المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عامر الشعبي، عن فاطمة بنت قيس باب: عامر شعبی کی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21313
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا قُرَّةُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا، فَأَرَدْتُ السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ فَقَالَ: «تَطْلِيقَةٌ، تَطْلِيقَتَانِ تَرِثِينَهُ وَيَرِثُكِ، ثَلَاثًا لَا تَرِثِينَهُ، وَلَا يَرِثُكِ، وَلَا سُكْنَى لَكِ، وَلَا نَفَقَةَ، انْزِلِي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ»ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں، تو میں رہائش اور نفقہ چاہتی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک طلاق، دو طلاقیں — تو تم اس کی وارث بنو گی اور وہ تمہارا وارث بنے گا، لیکن تین طلاقوں کے بعد نہ تم اس کی وارث بنو گی نہ وہ تمہارا وارث بنے گا، اور نہ تمہارے لیے رہائش ہے نہ نفقہ، ابن ام مکتوم کے ہاں ٹھہرو۔“