المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عامر الشعبي، عن فاطمة بنت قيس باب: عامر شعبی کی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ حَدَّثَتْهُ، قَالَتْ: نَكَحْتُ حَفْصَ بْنَ الْمُغِيرَةِ، وَهُوَ مِنْ خِيَارِ شَبَابِ قُرَيْشٍ، فَلَمَّا تَأَيَّمْتُ خَطَبَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَطَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَوْلَاهُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَكُنْتُ قَدْ حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ» فَلَمَّا كَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: أَمْرِي بِيَدِكَ فَأَنْكِحْنِي مَنْ شِئْتَ، فَقَالَ: «انْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ، وَأُمُّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ غَنِيَّةٌ عَظِيمَةُ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ، يَنْزِلُ عَلَيْهَا الضِّيفَانُ» فَقُلْتُ: سَأَفْعَلُ قَالَ: «لَا تَفْعَلِي، فَإِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ امْرَأَةً كَثِيرَةً الضِّيفَانِ، وَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَنْكِ خِمَارُكِ، أَوْ يَنْكَشِفَ الثَّوْبُ عَنْ سَاقَيْكِ فَيَرَى الْقَوْمُ مِنْكِ بَعْضَ مَا تَكْرَهِينَ، وَلَكِنِ انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ» وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فِهْرٍ فِهْرِ قُرَيْشٍ، وَهُوَ مِنَ الْبَطْنِ الَّذِي هِيَ مِنْهُ، فَانْتَقَلْتُ إِلَيْهِسیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے آزاد کردہ غلام اسامہ بن زید کے لیے پیغامِ نکاح دیا، اور مجھے یہ بات بتائی گئی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو مجھ سے محبت کرے وہ اسامہ سے بھی محبت کرے۔“ تو جب رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے بات کی تو میں نے کہا: میرا معاملہ آپ کے ہاتھ میں ہے، جسے چاہیں میرا نکاح کر دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ام شریک کے ہاں منتقل ہو جاؤ، ام شریک ایک مالدار عورت ہے جو اللہ کی راہ میں بہت خرچ کرتی ہے، اس کے ہاں مہمان اترتے رہتے ہیں۔“ میں نے کہا: میں ایسا ہی کروں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرنا، کیونکہ ام شریک کے ہاں مہمانوں کی بہت آمد رہتی ہے، اور مجھے یہ ناپسند ہے کہ تمہاری اوڑھنی گر جائے، یا کپڑا تمہاری پنڈلیوں سے ہٹ جائے تو لوگ تمہاری وہ چیز دیکھ لیں جو تمہیں ناپسند ہو، بلکہ تم اپنے چچا زاد عبداللہ بن عمرو بن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہو جاؤ۔“ وہ بنو فہر — فہرِ قریش — میں سے ایک آدمی تھے، اور اسی قبیلے سے تھے جس سے فاطمہ خود تھیں، تو میں ان کے ہاں منتقل ہو گئی۔