المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عامر الشعبي، عن فاطمة بنت قيس باب: عامر شعبی کی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْباعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، وَعَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ الْمِصْرِيُّونَ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، حَدَّثَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ قَوْمِهِ كَانُوا فِي الْبَحْرِ فِي سَفِينَةٍ لَهُمْ، فَانْكَسَرَتْ فَرَكِبَ بَعْضُهُمْ عَلَى لَوْحٍ مِنَ السَّفِينَةِ، فَخَرَجُوا إِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ، فَإِذَا هُمْ بِامْرَأَةٍ شَعْثَةٍ سَوْدَاءَ لَهَا شَعَرٌ مُنْكَرٌ، فَقَالُوا: مَا أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، أَتَعْجَبُونَ مِنِّي؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَتْ: فَادْخُلُوا الْقَصْرَ، فَدَخَلُوا فَإِذَا شَيْخٌ مَرْبُوطٌ بسلاسلَ فَسَأَلَهُمْ مَنْ هُمْ؟ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرٍ؟ وَمَا فَعَلَتِ الْبُحَيْرَةُ، ونَخَلَاتُ بَيْسَانَ؟ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَا يَبْقَى أَرْضٌ إِلَّا وَطَأْتُها بِقَدَمِي إِلَّا طَيْبَةُ " فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَذِهِ طَيْبَةُ»شعبی رحمہ اللہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے اور فرمایا: ”اے لوگو! تمیم داری نے مجھے بتایا کہ اس کی قوم میں سے کچھ لوگ سمندر میں اپنے جہاز پر سوار تھے، تو وہ ٹوٹ گیا، تو ان میں سے کچھ لوگ جہاز کے ایک تختے پر سوار ہوئے، تو وہ سمندر کے ایک جزیرے تک نکل آئے، تو وہاں ان کا سامنا ایک بکھرے بالوں والی، سیاہ عورت سے ہوا جس کے بال عجیب تھے، انہوں نے کہا: تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں جساسہ ہوں، کیا تمہیں میری بابت تعجب ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: تو محل میں داخل ہو جاؤ، تو وہ داخل ہوئے، تو وہاں ایک بوڑھا آدمی زنجیروں سے بندھا ہوا تھا، اس نے ان سے پوچھا کہ وہ کون ہیں؟ تو انہوں نے اسے بتایا، تو اس نے کہا: زغر کے چشمے کا کیا حال ہے؟ اور جھیل کا کیا حال ہے، اور بیسان کے کھجور کے درخت؟ انہوں نے اسے بتایا، تو اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس کی قسم کھائی جاتی ہے، کوئی زمین نہیں بچے گی مگر میں اسے اپنے قدم سے روند ڈالوں گا، سوائے طیبہ کے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور یہ طیبہ ہے۔“