حدیث نمبر: 21337
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَقَرَّبَتْ إِلَيَّ تَمْرًا، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا لَطَيِّبٌ، فَقَالَتْ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: عَامِرٌ، فَقَالَتْ: الشَّعْبِيُّ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: حَدِّثِينِي حَدِيثًا سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: قَامَ يَوْمًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَمْ يَأْتِنِي خَبَرٌ مِنْ عَدُوِّكُمْ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ رَكِبُوا الْبَحْرَ فَعَصَفَتِ الرِّيحُ فَأَضَافَتْهُمْ إِلَى جَزِيرَةٍ، فَنَزَلُوا فَإِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ تَجُرُّ شَعْرَهَا، فَقُلْنَا: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، وَالدَّسَّاسَةُ، قَالَتْ: انْطَلِقُوا إِلَى ذَاكَ الدَّيْرِ فَإِنَّ ثَمَّ الْخَبَرَ، وَإِذْ دَيْرٌ قَرِيبٌ قَالُوا: فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا الدَّجَّالُ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ فَقَالُوا: مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرِحَ، وَقَالَ: أَوَقَدْ بُعِثَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ سَأَلَهُمْ عَنْ عَيْنِ زُغَرٍ، وطَبَرِيَّةَ، وَعَنْ نَخَلَاتِ بَيْسَانَ، ثُمَّ شالَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ فَإِذَا هُمَا مُقَيَّدَتانِ فَقَالَ: لَوْ قَدْ أُطْلِقَتْ هَذِهِ لَوَطَأْتُ الْأَرْضَ بِهَا إِلَّا مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةَ "،
ترجمہ

عامر شعبی کہتے ہیں: میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو انہوں نے میرے سامنے کھجوریں رکھیں، میں نے کہا: یہ تو بہت اچھی ہیں، تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: عامر، انہوں نے کہا: شعبی؟ میں نے کہا: جی ہاں، میں نے کہا: مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: ایک دن آپ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے تو لوگ جمع ہو گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! مجھے تمہارے دشمن کی طرف سے کوئی خبر نہیں آئی، بلکہ مجھے تمیم داری نے بتایا کہ اس کی قوم کے کچھ لوگ سمندر میں سوار ہوئے، تو تیز ہوا نے انہیں ایک جزیرے کی طرف پہنچا دیا، تو وہ اترے، وہاں انہیں ایک ایسا جانور ملا جو اپنے بال گھسیٹ رہا تھا، تو ہم نے کہا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں جساسہ اور داسہ ہوں، اس نے کہا: اس خانقاہ کی طرف جاؤ، وہاں خبر ملے گی، اور خانقاہ قریب ہی تھی، انہوں نے کہا: تو ہم چل پڑے، وہاں دجال تھا، اس نے کہا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: محمد ﷺ کی امت میں سے، تو وہ خوش ہوا اور کہا: کیا محمد ﷺ مبعوث ہو چکے ہیں؟ پھر اس نے ان سے زغر کے چشمے، طبریہ اور بیسان کے کھجور کے درختوں کے بارے میں پوچھا، پھر اس نے اپنی ایک ٹانگ اٹھائی تو وہ دونوں زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھیں، اس نے کہا: اگر یہ کھول دی جائیں تو میں انہی سے ساری زمین روند ڈالوں، سوائے مکہ اور مدینہ کے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21337
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 401، حدیث 969