المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عامر الشعبي، عن فاطمة بنت قيس باب: عامر شعبی کی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَنِي ثَلَاثًا، فَقَالَ: لَيْسَ لَكِ عِنْدِي نَفَقَةٌ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي فَطَلَبْتُ مِنْهُ النَّفَقَةَ، فَقَالَ: لَا سُكْنَى لَكِ عِنْدِي وَلَا نَفَقَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكِ السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ» فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا فَقَالَ: «إِذًا اعْتَدِّي فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ» ثُمَّ قَالَ: «أُمُّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ مَغْشِيَّةٌ، وَلَكِنِ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ مَكْفُوفٌ»شیبانی رحمہ اللہ شعبی سے، وہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میں بنو مخزوم کے ایک آدمی کے نکاح میں تھی، تو اس نے مجھے تین طلاقیں دے دیں، اور کہا: میرے پاس تمہارے لیے کوئی نفقہ نہیں، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے شوہر نے مجھے طلاق دی تو میں نے اس سے نفقہ طلب کیا، اس نے کہا: میرے پاس تمہارے لیے نہ رہائش ہے نہ نفقہ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے رہائش اور نفقہ ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے کہا: میں نے اسے تین طلاقیں دی ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر ام شریک کے گھر عدت گزارو۔“ پھر فرمایا: ”ام شریک تو ایک ایسی عورت ہے جس کے ہاں لوگوں کی آمد رہتی ہے، بلکہ ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہے۔“