المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عامر الشعبي، عن فاطمة بنت قيس باب: عامر شعبی کی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا حَبِيبُ بْنُ بِشْرٍ، أَخُو أَبِي الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيِّ لِأُمِّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَأَتْحَفَتْنَا بِرُطَبٍ، وَشَبَّعَتْنا سَوِيقَ سَلْتٍ وَقَالَتْ: نُودِيَ فِي النَّاسِ: أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، فَانْطَلَقْتُ فِيمَنِ انْطَلَقَ مِنَ النِّسَاءِ، فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ مِنَ النِّسَاءِ، مِمَّا يَلِي الصَّفَّ الْمُؤَخَّرِ مِنَ الرِّجَالِ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ بَنِي عَمٍّ لِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَكِبُوا فِي الْبَحْرِ، وَإِنَّ سَفِينَتَهُمْ قَذَفَتْهُمْ إِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَرَأَوْا هُنَاكَ دَابَّةً يُوَارِيهَا شَعْرُهَا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا الْقَوْمُ، قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، وَإِنَّ فِي ذَلِكَ الدَّيْرِ مَنْ هُوَ بِالْأَشْوَاقِ إِلَى رُؤْيَتِكُمْ فَانْطَلَقَ الْقَوْمُ فَوَجَدُوا إِنْسَانًا مُكَبَّلًا بِالْحَدِيدِ يُصادِرُونَهُ، فَكَأَنَّهُ أَعْجَبَهُ دُخُولُهُمْ فَسَأَلَهُمْ أَخْرَجَ صَاحِبُكُمْ بَعْدُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ مَا فَعَلَ؟ قُلْنَا: كَثِيرَةُ الْمَاءِ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ؟ قُلْنَا: قَدْ أَطْعَمَ، قَالَ: فَعَيْنُ زُغَرٍ؟ قُلْنَا: كَثِيرَةُ الْمَاءِ، قَالَ: أَمَا أَنِّي لَوْ خَرَجْتُ لَوَطَأْتُ الْبِلَادَ كُلَّهَا غَيْرَ مَكَّةَ، وَطَيْبَةَ "، قَالَتْ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَشْخَصَ يَدَهُ: «هَذِهِ طَيْبَةُ يُومِئُ إِلَى الْمَدِينَةِ»شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، تو انہوں نے ہمیں تحفے میں تازہ کھجوریں دیں، اور جو کے ستو سے ہمیں سیر کیا، اور کہا: لوگوں میں پکارا گیا: نماز باجماعت ہونے والی ہے، تو میں بھی نکلنے والی عورتوں میں نکلی، تو میں عورتوں کی پہلی صف میں تھی، جو مردوں کی آخری صف سے ملحق تھی، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”تمیم داری کے کچھ چچازاد بھائی سمندر میں سوار ہوئے، اور ان کے جہاز نے انہیں سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرے کی طرف پھینک دیا، تو انہوں نے وہاں ایک ایسا جانور دیکھا جسے اس کے بال چھپائے ہوئے تھے، جب لوگوں نے اسے دیکھا، تو اس نے کہا: میں جساسہ ہوں، اور اس خانقاہ میں ایک ایسا شخص ہے جو تمہیں دیکھنے کا شدت سے منتظر ہے، تو لوگ روانہ ہوئے، تو انہوں نے ایک ایسے انسان کو پایا جو لوہے میں جکڑا ہوا تھا، وہ اس کے روبرو ہوئے، گویا اسے ان کا آنا اچھا لگا، تو اس نے ان سے پوچھا: کیا تمہارا ساتھی نکل چکا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: طبریہ کی جھیل کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: پانی سے بھرپور، اس نے کہا: بیسان کے کھجور کے درختوں کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: وہ پھل دے چکے ہیں، اس نے کہا: زغر کا چشمہ؟ ہم نے کہا: پانی سے بھرپور، اس نے کہا: سنو، اگر میں نکل جاؤں تو تمام شہروں کو روند ڈالوں گا سوائے مکہ اور طیبہ کے۔“ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: گویا میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہی ہوں کہ آپ نے اپنا ہاتھ بلند کیا: ”یہ طیبہ ہے“ اور مدینہ کی طرف اشارہ کیا۔