المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عامر الشعبي، عن فاطمة بنت قيس باب: عامر شعبی کی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ الْفِهْرِيَّةِ، قَالَتْ: نُودِيَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّلَاةَ جَامِعَةً، فَخَرَجْنَا فَجَلَسْنَا خَلْفَ أَكْتَافِ الرِّجَالِ، قَالَتْ: فَصَعِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا إِنَّ أَخَاكُمْ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، حَدَّثَنِي عَنْ بَنِي عَمٍّ لَهُ رَكِبُوا الْبَحْرَ، فَذَهَبَتْ بِهِمُ الرِّيحَ حَتَّى أَلْجَأَتْهُمْ إِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، فَخَرَجُوا يَسْأَلُونَ عَنِ الطَّرِيقِ، فَلَقُوا خَلْقًا مِنْ خَلْقِ اللهِ لَمْ يَرَوْا قَبْلَهُ شَيْئًا أَعْظَمَ مِنْهُ، لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا نَسْجَ بَنُو آدَمَ، وَقَدْ كَسَاهُ الشَّعْرُ، قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الطَّرِيقِ فَقَالَ: إِنْ كُنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَسْأَلُوا عَنِ الطَّرِيقِ مَنْ يُخْبِرُكُمْ، ويَشْتَهِي حَدِيثَكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِهَذَا الدَّيْرِ، فَقُلْنَا: أَخْبِرِينَا مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الدَّسَّاسَةُ، فَعَرَفْنَا أَنَّهَا امْرَأَةٌ، فَمَضَيْنَا إِلَى الدَّيْرِ، فَدَخَلْناهُ فَإِذَا خَلَقٌ لَمْ نَرَ قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهُ، مَمْلُوءًا مَا بَيْنَ تَرَاقِيهِ إِلَى كَعْبَيْهِ، حَدِيدًا، مَمْسُوحَ الْعَيْنِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الطَّرِيقِ، فَقَالَ: مَا أَنَا مُحَدِّثُكُمْ حَتَّى تُحَدِّثُونِي عَمَّا أَسْأَلُكُمْ عَنْهُ، قُلْنَا: سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَبِيِّ الْعَرَبِ هَلْ خَرَجَ بَعْدُ؟ فَقُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: إِلَى مَ يَدْعُو؟ فَأَخْبَرْنَاهُ، قَالَ: كَيْفَ سُرْعَةُ النَّاسِ إِلَى مَا دَعَاهُمْ إِلَيْهِ؟ قُلْنَا: سِرَاعٌ، قَالَ: ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ مَا فَعَلَتْ؟ قُلْنَا: تَطْفَحُ، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرٍ؟ قُلْنَا: تَطْفَحُ، قَالَ: سَلُوا عَمَّا بَدَا لَكُمْ، قَالَ: قُلْنَا لَهُ: مَا أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَبْقَى أَرْضٌ مِنْ أَرْضِ اللهِ إِلَّا وَطَأْتُها بِقَدَمَيَّ هَاتَيْنِ إِلَّا طَيْبَةُ " ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ طَيْبَةُ» يَعْنِي الْمَدِينَةَعبدالملک بن عمیر رحمہ اللہ عامر شعبی سے، وہ سیدہ فاطمہ بنت قیس فہریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں پکارا گیا: نماز باجماعت (ہونے والی ہے)، تو ہم نکلے اور مردوں کے کندھوں کے پیچھے بیٹھ گئے، وہ کہتی ہیں: تو رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد اور ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”سنو، تمہارے بھائی تمیم داری نے مجھے اپنے کچھ چچازاد بھائیوں کے بارے میں بتایا جو سمندر میں سوار ہوئے، تو ہوا انہیں لے گئی یہاں تک کہ انہیں سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرے کی طرف پناہ لینے پر مجبور کر دیا، تو وہ راستہ پوچھنے کے لیے نکلے، تو ان کا سامنا اللہ کی مخلوق میں سے ایک ایسی مخلوق سے ہوا جس سے بڑی کوئی چیز انہوں نے پہلے نہ دیکھی تھی، اس پر بنی آدم کی بنی ہوئی کوئی چیز نہ تھی، اور بالوں نے اسے ڈھانپ رکھا تھا، انہوں نے کہا: ہم نے اس سے راستے کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: اگر تم راستے کے بارے میں کسی ایسے سے پوچھنا چاہتے ہو جو تمہیں بتائے، اور تمہاری بات سننے کا خواہش مند ہو تو اس خانقاہ میں جاؤ، تو ہم نے کہا: ہمیں بتاؤ تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں دساسہ ہوں، تو ہمیں معلوم ہو گیا کہ وہ ایک عورت ہے، تو ہم خانقاہ کی طرف گئے، اس میں داخل ہوئے، تو وہاں ایک مخلوق تھی جس سے بڑی ہم نے کبھی نہ دیکھی تھی، اس کی ہنسلی کی ہڈیوں سے ٹخنوں تک لوہا بھرا ہوا تھا، آنکھ مسخ شدہ تھی، تو ہم نے اس سے راستے کے بارے میں پوچھا، تو اس نے کہا: میں تمہیں کچھ نہیں بتاؤں گا یہاں تک کہ تم مجھے وہ بتاؤ جو میں تم سے پوچھوں، ہم نے کہا: جو چاہو پوچھو، اس نے کہا: مجھے عربوں کے نبی کے بارے میں بتاؤ، کیا وہ ظاہر ہو چکا ہے؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: وہ کس طرف بلاتا ہے؟ تو ہم نے اسے بتایا، اس نے کہا: لوگ اس کی دعوت کی طرف کیسی تیزی سے آتے ہیں؟ ہم نے کہا: تیزی سے، اس نے کہا: یہ ان کے لیے بہتر ہے، اس نے کہا: مجھے طبریہ کی جھیل کے بارے میں بتاؤ، اس کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: وہ چھلک رہی ہے، اس نے کہا: مجھے زغر کے چشمے کے بارے میں بتاؤ؟ ہم نے کہا: وہ چھلک رہا ہے، اس نے کہا: جو چاہو پوچھو، ہم نے اس سے کہا: تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں دجال ہوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ کی زمین میں سے کوئی زمین ایسی نہیں بچے گی جسے میں اپنے ان دونوں قدموں سے نہ روند ڈالوں، سوائے طیبہ کے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ طیبہ ہے“ یعنی مدینہ۔