حدیث نمبر: 21338
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، وعَلَّانُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ مَاغَمَةَ، وَالْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَقْتٍ لَمْ يَكُنْ يَخْطُبُنَا فِي مِثْلِهِ، فَقَالَ: " مَا خَطَبْتُكُمْ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا بِخَبَرٍ أَتَانِي، أَخْبَرَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، أَنَّ بَنِي عَمٍّ لَهُ رَكِبُوا الْبَحْرَ فَكُسِرَتْ سَفِينَتُهُمْ بِجَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ، فَإِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ، قَالُوا: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ،
ترجمہ

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسے وقت خطبہ دیا جس وقت آپ ﷺ عام طور پر خطبہ نہیں دیا کرتے تھے، تو فرمایا: ”میں نے اس وقت تمہیں صرف اس خبر کی وجہ سے خطبہ دیا جو مجھے پہنچی ہے، مجھے تمیم داری نے بتایا کہ اس کے چچازاد بھائی سمندر میں سوار ہوئے تو ان کا جہاز سمندر کے ایک جزیرے کے پاس ٹوٹ گیا، تو انہیں ایک جانور ملا، انہوں نے پوچھا: تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں جساسہ ہوں۔“ اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21338
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 401، حدیث 970