المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عامر الشعبي، عن فاطمة بنت قيس باب: عامر شعبی کی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ الْجَوْهَرِيُّ، وَالْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ كَيْفَ كَانَ أَمْرُهَا؟ قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا جَمِيعًا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: زَعَمَ أَحْمَائِي أَنَّهُ لَيْسَ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً، قَالَ: «صَدَقُوا، اذْهَبِي فَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ» وَكَانَ أَعْمَى قَالَتْ: فَخَطَبَهَا أَبُو الْجَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ، وَمِنْ بَعْدِهِ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ، فَاسْتَشَارَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَمَا أَبُو جَهْمٍ فَضَرُوبٌ لِلنِّسَاءِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَمُمَلَّقٌ - يَعْنِي مُفْلِسَ - لَا يَمْلِكُ شَيْئًا، وَلَكِنْ أَيْنَ أَنْتِ عَنْ أُسَامَةَ؟» قُلْتُ: أَنْكِحُ أُسَامَةَ؟ قَالَ: «نَعَمِ انْكِحِي أُسَامَةَ»… میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ان کا معاملہ کیسا تھا؟ تو انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں اکٹھی دے دیں، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: میرے سسرالیوں کا خیال ہے کہ میرے لیے نہ رہائش ہے نہ نفقہ، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، جاؤ اور ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو۔“ وہ نابینا تھے۔ فاطمہ کہتی ہیں: پھر ابوجہم بن حذیفہ نے، اور عدت پوری ہونے کے بعد معاویہ نے، انہیں پیغامِ نکاح بھیجا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مشورہ لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک ابوجہم کا تعلق ہے تو وہ عورتوں کو بہت مارتا ہے، اور جہاں تک معاویہ کا تعلق ہے تو وہ نادار ہے — یعنی مفلس —، اس کے پاس کچھ نہیں، لیکن تم اسامہ کو کیوں نہیں اپناتیں؟“ میں نے عرض کیا: کیا میں اسامہ سے نکاح کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اسامہ سے نکاح کر لو۔“