حدیث نمبر: 21328
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: بَيْنَمَا النَّاسُ لَيْسَ لَهُمْ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، إِذْ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَفَزِعَ لِذَلِكَ النَّاسُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ قَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، لَمْ أَخْرُجُ لِأَمْرٍ أُفْزِعُكُمْ، وَلَكِنَّهُ أَتَانِي أَمَرٌ فَرِحْتُ لَهُ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُخْبِرُكُمْ بِفَرَحِ نَبِيِّكُمْ إِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ بَنِي عَمٍّ لَهُ رَكِبُوا الْبَحْرَ، فَانْتَهَتْ بِهِمْ سَفِينَتُهُمْ إِلَى جَزِيرَةٍ، لَا يَعْرِفُونَهَا فَخَرَجُوا يَمْشُونَ فَإِذَا هُمْ بإِنْسانٍ لَا يَدْرُونَ أَذَكَرٌ هُوَ أَمْ أُنْثَى مِنْ كَثْرَةِ الشَّعْرِ، قَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قَالُوا: فَحَدِّثِينا قَالَتْ: ائْتُوا الدَّيْرَ فَإِنَّ فِيهِ رَجُلًا بِالْأَشْوَاقِ إِلَى أَنْ تُحَدِّثُوهُ، فَدَخَلُوا الدَّيْرَ فَإِذَا هُمْ بِرَجُلٍ مُوثَقٍ يَتَأَوَّهُ شَدِيدُ التَّأَوُّهِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، قَالَ: فَخَرَجَ نَبِيُّهُمْ بَعْدُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا صَنَعَ؟ قَالُوا: بَايَعَهُ قَوْمٌ، وفَارَقَهُ قَوْمٌ فَقَاتَلَ مِنْ رِفاقِهِ بِمَنْ بَايَعَهُ حَتَّى أَعْطَاهُ أَهْلَ الْحَجَرِ، وَالْمَدَرِ، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ؟ قَالُوا: مُمْتَلِئَةٌ تَدْفُقُ جَنَبَاتُهَا، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرٍ؟ قَالُوا: تَدْفُقُ جَنَبَاتُهَا، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ بَيْنَ عُمَانَ، وَبَيْسَانَ؟ قَالُوا: يُطْعِمُ، قَالَ: لَوْ قَدْ أَفْلَتُّ مِنْ وَثَاقِي هَذَا لَقَدْ وَطِئْتُ الْأَرْضَ إِلَّا طَيْبَةَ "، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ طَيْبَةُ - مَرَّتَيْنِ - الْمَدِينَةُ مَا فِيهَا طَرِيقٌ، وَلَا مَوْضِعٌ ضَيِّقٌ، وَلَا وَاسِعٌ، سَهْلٌ، وَلَا صَعْبٌ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ شَاهِرٌ سَيْفَهُ، لَوْ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا لَضَرَبَ وَجْهَهُ بِالسَّيْفِ» ، قَالَ عَامِرٌ: فَلَقِيتُ مُحَرَّرُ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: هَلْ زَادَتْ فِيهِ شَيْئًا؟، فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: صَدَقَتْ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَنِي، وَزَادَنِي فِيهِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «بَحْرُ الشَّامِ مَا هُوَ؟ بَحْرُ الْعِرَاقِ مَا هُوَ؟» ، ثُمَّ أَهْوَى بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ عِشْرِينَ مَرَّةً فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ: هَلْ زادَتْكَ فِيهِ شَيْئًا؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: صَدَقَتْ أَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْنِي، وَلَكِنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَبِالْمَدِينَةِ مَا فِيهَا»
ترجمہ

… اس نے پوچھا: عمان اور بیسان کے درمیان کھجور کے درختوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: پھل دیتے ہیں، اس نے کہا: اگر میں اپنی اس قید سے آزاد ہو جاؤں تو زمین کے ہر حصے کو روند ڈالوں، سوائے طیبہ کے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ طیبہ ہے“ — دو بار — ”مدینہ میں کوئی راستہ نہیں، کوئی تنگ یا کشادہ جگہ نہیں، کوئی ہموار یا مشکل جگہ نہیں، مگر اس پر ننگی تلوار لیے ایک فرشتہ مقرر ہے، اگر وہ دجال اس میں داخل ہونا چاہے تو وہ اس کے چہرے پر تلوار سے وار کرے گا۔“ عامر کہتے ہیں: پھر میں محرر بن ابی ہریرہ سے ملا اور انہیں یہ بات سنائی، تو انہوں نے پوچھا: کیا اس میں کوئی اضافہ ہوا؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا، میں گواہی دیتا ہوں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی، اور اس میں کچھ اضافہ بھی کیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”شام کا سمندر کیا ہے؟ عراق کا سمندر کیا ہے؟“ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے بیس بار مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ پھر میں عبداللہ بن ابی بکر سے ملا اور انہیں یہ بات سنائی، تو انہوں نے پوچھا: کیا اس نے تمہیں کوئی اضافہ بتایا؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا، میں گواہی دیتا ہوں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ حدیث سنائی، لیکن انہوں نے یہ کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور مدینہ میں جو کچھ ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21328
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 392، حدیث 960