❮
❯
حدیث نمبر: 21312
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَقِيتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ بِالْحَرَّةِ فَسَأَلْتُهَا كَيْفَ كَانَ أَمْرُهَا؟ فَقَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي أَبُو عَمْرٍو قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الْيَمَنِ، وَوَكَّلَ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَأَعْطَانِي نَفَقَةً، فَرَافَعْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا نَفَقَةَ لَكِ عَلَيْهِمْ وَلَا سُكْنَى»
ترجمہ

شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میری ملاقات فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے حرہ کے مقام پر ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا: ان کا معاملہ کیسا تھا؟ تو انہوں نے کہا: میرے شوہر ابوعمرو نے یمن جانے سے پہلے مجھے طلاق دے دی، اور عیاش بن ابی ربیعہ کو اپنا وکیل بنایا، اور مجھے کچھ نفقہ دیا، تو میں نے یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان پر تمہارا نہ نفقہ ہے نہ رہائش۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21312
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 381، حدیث 944