میں نے نہ روندا ہو، سوائے مکہ اور طیبہ کے، پھر اس نے ایک آہ بھری اور پہاڑ میں چلنے لگا، پھر گر گیا، پھر اس سے زیادہ دور دوبارہ چلا، پھر گر گیا، پھر تیسری بار چلا اور پہاڑ میں چلا گیا، پھر گر گیا۔ ہم نے کہا: اسے کیا ہوا، اللہ اس میں برکت نہ دے، اور گویا رسول اللہ ﷺ کو اس کی یہ بات — مکہ اور طیبہ — پسند آئی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”طیبہ — دو بار فرمایا — میں دجال داخل نہیں ہو سکے گا، اس کا کوئی راستہ ایسا نہیں جس پر تلوار سونتے ہوئے ایک فرشتہ مقرر نہ ہو، اور یمن کی طرف سے بھی محفوظ ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا: ”اور اس کی قمیص کی آستین عراق کی طرف سے تقریباً تیس بار، اور وہ تیس بار کے قریب نہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21324
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 385، حدیث 956
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ الْإِسْوَارِيُّ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ الْعُطَارِدِيُّ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي: الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَاسْتَقْبَلَنَا بِوَجْهِهِ ضَاحِكًا، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي وَاللهِ مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ، إِلَّا لِحَدِيثٍ حَدَّثَنِي بِهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَتَانِي فَأَسْلَمَ، وَبَايَعَ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَكِبَ فِي ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ، وَجُذَامٍ وَهُمَا حَيَّانِ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَصادَفُوا الْبَحْرَ حِينَ اغْتَلَمَ فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا، ثُمَّ قَذَفَهُمْ قَرِيبًا مِنْ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، فَإِذَا نَحْنُ بِدايَةُ أَهْلَبٍ لَا يُعْرَفُ قُبُلُهَا مِنْ دُبُرِهَا، قُلْنَا: مَا أَنْتِ أَيُّهَا الدَّابَّةُ؟ فَأَذِنَ اللهُ فَكَلَّمَتْنا بِلِسَانٍ ذَلْقٍ طَلْقٍ، فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قُلْنَا: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَتْ: إِلَيْكُمْ عَنِّي عَلَيْكُمْ بِذَاكَ الدَّيْرِ فِي أَقْصَى الْجَزِيرَةِ، فَإِنَّ فِيهِ رَجُلًا هُوَ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، قَالَ: فَأَتَيْنَا الدَّيْرَ، فَإِذَا نَحْنُ بِرَجُلٍ أَعْظَمَ رَجُلٍ رَأَيْتُهُ قَطُّ، وَأَحْسَنَهُ جِسْمًا فَإِذَا هُوَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ نُخَامَةٌ فِي جِدَارٍ مُجَصَّصٍ، وَإِذْ يَدَاهُ مَغْلُولَتانِ إِلَى عُنُقَهِ، وَإِذْ رِجْلَاهُ مَشْدُودَتانِ بِالْكُبُولِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ إِلَى قَدَمَيْهِ، فَقُلْنَا لَهُ: مَا أَنْتَ أَيُّهَا الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: أَمَّا خَبَرِي فَقَدْ قَدَرْتُمْ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ أَخْبِرُونِي عَنْ خَبَرِكُمْ مَا أَوْقَعَكُمْ هَذِهِ الْجَزِيرَةَ؟ وَهَذِهِ الْجَزِيرَةُ لَمْ يَصِلُ إِلَيْهَا آدَمِيٌّ مُذْ خَرَجْتُ إِلَيْهَا، فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ مَا فَعَلَتْ؟ قُلْنَا: عَنْ أَيِّ أَمْرِهَا تَسْأَلُ؟ قَالَ: هَلْ نَضَبَ مَاؤُهَا؟ وَهَلْ بَدَا فِيهَا مِنَ الْعَجَائِبِ؟ قُلْنَا: لَا، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ ثُمَّ سَكَتَ مَلِيًّا، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرٍ مَا فَعَلَتْ؟ قُلْنَا: عَنْ أَيِّ أَمْرِهَا تَسْأَلُ؟ قَالَ: هَلْ يَحْتَرِثُ عَلَيْهَا أَهْلُهَا؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَيَغُورُ عَنْهَا مَاؤُهَا، ثُمَّ سَكَتَ مَلِيًّا، فَقَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَخِيلِ بَيْسَانَ مَا فَعَلَ؟ قُلْنَا لَهُ: عَنْ أَيِّ أَمْرِهَا تَسْأَلُ؟ قَالَ: هَلْ يُثْمِرُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا أَنَّهُ لَا يُثْمِرُ، ثُمَّ سَكَتَ مَلِيًّا فَقَالَ: أَخْبِرُونِي عَنِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ مَا فَعَلَ؟ قُلْنَا: عَنْ أَيِّ أَمْرِهِ تَسْأَلُ؟ قَالَ: هَلْ ظَهَرَ بَعْدُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا صَنَعَتْ مَعَهُ الْعَرَبُ؟ فَقُلْنَا لَهُ: مِنْهُمْ مَنْ قَاتَلَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّقَهُ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ مَنْ صَدَّقَهُ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ، فَقُلْنَا: أَخْبِرْنَا خَبَرَكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ، فَقَالَ: أَمَا تَعْرِفُونَنِي؟ قُلْنَا: لَوْ عَرَفْنَاكَ مَا سَأَلْنَاكَ، قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ، يُوشِكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، فَإِذَا خَرَجْتُ وَطْأَةُ جَزَائِرَ الْعَرَبِ كُلَّهَا غَيْرَ مَكَّةَ، وَطَيْبَةَ كُلَّمَا أَرَدْتُهُما اسْتَقْبَلَنِي مَلَكٌ بِيَدِهِ السَّيْفُ مُصْلِتًا فَرَدَّنِي عَنْهُمَا، قَالَ أَبُو الْأَشْهَبِ: قَالَ عَامِرٌ: قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَافِعًا يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ أَنَّ هَذِهِ طَيْبَةَ» ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ أَنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ» ثَلَاثًا، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ اسْتَراحَ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: " بَلْ هُوَ فِي بَحْرِ الْعِرَاقِ إِنْ يَخْرُجُ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَلْدَةٍ يُقَالُ لَهَا أَصْبَهَانُ، مِنْ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَاهَا، يُقَالُ لَهَا رِسْتَقَابَادُ وَيَخْرُجُ مَنْ يَخْرُجُ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ، مَعَهُ نَهْرَانِ نَهَرٌ مِنْ مَاءٍ وَنَهَرٌ مِنْ نَارٍ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَقِيلَ لَهُ: ادْخُلِ الْمَاءَ، فَلَا يَدْخُلُهُ فَإِنَّهُ نَارٌ، وَإِذَا قِيلَ لَهُ: ادْخُلِ النَّارَ، فَلْيَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ مَاءٌ "
ترجمہ
ابوالاشہب کہتے ہیں: عامر شعبی نے کہا: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ ہم نے آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھی، پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ یہ طیبہ ہے“ تین بار، پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ وہ شام کے سمندر میں ہے“ تین بار، پھر آپ ﷺ پر کچھ دیر کے لیے بے ہوشی سی طاری ہو گئی، پھر آپ نے سکون پایا، پھر یہ کیفیت دور ہوئی، تو فرمایا: ”بلکہ وہ عراق کے سمندر میں ہے، وہ اس وقت نکلے گا جب اصفہان نامی شہر کی ایک بستی سے نکلے گا، جسے رستقاباد کہا جاتا ہے، اور اس کے آگے آگے ستر ہزار لوگ نکلیں گے جو خاص چادریں اوڑھے ہوں گے، اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی، ایک پانی کی نہر اور ایک آگ کی نہر، تو تم میں سے جو اس زمانے کو پائے اور اسے کہا جائے: پانی میں داخل ہو جاؤ، تو وہ اس میں داخل نہ ہو کیونکہ وہ حقیقت میں آگ ہے، اور جب اسے کہا جائے: آگ میں داخل ہو جاؤ، تو وہ اس میں داخل ہو جائے کیونکہ وہ حقیقت میں پانی ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21325
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 386، حدیث 957
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ الْمُعَلِّمُ، حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ، شِعْبُ هَمْدَانَ أَنَّهُ سَأَلَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ، قَالَ: حَدِّثِينِي حَدِيثًا سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسْنِدِيهِ إِلَى أَحَدٍ غَيْرِكِ، قَالَتْ: لَئِنْ شِئْتَ لَأَفْعَلَنَّ، قَالَ لَهَا: أَجَلْ حَدِّثِينِي، قَالَتْ: سَمِعْتُ نِدَاءَ مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي: الصَّلَاةَ جَامِعَةً، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ فِي صَفِّ النِّسَاءِ الَّذِي يَلِي ظُهُورَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: «لِيَلْزَمَ كُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ» ، ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " إِنِّي وَاللهِ مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ لِأَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا، فَجَاءَ فَبَايَعَ وَأَسْلَمَ، وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْ مَسِيحِ الدَّجَّالِ، حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ، وَجُذَامٍ، فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْرِ، ثُمَّ ارْفَضُّوا إِلَى الْجَزِيرَةِ فِي الْبَحْرِ حَيْثُ مَغْرِبَ الشَّمْسِ، فَجَلَسُوا فِي قَارِبِ السَّفِينَةِ فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ، فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرَةُ الشَّعْرِ لَا يَدْرُونَ مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعْرِ، فَقَالُوا: وَيْلَكَ مَا أَنْتَ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قَالُوا: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَتْ: أَيُّهَا الْقَوْمُ، انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ، فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، قَالَ: فَلَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا، فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً، فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا حَتَّى دَخَلْنَا الدَّيْرَ، فَإِذَا فِيهِ أَعْظَمُ إِنْسَانٍ رَأَيْنَاهُ قَطُّ خَلْقًا، وأَشَدُّهُ وَثَاقًا، مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ، مَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى كَعْبَيْهِ بِالْحَدِيدِ، قُلْنَا: وَيْلَكَ مَا أَنْتَ؟ قَالَ: قَدْ قَدَرْتُمْ عَلَى خَبَرِي فَأَخْبِرُونِي مَا أَنْتُمْ؟ قَالُوا: أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ، رَكِبْنَا فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ، فَصَادَفْنَا الْبَحْرَ حِينَ اغْتَلَمَ، فَلَعِبَ بِنَا الْمَوْجُ شَهْرًا، ثُمَّ أَلْقَتْنا إِلَى جَزِيرَتِكَ هَذِهِ فَجَلَسْنَا فِي قَارِبِها فَدَخَلْنَا الْجَزِيرَةَ، فَلَقِينَا دَابَّةً أَهْلَبَ كَثِيرَةَ الشَّعْرِ، لَا نَدْرِي قُبُلَهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعْرِ، فَقُلْنَا: وَيْلَكِ مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قُلْنَا: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَتْ: اعْمَدُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ، فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، فَأَقْبَلْنَا إِلَيْكَ سِرَاعًا فَفَزِعْنَا مِنْهَا، وَمَا أَمِنَّا أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً، فَقَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ؟ قُلْنَا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: أَسْأَلُكُمْ عَنْ نَخْلِهَا، هَلْ يُثْمِرُ؟ قُلْنَا لَهُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا أَنَّهَا يُوشِكُ أَنْ لَا تُثْمِرَ، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ؟ قُلْنَا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: هَلْ فِيهَا مَاءٌ؟ قُلْنَا: هِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرٍ، قَالُوا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: هَلْ فِي الْعَيْنِ مَاءٌ، وَهَلْ يَزْرَعُ أَهْلُهَا بِمَاءِ الْعَيْنِ؟ قُلْنَا: نَعَمْ وَهِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ، وَأَهْلُهَا يَزْرَعُونَ بِمَائِهَا، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ مَا فَعَلَ؟ قَالُوا: خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ، وَنَزَلَ يَثْرِبَ، قَالَ: أَفَقَاتَلَهُ الْعَرَبُ؟، قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ صَنَعَ بِهِمْ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ ظَهْرَ عَلَى مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَطَاعُوهُ قَالَ لَهُمْ: لَقَدْ كَانَ ذَلِكَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا أَنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ أَنْ يَصْنَعُوهُ أَنْ يُطِيعُوهُ، إِنِّي مُخْبِرُكُمْ عَنِّي، إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ، وَأَنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، فَأَخْرُجُ فَأَسِيرُ فِي الْأَرْضِ، فَلَا أَدَعُ قَرْيَةً إِلَّا هَبَطْتُهَا فِي أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، غَيْرَ مَكَّةَ، وَطَيْبَةَ، وَهُمَا مُحَرَّمَتَانِ عَلِيَّ، كُلَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ وَاحِدَةً مِنْهُمَا اسْتَقْبَلَنِي مَلَكٌ بِيَدِهِ السَّيْفُ صَلْتًا يَصُدُّنِي عَنْهَا، وَإِنَّ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَائِكَةً يَحْرُسُونَهَا "، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَرَبَ بِمِخْصَرَتِهِ الْمِنْبَرَ: «هَذِهِ طَيْبَةُ، هَذِهِ طَيْبَةُ، هَذِهِ طَيْبَةُ - يَعْنِي الْمَدِينَةَ - أَلَا هَلْ كُنْتُ حَدَّثْتُكُمْ ذَلِكَ؟» فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَإِنَّمَا أَعْجَبَنِي حَدِيثُ تَمِيمٍ الدَّارِيُّ لِأَنَّهُ وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْهُ، وَعَنِ الْمَدِينَةِ، وَمَكَّةَ، أَلَا أَنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ، أَوْ بَحْرِ الْيَمَنِ، لَا بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، مَا هُوَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ» ، وأَوْمَا بِيَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ، قَالَتْ: حَفِظْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
… میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں تھی، اور میں عورتوں کی اس صف میں تھی جو لوگوں کی پشت کے قریب تھی، تو جب رسول اللہ ﷺ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو منبر پر بیٹھ گئے اور مسکرا رہے تھے، تو فرمایا: ”ہر شخص اپنی نماز کی جگہ پر ہی رہے۔“ پھر فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں کیوں جمع کیا؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے تمہیں نہ کسی رغبت کے لیے جمع کیا نہ کسی خوف کے لیے، بلکہ میں نے تمہیں اس لیے جمع کیا کہ تمیم داری ایک عیسائی آدمی تھا، وہ آیا، بیعت کی اور مسلمان ہو گیا، اور اس نے مجھے ایک ایسی حدیث سنائی جو اس بات سے موافقت رکھتی ہے جو میں تمہیں مسیح دجال کے بارے میں سنایا کرتا تھا، اس نے مجھے بتایا کہ وہ ایک سمندری جہاز میں لخم اور جذام کے تیس آدمیوں کے ساتھ سوار ہوا، تو لہریں انہیں ایک مہینے تک سمندر میں کھیلاتی رہیں، پھر وہ سمندر کے اس جزیرے کی طرف جا پہنچے جہاں سورج غروب ہوتا ہے، تو وہ جہاز کی کشتی میں بیٹھے اور جزیرے میں داخل ہوئے، وہاں انہیں ایک ایسا جانور ملا جس کے بہت بال تھے، انہیں بالوں کی کثرت کی وجہ سے معلوم نہ ہو سکا کہ اس کا اگلا حصہ کہاں ہے اور پچھلا کہاں، انہوں نے کہا: تیری خرابی ہو، تو کیا ہے؟ اس نے کہا: میں جساسہ ہوں، انہوں نے کہا: جساسہ کیا ہے؟ اس نے کہا: اے لوگو! اس خانقاہ میں اس آدمی کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ وہ تمہاری خبر کا شدت سے منتظر ہے، وہ کہتے ہیں: جب اس نے ہمیں ایک آدمی کا نام بتایا تو ہم اس سے ڈر گئے کہ کہیں یہ کوئی شیطانہ نہ ہو، تو ہم تیزی سے چلے یہاں تک کہ خانقاہ میں داخل ہوئے، تو وہاں ہم نے اب تک دیکھا ہوا سب سے بڑا اور سب سے سخت جکڑا ہوا انسان دیکھا، اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن سے بندھے ہوئے تھے، اور اس کے دونوں گھٹنوں سے ایڑیوں تک لوہے میں جکڑا ہوا تھا، ہم نے کہا: تیری خرابی ہو، تو کیا ہے؟ اس نے کہا: تم نے میری خبر تو حاصل کر لی، اب مجھے بتاؤ تم کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہم عرب کے کچھ لوگ ہیں، ہم ایک سمندری جہاز پر سوار ہوئے، تو ہمیں سمندر ایسے وقت میں ملا جب وہ طوفانی ہو چکا تھا، تو لہریں ہمیں ایک مہینے تک کھیلاتی رہیں، پھر انہوں نے ہمیں تمہارے اس جزیرے کی طرف پھینک دیا، تو ہم اس کی کشتی میں بیٹھے اور جزیرے میں داخل ہوئے، تو ہمیں ایک ایسا جانور ملا جس کے بہت بال تھے، ہمیں بالوں کی کثرت کی وجہ سے معلوم نہ ہو سکا کہ اس کا اگلا حصہ کہاں ہے اور پچھلا کہاں، ہم نے کہا: تیری خرابی ہو، تو کیا ہے؟ اس نے کہا: میں جساسہ ہوں، ہم نے کہا: جساسہ کیا ہے؟ اس نے کہا: اس آدمی کی طرف جاؤ، کیونکہ وہ تمہاری خبر کا شدت سے منتظر ہے، تو ہم تیزی سے تمہاری طرف آئے اور اس سے ڈر گئے، اور ہمیں یقین نہ تھا کہ کہیں یہ کوئی شیطانہ نہ ہو۔ اس نے کہا: مجھے بیسان کے کھجور کے درختوں کے بارے میں بتاؤ؟ ہم نے کہا: تم اس کے بارے میں کیا معلوم کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: میں تم سے اس کے پھل کے بارے میں پوچھتا ہوں، کیا وہ پھل دیتے ہیں؟ ہم نے اس سے کہا: ہاں، اس نے کہا: عنقریب وہ پھل دینا چھوڑ دیں گے۔ اس نے کہا: مجھے طبریہ کی جھیل کے بارے میں بتاؤ؟ ہم نے کہا: تم اس کے بارے میں کیا معلوم کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: کیا اس میں پانی ہے؟ ہم نے کہا: وہ پانی سے بھرپور ہے، اس نے کہا: مجھے زغر کے چشمے کے بارے میں بتاؤ؟ انہوں نے کہا: تم اس کے بارے میں کیا معلوم کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: کیا اس چشمے میں پانی ہے، اور کیا اس کے لوگ اس چشمے کے پانی سے کھیتی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں، اور وہ پانی سے بھرپور ہے، اور اس کے لوگ اسی کے پانی سے کھیتی کرتے ہیں، اس نے کہا: مجھے امی نبی کے بارے میں بتاؤ، اس نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: وہ مکہ سے نکلے اور یثرب میں مقیم ہوئے، اس نے کہا: کیا عربوں نے ان سے جنگ کی؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: اس نے ان کے ساتھ کیا کیا؟ تو ہم نے اسے بتایا کہ وہ اپنے آس پاس کے عربوں پر غالب آ گئے، تو انہوں نے ان کی اطاعت کی، اس نے ان سے کہا: کیا واقعی ایسا ہوا؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: ان کے لیے بہتر یہی تھا کہ وہ اس کی اطاعت کریں۔ میں تمہیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں، میں ہی مسیح دجال ہوں، اور عنقریب مجھے نکلنے کی اجازت دی جائے گی، تو میں نکلوں گا اور زمین میں چلوں گا، اور کوئی بستی نہیں چھوڑوں گا جس میں چالیس دن کے اندر نہ اتروں، سوائے مکہ اور طیبہ کے، یہ دونوں مجھ پر حرام ہیں، جب بھی میں ان میں سے کسی ایک میں داخل ہونا چاہوں گا، ایک فرشتہ ہاتھ میں ننگی تلوار لیے میرے سامنے آ کر مجھے اس سے روک دے گا، اور اس کے ہر راستے پر فرشتے اس کی حفاظت کر رہے ہوں گے۔“ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرماتے ہوئے اپنی چھڑی منبر پر ماری: ”یہ طیبہ ہے، یہ طیبہ ہے، یہ طیبہ ہے“ — یعنی مدینہ — ”کیا میں نے تمہیں یہ پہلے نہیں بتایا تھا؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے تمیم داری کی حدیث اس لیے اچھی لگی کہ وہ اس بات سے موافقت رکھتی ہے جو میں تمہیں اس کے، مدینہ کے اور مکہ کے بارے میں سنایا کرتا تھا، سنو! وہ شام کے سمندر یا یمن کے سمندر میں ہے — نہیں، بلکہ مشرق کی طرف ہے، وہ مشرق کی طرف ہے، وہ مشرق کی طرف ہے، وہ مشرق کی طرف ہے“، اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ فاطمہ کہتی ہیں: میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے یاد رکھی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21326
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 388، حدیث 958
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْقَيْسِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى: «الصَّلَاةَ جَامِعَةً» فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يُنَادِي فِيهَا، فَخَرَجَ النَّاسُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، ثُمَّ قَالَ: " أُنْذِرُكُمُ الدَّجَّالَ - ثَلَاثًا - إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِيمَا مَضَى، وَإِنَّهُ كَائِنٌ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ، وَإِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَكِبَ بَحْرَ الشَّامِ فِي نَفَرٍ مِنْ لَخْمٍ، وَجُذَامٍ فَأَلْقَتْهُمُ الرِّيحَ إِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِهِ، فَإِذَا هُمْ بِالدَّهْمَاءِ تَجُرُّ شَعْرَهَا، فَقَالُوا: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قَالُوا: أَخْبِرِينَا قَالَتْ: مَا أَنَا بِمُخْبِرِكُمْ وَلَا اسْتَخْبَرْتُكُمْ، وَلَكِنِ ائْتُوا رَجُلًا فِي هَذَا الدَّيْرِ فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، فَأَتَوْهُ فَإِذَا رَجُلٌ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مَوْثُوقٌ إِلَى سَارِيَةٍ فِي الْحَدِيدِ، فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ الْعَرَبُ، قَالَ: مَا فَعَلَتِ الْعَرَبُ؟ قُلْنَا: بُعِثَ إِلَيْهِمْ نَبِيٌّ أُمِّيٌّ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ النَّاسُ؟ قَالُوا: اتَّبَعَهُ قَوْمٌ وَتَرَكَهُ قَوْمٌ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُمْ إِنْ يَتَّبِعُونَهُ وَيُصَدِّقُونَهُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَتِ الْعَرَبُ؟ أَيُّ شَيْءٍ لِباسُهُمْ؟ قُلْنَا: صُوفٌ وَقُطْنٌ تَغْزِلُهُ نِسَاؤُهُمْ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَيْهَاتَ، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَتْ نَخْلُ بَيْسَانَ؟ قُلْنَا: قَوِيَ، ونَجِدُها فِي كُلِّ عَامٍ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَيْهَاتَ، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرٍ؟ قُلْنَا: كَثِيرٌ مَاؤُهَا يَتَدَفَّقُ يَرْوِي مَنْ أَتَاهَا، فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَيْهَاتَ، ثُمَّ قَالَ: لَوْ قَدْ أَطْلَقَنِي اللهُ مِنْ وَثَاقِي لَمْ يَبْقَ مَنْهَلٌ إِلَّا دَخَلْتُهُ إِلَّا مَكَّةَ وَطَيْبَةَ، فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي دُخُولُهُما "، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تِلْكَ مَكَّةُ، وَهَذِهِ طَيْبَةُ حَرَّمَهَا اللهُ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، أَمَا أَنَّهُ لَيْسَ نَقْبٌ، وَلَا سِكَّةٌ إِلَّا وَعَلَيْهَا مَلَكٌ شَاهِرٌ للسَّيْفِ يَمْنَعُهَا مِنَ الدَّجَّالِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے وقت میں ”الصلاۃ جامعۃ“ کی ندا کی جس وقت آپ ﷺ ندا نہیں کیا کرتے تھے، تو لوگ مسجد کی طرف نکلے، پھر نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور منبر پر چڑھے، پھر فرمایا: ”میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں“ — تین بار — ”وہ گزرے ہوئے زمانوں میں نہیں تھا، اور وہ تم میں، اے امت! ضرور ظاہر ہو گا، اور تمیم داری نے مجھے بتایا کہ وہ لخم اور جذام کے کچھ لوگوں کے ساتھ شام کے سمندر میں سوار ہوا، تو ہوا نے انہیں اس کے جزیروں میں سے ایک جزیرے کی طرف پھینک دیا، تو انہیں ایک سیاہ رنگ کی چیز ملی جو اپنے بال گھسیٹ رہی تھی، انہوں نے پوچھا: تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں جساسہ ہوں، انہوں نے کہا: ہمیں خبر دو، اس نے کہا: میں نہ تمہیں خبر دوں گی نہ تم سے خبر پوچھوں گی، لیکن اس خانقاہ میں ایک آدمی کے پاس جاؤ، کیونکہ وہ تمہاری خبر کا شدت سے منتظر ہے، تو وہ اس کے پاس گئے، وہاں ایک ایسا آدمی تھا جس کی آنکھ مٹی ہوئی تھی، ایک ستون سے لوہے میں جکڑا ہوا تھا، اس نے کہا: تم کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہم عرب ہیں، اس نے کہا: عربوں کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: ان کی طرف ایک امی نبی بھیجا گیا ہے جو انہیں اللہ کی طرف بلاتا ہے، اس نے کہا: پھر لوگوں نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: کچھ لوگوں نے اس کی پیروی کی اور کچھ نے اسے چھوڑ دیا، اس نے کہا: سنو، اگر وہ اس کی پیروی اور تصدیق کریں تو یہ ان کے لیے بہتر ہے، اگر وہ جانتے، پھر اس نے کہا: عربوں کا کیا حال ہے؟ وہ کیا پہنتے ہیں؟ ہم نے کہا: اون اور روئی جسے ان کی عورتیں کاتتی ہیں، تو اس نے اپنے ہاتھ سے اپنی ران پر مارا، پھر کہا: بعید ہے، پھر کہا: بیسان کے کھجور کے درختوں کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: مضبوط ہیں، اور ہمیں ہر سال ان کا پھل ملتا ہے، تو اس نے اپنے ہاتھ سے اپنی ران پر مارا، پھر کہا: بعید ہے، پھر کہا: زغر کے چشمے کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: اس کا پانی بہت زیادہ ہے، ابلتا رہتا ہے، جو بھی اس کے پاس آئے اسے سیراب کرتا ہے، تو اس نے اپنے ہاتھ سے اپنی ران پر مارا، پھر کہا: بعید ہے، پھر کہا: اگر اللہ مجھے میری اس قید سے آزاد کر دے تو کوئی چشمہ ایسا نہیں چھوڑوں گا جس میں داخل نہ ہوں، سوائے مکہ اور طیبہ کے، کیونکہ مجھے ان دونوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مکہ ہے، اور یہ طیبہ ہے، اللہ نے اسے اسی طرح حرم بنایا جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا، سنو! اس کا کوئی راستہ اور کوئی گلی ایسی نہیں جس پر ننگی تلوار لیے ایک فرشتہ نہ ہو جو قیامت تک اسے دجال سے بچاتا رہے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21327
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 391، حدیث 959
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: بَيْنَمَا النَّاسُ لَيْسَ لَهُمْ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، إِذْ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَفَزِعَ لِذَلِكَ النَّاسُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ قَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، لَمْ أَخْرُجُ لِأَمْرٍ أُفْزِعُكُمْ، وَلَكِنَّهُ أَتَانِي أَمَرٌ فَرِحْتُ لَهُ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُخْبِرُكُمْ بِفَرَحِ نَبِيِّكُمْ إِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ بَنِي عَمٍّ لَهُ رَكِبُوا الْبَحْرَ، فَانْتَهَتْ بِهِمْ سَفِينَتُهُمْ إِلَى جَزِيرَةٍ، لَا يَعْرِفُونَهَا فَخَرَجُوا يَمْشُونَ فَإِذَا هُمْ بإِنْسانٍ لَا يَدْرُونَ أَذَكَرٌ هُوَ أَمْ أُنْثَى مِنْ كَثْرَةِ الشَّعْرِ، قَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قَالُوا: فَحَدِّثِينا قَالَتْ: ائْتُوا الدَّيْرَ فَإِنَّ فِيهِ رَجُلًا بِالْأَشْوَاقِ إِلَى أَنْ تُحَدِّثُوهُ، فَدَخَلُوا الدَّيْرَ فَإِذَا هُمْ بِرَجُلٍ مُوثَقٍ يَتَأَوَّهُ شَدِيدُ التَّأَوُّهِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، قَالَ: فَخَرَجَ نَبِيُّهُمْ بَعْدُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا صَنَعَ؟ قَالُوا: بَايَعَهُ قَوْمٌ، وفَارَقَهُ قَوْمٌ فَقَاتَلَ مِنْ رِفاقِهِ بِمَنْ بَايَعَهُ حَتَّى أَعْطَاهُ أَهْلَ الْحَجَرِ، وَالْمَدَرِ، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ؟ قَالُوا: مُمْتَلِئَةٌ تَدْفُقُ جَنَبَاتُهَا، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرٍ؟ قَالُوا: تَدْفُقُ جَنَبَاتُهَا، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ بَيْنَ عُمَانَ، وَبَيْسَانَ؟ قَالُوا: يُطْعِمُ، قَالَ: لَوْ قَدْ أَفْلَتُّ مِنْ وَثَاقِي هَذَا لَقَدْ وَطِئْتُ الْأَرْضَ إِلَّا طَيْبَةَ "، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ طَيْبَةُ - مَرَّتَيْنِ - الْمَدِينَةُ مَا فِيهَا طَرِيقٌ، وَلَا مَوْضِعٌ ضَيِّقٌ، وَلَا وَاسِعٌ، سَهْلٌ، وَلَا صَعْبٌ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ شَاهِرٌ سَيْفَهُ، لَوْ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا لَضَرَبَ وَجْهَهُ بِالسَّيْفِ» ، قَالَ عَامِرٌ: فَلَقِيتُ مُحَرَّرُ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: هَلْ زَادَتْ فِيهِ شَيْئًا؟، فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: صَدَقَتْ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَنِي، وَزَادَنِي فِيهِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «بَحْرُ الشَّامِ مَا هُوَ؟ بَحْرُ الْعِرَاقِ مَا هُوَ؟» ، ثُمَّ أَهْوَى بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ عِشْرِينَ مَرَّةً فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ: هَلْ زادَتْكَ فِيهِ شَيْئًا؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: صَدَقَتْ أَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْنِي، وَلَكِنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَبِالْمَدِينَةِ مَا فِيهَا»
ترجمہ
… اس نے پوچھا: عمان اور بیسان کے درمیان کھجور کے درختوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: پھل دیتے ہیں، اس نے کہا: اگر میں اپنی اس قید سے آزاد ہو جاؤں تو زمین کے ہر حصے کو روند ڈالوں، سوائے طیبہ کے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ طیبہ ہے“ — دو بار — ”مدینہ میں کوئی راستہ نہیں، کوئی تنگ یا کشادہ جگہ نہیں، کوئی ہموار یا مشکل جگہ نہیں، مگر اس پر ننگی تلوار لیے ایک فرشتہ مقرر ہے، اگر وہ دجال اس میں داخل ہونا چاہے تو وہ اس کے چہرے پر تلوار سے وار کرے گا۔“ عامر کہتے ہیں: پھر میں محرر بن ابی ہریرہ سے ملا اور انہیں یہ بات سنائی، تو انہوں نے پوچھا: کیا اس میں کوئی اضافہ ہوا؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا، میں گواہی دیتا ہوں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی، اور اس میں کچھ اضافہ بھی کیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”شام کا سمندر کیا ہے؟ عراق کا سمندر کیا ہے؟“ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے بیس بار مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ پھر میں عبداللہ بن ابی بکر سے ملا اور انہیں یہ بات سنائی، تو انہوں نے پوچھا: کیا اس نے تمہیں کوئی اضافہ بتایا؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا، میں گواہی دیتا ہوں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ حدیث سنائی، لیکن انہوں نے یہ کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور مدینہ میں جو کچھ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21328
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 392، حدیث 960
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا مُجَالِدٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ، فَصَلَّى صَلَاةَ الْهَاجِرَةِ، ثُمَّ قَعَدَ فَفَزِعَ النَّاسُ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي لَمْ أَقُمْ مَقَامِي هَذَا للفَزَعِ، وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي خَبَرًا مَنَعَ مِنِّي الْقَيْلُولَةَ مَعَ الْفَرَحِ، وَقُرَّةِ الْعَيْنِ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُبَشِّرَكُمْ بِفَرَحِ نَبِيِّكُمْ، أَخْبَرَنِي أَنَّ رَهْطًا مِنْ بَنِي عَمِّهِ رَكِبُوا الْبَحْرَ، فَأَصَابَهُمْ عَاصِفٌ فَأَلْجَأَتْهُمْ إِلَى جَزِيرَةٍ، فَقَعَدُوا فِي قَرَبِ سَفِينَةٍ حَتَّى خَرَجُوا إِلَى الْجَزِيرَةِ، فَإِذَا هُمْ بِشَيْءٍ أَهْلَبَ كَثِيرِ الشَّعْرِ، لَا يَدْرُونَ رَجُلٌ هُوَ أَوِ امْرَأَةٌ، فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِمْ، قَالُوا: أَلَا تُخْبِرُنَا؟ قَالَ: مَا أَنَا بِمُخْبِرِكُمْ، وَلَا مُسْتَخْبِرِكُمْ، وَلَكِنَّ هَذَا الدَّيْرَ قَدْ رَأَيْتُمُوهُ، فَفِيهِ مَنْ هُوَ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَأَنْ يَسْتَخْبِرَكُمْ، قُلْنَا: فَمَا أَنْتَ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى أَتَوُا الدَّيْرَ فَإِذَا هُمْ بِرَجُلٍ مُوثَقٍ فِي الْحَدِيدِ، شَدِيدِ الْوَثَاقِ مُظْهِرِ الْحُزْنِ، كَثِيرِ التَّشَكِّي، فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا: مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ: مَا فَعَلَتِ الْعَرَبُ، أَخْرَجَ نَبِيُّهُمْ بَعْدُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا فَعَلُوا؟ قُلْنَا: خَيْرًا، آمَنُوا بِهِ وَاتَّبَعُوهُ وَصَدَّقُوهُ، قَالَ: ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ، قَالُوا: وَكَانَ لَهُ أَعْدَاءٌ فَأَظْهَرَهُ اللهُ عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَالْعَرَبُ إِلَهُهُمْ وَاحِدٌ، وَكَلِمَتُهُمْ وَاحِدَةٌ، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرٍ؟ قَالُوا: هِيَ طَافِحَةٌ يَشْرَبُ أَهْلُهَا سَقْيَهُمْ، وَيَسْقُونَ مِنْهَا زَرْعَهُمْ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ بَيْنَ عُمَانَ، وَبَيْسَانَ؟ قَالُوا: يُطْعِمُ جَنَاهُ كُلَّ عَامٍ، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ؟ قَالُوا: هِيَ مَلْأَى، قَالَ: فَزَفَرَ، ثُمَّ زَفَرَ، ثُمَّ حَلَفَ، لَوْ قَدْ خَرَجْتُ مِنْ مَكَانِي هَذَا مَا تَرَكْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ اللهِ إِلَّا وَطَأْتُها غَيْرَ طَيْبَةَ، لَيْسَ لِي عَلَيْهَا سُلْطَانٌ "، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا مِمَّا أَفَرَحَنِي - قَالَهَا ثَلَاثًا - إِنَّ طَيْبَةَ هِيَ الْمَدِينَةُ، ثُمَّ إِنَّ اللهَ حَرَّمَ حَرَمَيَّ عَلَى الدَّجَّالِ» ثُمَّ حَلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا لَهَا طَرِيقٌ ضَيِّقٌ، وَلَا وَاسِعٌ سَهْلٌ، وَلَا جَبَلٌ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ شَاهِرٌ بِالسَّيْفِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، مَا يَسْتَطِيعُ الدَّجَّالُ أَنْ يَدْخُلَهَا عَلَى أَهْلِهَا» ، قَالَ: قَالَ الشَّعْبِيُّ: فَلَقِيتُ الْمُحَرَّرَ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَ فَاطِمَةَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ حَدَّثَنِي كَمَا حَدَّثَتْكَ فَاطِمَةُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «هُوَ فِي الْمَشْرِقِ» ، ثُمَّ لَقِيتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْنِي كَمَا حَدَّثَتْكَ فَاطِمَةُ غَيْرَ أَنَّهَا قَالَتْ: «الْحَرَمَانِ عَلَيْهِ حَرَامٌ مَكَّةُ، وَالْمَدِينَةُ» ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَالْآخَرُونَ نَحْوَهُ
ترجمہ
… پھر اس نے ایک آہ بھری، پھر قسم کھائی: اگر میں اپنی اس جگہ سے نکل جاؤں تو اللہ کی زمین میں سے کوئی زمین ایسی نہیں چھوڑوں گا جسے میں نے نہ روندا ہو، سوائے طیبہ کے، کیونکہ اس پر میرا کوئی اختیار نہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بات مجھے بہت خوش کرنے والی ہے“ — تین بار فرمایا — ”طیبہ ہی مدینہ ہے، پھر اللہ نے میرے دونوں حرموں کو دجال پر حرام کر دیا ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے قسم کھائی: ”اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی تنگ راستہ نہیں، کوئی کشادہ ہموار جگہ نہیں، کوئی پہاڑ نہیں مگر اس پر قیامت تک ننگی تلوار لیے ایک فرشتہ مقرر ہے، دجال اس کے باشندوں پر اس میں داخل نہیں ہو سکتا۔“ شعبی کہتے ہیں: پھر میں محرر بن ابی ہریرہ سے ملا اور انہیں فاطمہ کی حدیث سنائی، تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد نے مجھے یہی حدیث سنائی جیسے فاطمہ نے تمہیں سنائی، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: ”وہ مشرق میں ہے۔“ پھر میں قاسم بن محمد سے ملا، تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہی حدیث سنائی جیسے فاطمہ نے تمہیں سنائی، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: ”دونوں حرم اس پر حرام ہیں: مکہ اور مدینہ۔“ یہ الفاظ یحییٰ بن سعید کی روایت کے ہیں، اور باقی راویوں نے بھی اسی جیسی روایت کی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21329
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 393، حدیث 961
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْباعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، وَعَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ الْمِصْرِيُّونَ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، حَدَّثَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ قَوْمِهِ كَانُوا فِي الْبَحْرِ فِي سَفِينَةٍ لَهُمْ، فَانْكَسَرَتْ فَرَكِبَ بَعْضُهُمْ عَلَى لَوْحٍ مِنَ السَّفِينَةِ، فَخَرَجُوا إِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ، فَإِذَا هُمْ بِامْرَأَةٍ شَعْثَةٍ سَوْدَاءَ لَهَا شَعَرٌ مُنْكَرٌ، فَقَالُوا: مَا أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، أَتَعْجَبُونَ مِنِّي؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَتْ: فَادْخُلُوا الْقَصْرَ، فَدَخَلُوا فَإِذَا شَيْخٌ مَرْبُوطٌ بسلاسلَ فَسَأَلَهُمْ مَنْ هُمْ؟ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرٍ؟ وَمَا فَعَلَتِ الْبُحَيْرَةُ، ونَخَلَاتُ بَيْسَانَ؟ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَا يَبْقَى أَرْضٌ إِلَّا وَطَأْتُها بِقَدَمِي إِلَّا طَيْبَةُ " فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَذِهِ طَيْبَةُ»
ترجمہ
… اور بیسان کے کھجور کے درخت؟ انہوں نے اسے بتایا، تو اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس کی قسم کھائی جاتی ہے، کوئی زمین نہیں بچے گی مگر میں اسے اپنے قدم سے روند ڈالوں گا، سوائے طیبہ کے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور یہ طیبہ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21330
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 395، حدیث 962
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا وَضَّاحُ بْنُ يَحْيَى النَّهْشَلِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَقَرَّبَتْ إِلَيَّ رُطَبًا مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَالِبٍ، فَأَكَلْتُ فَقَالَتْ: بَيْنَا أَنَا جَالِسَةٌ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ، قَالَتْ: وَدَعَوْتُ لِأَسْمَعَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَيُّهَا النَّاسُ، لَمْ أَجْمَعُكُمْ عَنْ خَبَرٍ جَاءَنِي مِنْ قِبَلِ عَدُوٍّ لَكُمْ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَنَّ بَنِي عَمٍّ لَهُ رَكِبُوا الْبَحْرَ، فَأَصَابَتْهُمْ رِيحٌ لَا يَدْرُونَ أَشَرَّقُوا أَمْ غَرَّبُوا، فَأَرْسَوْا إِلَى جَزِيرَةٍ فَخَرَجُوا يَمْشُونَ فِيهَا، فَإِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ تَجُرُّ شَعْرَهَا، قَالُوا: مَا هَذِهِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قَالُوا: فَمَا الْخَبَرُ؟ قَالَتْ: الْخَبَرُ عِنْدَ صَاحِبِ الدِّيرِ، فَذَهَبُوا إِلَى الدِّيرِ فَإِذَا هُمْ بِالدَّجَّالِ يَعْرِفُونَهُ مُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَدْ بُعِثَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: مَا فَعَلَتِ الْبُحَيْرِيَةُ الطَّبَرِيَّةُ؟ فَأَخْبَرُوهُ عَنْهَا، قَالَ: مَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ؟ فَأَخْبَرُوهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرٍ؟ فَأَخْبَرُوهُ عَنْهَا، فَأَشَارَ إِلَى رِجْلَيْهِ فَقَالَ: تَرَوْنَ رِجْلَيَّ هَاتَيْنِ، لَا تَبْقَى أَرْضٌ مِنْ أَرْضِ اللهِ إِلَّا وَطَأْتُهُمَا بِهِمَا، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مَكَّةَ، وَطَيْبَةَ، وَهُوَ فِي الْبَحْرِ بَيْنَ الْمَشْرِقِ، وَالْمَغْرِبِ وَهُوَ إِلَى الْمَشْرِقِ أَقْرَبُ " وَلَفْظُهُمَا وَاحِدٌ
ترجمہ
عامر شعبی کہتے ہیں: میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو انہوں نے ابن طالب کی کھجوروں میں سے تازہ کھجوریں پیش کیں، میں نے کھائیں، تو انہوں نے کہا: میں مسجد میں بیٹھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور منبر پر بیٹھ گئے، تو لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے، فاطمہ کہتی ہیں: اور میں نے دعا کی تاکہ سن سکوں، تو میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اے لوگو! میں نے تمہیں کسی ایسی خبر کی وجہ سے جمع نہیں کیا جو تمہارے کسی دشمن کی طرف سے آئی ہو، بلکہ مجھے تمیم داری نے بتایا کہ اس کے کچھ چچازاد بھائی سمندر میں سوار ہوئے، تو انہیں ایک ایسی ہوا نے آ لیا کہ انہیں معلوم نہ ہو سکا کہ وہ مشرق کی طرف گئے یا مغرب کی طرف، تو وہ ایک جزیرے پر لنگر انداز ہوئے اور اس میں چلنے لگے، تو انہیں ایک ایسا جانور ملا جو اپنے بال گھسیٹ رہا تھا، انہوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: میں جساسہ ہوں، انہوں نے کہا: خبر کیا ہے؟ اس نے کہا: خبر خانقاہ کے مالک کے پاس ہے، تو وہ خانقاہ کی طرف گئے، وہاں انہوں نے دجال کو دیکھا اور پہچان لیا، وہ لوہے میں جکڑا ہوا تھا، اس نے کہا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: محمد ﷺ کی امت میں سے ہیں، اس نے کہا: کیا وہ مبعوث ہو چکے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: طبریہ کی جھیل کا کیا حال ہے؟ تو انہوں نے اسے بتایا، اس نے کہا: بیسان کے کھجور کے درختوں کا کیا حال ہے؟ تو انہوں نے اسے بتایا، اس نے کہا: زغر کے چشمے کا کیا حال ہے؟ تو انہوں نے اسے بتایا، تو اس نے اپنے دونوں پاؤں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: تم میرے یہ دونوں پاؤں دیکھ رہے ہو، اللہ کی زمین میں سے کوئی زمین ایسی نہیں بچے گی جسے میں ان سے نہ روند ڈالوں، سوائے مکہ اور طیبہ کے، اور وہ مشرق اور مغرب کے درمیان سمندر میں ہے، اور وہ مشرق کے زیادہ قریب ہے۔“ اور دونوں راویوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21331
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 396، حدیث 963
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، وَأَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ الْفِهْرِيَّةِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ مُسْرِعًا، حَتَّى صَعِدَ الْمِنْبَرَ وَنُودِيَ فِي النَّاسِ: الصَّلَاةَ جَامِعَةً، فَخَطَبَهُمْ فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَدْعُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ نَزَلَتْ، وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ قَوْمًا مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ رَكِبُوا الْبَحْرَ، فَأَلْقَتْهُمُ الرِّيحُ إِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، فَإِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ أَشْعُرُ، لَا نَدْرِي أَذَكَرٌ هُوَ أَمْ أُنْثَى لِكَثْرَةِ شَعْرِهَا، فَقَالُوا: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قَالُوا: فَأَخْبِرِينَا، قَالَتْ: مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ، وَلَا مُسْتَخْبِرَتِكُمْ، وَلَكِنْ فِي هَذَا الدَّيْرِ رَجُلٌ هُوَ إِلَى أَنْ يُخْبِرَكُمْ وتَسْتَخْبِرُونَهُ بِالْأَشْوَاقِ، فَدَخَلُوا الدَّيْرَ فَإِذَا هُمْ بِالرَّجُلِ مُصَفَّدٌ بِالْحَدِيدِ، فَقَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ: ظَهَرَ مِنْكُمُ النَّبِيُّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَاتَّبَعَتْهُ الْعَرَبُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا أَنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ، قَالَ: هَلْ ظَهَرَ عَلَى فَارِسَ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرٍ؟ قَالُوا: هِيَ تَتَدَفَّقُ مَلْأَى، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ؟ قَالُوا: هِيَ تَتَدَفَّقُ مَلْأَى، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ؟ قَالُوا: قَدْ أَطْعَمَ أَوَائِلَهُ فَوَثَبَ حَتَّى ظَنُّوا أَنَّهُ سَيُفْلِتُ مِنْ قُيُودِهِ، وَقَالَ لَهُمْ: أَنَا الدَّجَّالُ، أَمَا أَنِّي سَأَطَأُ الْأَرْضَ كُلَّهَا إِلَّا مَكَّةَ وَطَيْبَةَ "، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْشِرُوا - فَبَشَّرَ الْمُسْلِمِينَ - هَذِهِ طَيْبَةُ لَا يَدْخُلُهَا» ،
ترجمہ
… اس کے پہلے پھل کھلائے تو وہ اچھل پڑا یہاں تک کہ انہیں لگا کہ وہ اپنی زنجیروں سے چھوٹ جائے گا، اور اس نے ان سے کہا: میں دجال ہوں، سنو، میں ساری زمین روند ڈالوں گا سوائے مکہ اور طیبہ کے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خوشخبری سنو“ — تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کو خوشخبری دی — ”یہ طیبہ ہے، وہ اس میں داخل نہیں ہو سکے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21332
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 397، حدیث 964
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21333
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 397، حدیث 965
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ الْفِهْرِيَّةِ، قَالَتْ: نُودِيَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّلَاةَ جَامِعَةً، فَخَرَجْنَا فَجَلَسْنَا خَلْفَ أَكْتَافِ الرِّجَالِ، قَالَتْ: فَصَعِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا إِنَّ أَخَاكُمْ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، حَدَّثَنِي عَنْ بَنِي عَمٍّ لَهُ رَكِبُوا الْبَحْرَ، فَذَهَبَتْ بِهِمُ الرِّيحَ حَتَّى أَلْجَأَتْهُمْ إِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، فَخَرَجُوا يَسْأَلُونَ عَنِ الطَّرِيقِ، فَلَقُوا خَلْقًا مِنْ خَلْقِ اللهِ لَمْ يَرَوْا قَبْلَهُ شَيْئًا أَعْظَمَ مِنْهُ، لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا نَسْجَ بَنُو آدَمَ، وَقَدْ كَسَاهُ الشَّعْرُ، قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الطَّرِيقِ فَقَالَ: إِنْ كُنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَسْأَلُوا عَنِ الطَّرِيقِ مَنْ يُخْبِرُكُمْ، ويَشْتَهِي حَدِيثَكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِهَذَا الدَّيْرِ، فَقُلْنَا: أَخْبِرِينَا مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الدَّسَّاسَةُ، فَعَرَفْنَا أَنَّهَا امْرَأَةٌ، فَمَضَيْنَا إِلَى الدَّيْرِ، فَدَخَلْناهُ فَإِذَا خَلَقٌ لَمْ نَرَ قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهُ، مَمْلُوءًا مَا بَيْنَ تَرَاقِيهِ إِلَى كَعْبَيْهِ، حَدِيدًا، مَمْسُوحَ الْعَيْنِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الطَّرِيقِ، فَقَالَ: مَا أَنَا مُحَدِّثُكُمْ حَتَّى تُحَدِّثُونِي عَمَّا أَسْأَلُكُمْ عَنْهُ، قُلْنَا: سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَبِيِّ الْعَرَبِ هَلْ خَرَجَ بَعْدُ؟ فَقُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: إِلَى مَ يَدْعُو؟ فَأَخْبَرْنَاهُ، قَالَ: كَيْفَ سُرْعَةُ النَّاسِ إِلَى مَا دَعَاهُمْ إِلَيْهِ؟ قُلْنَا: سِرَاعٌ، قَالَ: ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ مَا فَعَلَتْ؟ قُلْنَا: تَطْفَحُ، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرٍ؟ قُلْنَا: تَطْفَحُ، قَالَ: سَلُوا عَمَّا بَدَا لَكُمْ، قَالَ: قُلْنَا لَهُ: مَا أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَبْقَى أَرْضٌ مِنْ أَرْضِ اللهِ إِلَّا وَطَأْتُها بِقَدَمَيَّ هَاتَيْنِ إِلَّا طَيْبَةُ " ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ طَيْبَةُ» يَعْنِي الْمَدِينَةَ
ترجمہ
… اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ کی زمین میں سے کوئی زمین ایسی نہیں بچے گی جسے میں اپنے ان دونوں قدموں سے نہ روند ڈالوں، سوائے طیبہ کے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ طیبہ ہے“ یعنی مدینہ۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21334
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 398، حدیث 966
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ الرَّقِّيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَجَلَسَ إِلَيَّ فَقَالَ: هَلْ تَدُلُّنِي عَلَى رَجُلٍ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَقَالَتْ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَسَمِعَ النَّاسُ أَنَّهُ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَأَقْبَلَ النَّاسُ يَشْتَدُّونَ، وَكُنْتُ مِمَّنْ أَتَاهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " حَدَّثَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَنَّ بَنِي عَمٍّ لَهُ رَكِبُوا فِي سَفِينَةٍ لَهُمْ فِي الْبَحْرِ تُجَّارًا، فَضَرَبَتْ بِهِمُ الرِّيحُ إِلَى جَزِيرَةٍ فَخَرَجُوا أَوْ مَنْ خَرَجَ مِنْهُمْ هَلْ يَرَوْنَ أَحَدًا؟ حَتَّى لَقِيَهُمْ مَنْ غَطَّاهُ الشَّعْرُ مَا يَسْتَبِينُ مِنْهُ ذَاكَ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى، قَالُوا: الْخَبَرُ، قَالَ: الْخَبَرُ عِنْدَ صَاحِبِ هَذَا الدَّيْرِ، فَأَنَا الْجَسَّاسُ، فَأَتَوُا الدَّيْرَ فَإِذَا رَجُلٌ مُوقَرٌ بِالْحَدِيدِ، فَسَأَلَهُمْ مِمَّنْ هُمْ؟ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ نَبِيُّ الْعَرَبِ أَخْرَجَ بَعْدُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: مَنْ يَتْبَعُهُ السَّفَلَةُ أَمْ أَشْرَافُ النَّاسِ، قَالُوا: يَتْبَعُهُ السُّفَهَاءُ، قَالَ: يَكْثُرُونَ أَمْ يَقِلُّونَ؟ قَالُوا: يَكْثُرُونَ، قَالَ: يَرْجِعُ أَحَدٌ مِمَّنْ أَتَاهُ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ، مَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ هَلْ فِيهَا مَاءٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: مَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ هَلْ تَحْمِلُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرٍ هَلْ فِيهَا مَاءٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا أَنَّهُ لَوْ قَدْ آذَنَ لِي لَقَدْ وَطَأْتُ بِرِجْلِي هَذِهِ الْأَرْضَ كُلَّهَا غَيْرَ طَيْبَةَ "، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَذِهِ طَيْبَةُ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكٌ شَاهِرٌ سَيْفَهُ نَحْوَ الْعِرَاقِ، مَا هُوَ نَحْوَ الْعِرَاقِ مَا هُوَ»
ترجمہ
… اس نے کہا: زغر کے چشمے کا کیا حال ہے، کیا اس میں پانی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: سنو، اگر مجھے اجازت دے دی جائے تو میں اپنے پاؤں سے یہ ساری زمین روند ڈالوں گا سوائے طیبہ کے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور یہ طیبہ ہے، اس کے ہر راستے پر ایک فرشتہ تلوار سونتے ہوئے عراق کی طرف کھڑا ہے، وہ عراق کی طرف ہے، وہ عراق کی طرف ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21335
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 399، حدیث 967
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا حَبِيبُ بْنُ بِشْرٍ، أَخُو أَبِي الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيِّ لِأُمِّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَأَتْحَفَتْنَا بِرُطَبٍ، وَشَبَّعَتْنا سَوِيقَ سَلْتٍ وَقَالَتْ: نُودِيَ فِي النَّاسِ: أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، فَانْطَلَقْتُ فِيمَنِ انْطَلَقَ مِنَ النِّسَاءِ، فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ مِنَ النِّسَاءِ، مِمَّا يَلِي الصَّفَّ الْمُؤَخَّرِ مِنَ الرِّجَالِ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ بَنِي عَمٍّ لِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَكِبُوا فِي الْبَحْرِ، وَإِنَّ سَفِينَتَهُمْ قَذَفَتْهُمْ إِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَرَأَوْا هُنَاكَ دَابَّةً يُوَارِيهَا شَعْرُهَا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا الْقَوْمُ، قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، وَإِنَّ فِي ذَلِكَ الدَّيْرِ مَنْ هُوَ بِالْأَشْوَاقِ إِلَى رُؤْيَتِكُمْ فَانْطَلَقَ الْقَوْمُ فَوَجَدُوا إِنْسَانًا مُكَبَّلًا بِالْحَدِيدِ يُصادِرُونَهُ، فَكَأَنَّهُ أَعْجَبَهُ دُخُولُهُمْ فَسَأَلَهُمْ أَخْرَجَ صَاحِبُكُمْ بَعْدُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ مَا فَعَلَ؟ قُلْنَا: كَثِيرَةُ الْمَاءِ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ؟ قُلْنَا: قَدْ أَطْعَمَ، قَالَ: فَعَيْنُ زُغَرٍ؟ قُلْنَا: كَثِيرَةُ الْمَاءِ، قَالَ: أَمَا أَنِّي لَوْ خَرَجْتُ لَوَطَأْتُ الْبِلَادَ كُلَّهَا غَيْرَ مَكَّةَ، وَطَيْبَةَ "، قَالَتْ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَشْخَصَ يَدَهُ: «هَذِهِ طَيْبَةُ يُومِئُ إِلَى الْمَدِينَةِ»
ترجمہ
… اس نے کہا: سنو، اگر میں نکل جاؤں تو تمام شہروں کو روند ڈالوں گا سوائے مکہ اور طیبہ کے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: گویا میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہی ہوں کہ آپ نے اپنا ہاتھ بلند کیا: ”یہ طیبہ ہے“ اور مدینہ کی طرف اشارہ کیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21336
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 400، حدیث 968
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَقَرَّبَتْ إِلَيَّ تَمْرًا، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا لَطَيِّبٌ، فَقَالَتْ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: عَامِرٌ، فَقَالَتْ: الشَّعْبِيُّ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: حَدِّثِينِي حَدِيثًا سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: قَامَ يَوْمًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَمْ يَأْتِنِي خَبَرٌ مِنْ عَدُوِّكُمْ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ رَكِبُوا الْبَحْرَ فَعَصَفَتِ الرِّيحُ فَأَضَافَتْهُمْ إِلَى جَزِيرَةٍ، فَنَزَلُوا فَإِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ تَجُرُّ شَعْرَهَا، فَقُلْنَا: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، وَالدَّسَّاسَةُ، قَالَتْ: انْطَلِقُوا إِلَى ذَاكَ الدَّيْرِ فَإِنَّ ثَمَّ الْخَبَرَ، وَإِذْ دَيْرٌ قَرِيبٌ قَالُوا: فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا الدَّجَّالُ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ فَقَالُوا: مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرِحَ، وَقَالَ: أَوَقَدْ بُعِثَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ سَأَلَهُمْ عَنْ عَيْنِ زُغَرٍ، وطَبَرِيَّةَ، وَعَنْ نَخَلَاتِ بَيْسَانَ، ثُمَّ شالَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ فَإِذَا هُمَا مُقَيَّدَتانِ فَقَالَ: لَوْ قَدْ أُطْلِقَتْ هَذِهِ لَوَطَأْتُ الْأَرْضَ بِهَا إِلَّا مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةَ "،
ترجمہ
عامر شعبی کہتے ہیں: میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو انہوں نے میرے سامنے کھجوریں رکھیں، میں نے کہا: یہ تو بہت اچھی ہیں، تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: عامر، انہوں نے کہا: شعبی؟ میں نے کہا: جی ہاں، میں نے کہا: مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: ایک دن آپ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے تو لوگ جمع ہو گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! مجھے تمہارے دشمن کی طرف سے کوئی خبر نہیں آئی، بلکہ مجھے تمیم داری نے بتایا کہ اس کی قوم کے کچھ لوگ سمندر میں سوار ہوئے، تو تیز ہوا نے انہیں ایک جزیرے کی طرف پہنچا دیا، تو وہ اترے، وہاں انہیں ایک ایسا جانور ملا جو اپنے بال گھسیٹ رہا تھا، تو ہم نے کہا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں جساسہ اور داسہ ہوں، اس نے کہا: اس خانقاہ کی طرف جاؤ، وہاں خبر ملے گی، اور خانقاہ قریب ہی تھی، انہوں نے کہا: تو ہم چل پڑے، وہاں دجال تھا، اس نے کہا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: محمد ﷺ کی امت میں سے، تو وہ خوش ہوا اور کہا: کیا محمد ﷺ مبعوث ہو چکے ہیں؟ پھر اس نے ان سے زغر کے چشمے، طبریہ اور بیسان کے کھجور کے درختوں کے بارے میں پوچھا، پھر اس نے اپنی ایک ٹانگ اٹھائی تو وہ دونوں زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھیں، اس نے کہا: اگر یہ کھول دی جائیں تو میں انہی سے ساری زمین روند ڈالوں، سوائے مکہ اور مدینہ کے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21337
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 401، حدیث 969
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، وعَلَّانُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ مَاغَمَةَ، وَالْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَقْتٍ لَمْ يَكُنْ يَخْطُبُنَا فِي مِثْلِهِ، فَقَالَ: " مَا خَطَبْتُكُمْ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا بِخَبَرٍ أَتَانِي، أَخْبَرَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، أَنَّ بَنِي عَمٍّ لَهُ رَكِبُوا الْبَحْرَ فَكُسِرَتْ سَفِينَتُهُمْ بِجَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ، فَإِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ، قَالُوا: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ،
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسے وقت خطبہ دیا جس وقت آپ ﷺ عام طور پر خطبہ نہیں دیا کرتے تھے، تو فرمایا: ”میں نے اس وقت تمہیں صرف اس خبر کی وجہ سے خطبہ دیا جو مجھے پہنچی ہے، مجھے تمیم داری نے بتایا کہ اس کے چچازاد بھائی سمندر میں سوار ہوئے تو ان کا جہاز سمندر کے ایک جزیرے کے پاس ٹوٹ گیا، تو انہیں ایک جانور ملا، انہوں نے پوچھا: تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں جساسہ ہوں۔“ اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21338
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 401، حدیث 970
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ غَيْلَانَ بْنَ جَرِيرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: قَدِمَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ،
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تمیم داری رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21339
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 401، حدیث 971
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ،
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث پوری تفصیل کے ساتھ مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21340
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 401، حدیث 972
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغَلَابِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ بَكَّارٍ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّلَاةَ جَامِعَةً، فَخَرَجْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي كُنْتُ أَخْبَرْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ، وَهَذَا تَمِيمٌ الدَّارِيُّ يُخْبِرُكُمْ، أَخْبَرَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَنَّهُ رَكِبَ الْبَحْرَ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ،
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کے منادی نے ندا دی: نماز کے لیے جمع ہو جاؤ، تو میں نکلی، رسول اللہ ﷺ منبر پر تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہیں دجال کے بارے میں بتاتا رہا ہوں، اور یہ تمیم داری تمہیں خود بتا رہے ہیں، مجھے تمیم داری نے بتایا کہ وہ سمندر میں سوار ہوئے۔“ پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21341
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 401، حدیث 973