المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عامر الشعبي، عن فاطمة بنت قيس باب: عامر شعبی کی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ الْإِسْوَارِيُّ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ الْعُطَارِدِيُّ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي: الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَاسْتَقْبَلَنَا بِوَجْهِهِ ضَاحِكًا، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي وَاللهِ مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ، إِلَّا لِحَدِيثٍ حَدَّثَنِي بِهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَتَانِي فَأَسْلَمَ، وَبَايَعَ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَكِبَ فِي ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ، وَجُذَامٍ وَهُمَا حَيَّانِ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَصادَفُوا الْبَحْرَ حِينَ اغْتَلَمَ فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا، ثُمَّ قَذَفَهُمْ قَرِيبًا مِنْ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، فَإِذَا نَحْنُ بِدايَةُ أَهْلَبٍ لَا يُعْرَفُ قُبُلُهَا مِنْ دُبُرِهَا، قُلْنَا: مَا أَنْتِ أَيُّهَا الدَّابَّةُ؟ فَأَذِنَ اللهُ فَكَلَّمَتْنا بِلِسَانٍ ذَلْقٍ طَلْقٍ، فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قُلْنَا: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَتْ: إِلَيْكُمْ عَنِّي عَلَيْكُمْ بِذَاكَ الدَّيْرِ فِي أَقْصَى الْجَزِيرَةِ، فَإِنَّ فِيهِ رَجُلًا هُوَ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، قَالَ: فَأَتَيْنَا الدَّيْرَ، فَإِذَا نَحْنُ بِرَجُلٍ أَعْظَمَ رَجُلٍ رَأَيْتُهُ قَطُّ، وَأَحْسَنَهُ جِسْمًا فَإِذَا هُوَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ نُخَامَةٌ فِي جِدَارٍ مُجَصَّصٍ، وَإِذْ يَدَاهُ مَغْلُولَتانِ إِلَى عُنُقَهِ، وَإِذْ رِجْلَاهُ مَشْدُودَتانِ بِالْكُبُولِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ إِلَى قَدَمَيْهِ، فَقُلْنَا لَهُ: مَا أَنْتَ أَيُّهَا الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: أَمَّا خَبَرِي فَقَدْ قَدَرْتُمْ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ أَخْبِرُونِي عَنْ خَبَرِكُمْ مَا أَوْقَعَكُمْ هَذِهِ الْجَزِيرَةَ؟ وَهَذِهِ الْجَزِيرَةُ لَمْ يَصِلُ إِلَيْهَا آدَمِيٌّ مُذْ خَرَجْتُ إِلَيْهَا، فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ مَا فَعَلَتْ؟ قُلْنَا: عَنْ أَيِّ أَمْرِهَا تَسْأَلُ؟ قَالَ: هَلْ نَضَبَ مَاؤُهَا؟ وَهَلْ بَدَا فِيهَا مِنَ الْعَجَائِبِ؟ قُلْنَا: لَا، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ ثُمَّ سَكَتَ مَلِيًّا، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرٍ مَا فَعَلَتْ؟ قُلْنَا: عَنْ أَيِّ أَمْرِهَا تَسْأَلُ؟ قَالَ: هَلْ يَحْتَرِثُ عَلَيْهَا أَهْلُهَا؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَيَغُورُ عَنْهَا مَاؤُهَا، ثُمَّ سَكَتَ مَلِيًّا، فَقَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَخِيلِ بَيْسَانَ مَا فَعَلَ؟ قُلْنَا لَهُ: عَنْ أَيِّ أَمْرِهَا تَسْأَلُ؟ قَالَ: هَلْ يُثْمِرُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا أَنَّهُ لَا يُثْمِرُ، ثُمَّ سَكَتَ مَلِيًّا فَقَالَ: أَخْبِرُونِي عَنِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ مَا فَعَلَ؟ قُلْنَا: عَنْ أَيِّ أَمْرِهِ تَسْأَلُ؟ قَالَ: هَلْ ظَهَرَ بَعْدُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا صَنَعَتْ مَعَهُ الْعَرَبُ؟ فَقُلْنَا لَهُ: مِنْهُمْ مَنْ قَاتَلَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّقَهُ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ مَنْ صَدَّقَهُ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ، فَقُلْنَا: أَخْبِرْنَا خَبَرَكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ، فَقَالَ: أَمَا تَعْرِفُونَنِي؟ قُلْنَا: لَوْ عَرَفْنَاكَ مَا سَأَلْنَاكَ، قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ، يُوشِكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، فَإِذَا خَرَجْتُ وَطْأَةُ جَزَائِرَ الْعَرَبِ كُلَّهَا غَيْرَ مَكَّةَ، وَطَيْبَةَ كُلَّمَا أَرَدْتُهُما اسْتَقْبَلَنِي مَلَكٌ بِيَدِهِ السَّيْفُ مُصْلِتًا فَرَدَّنِي عَنْهُمَا، قَالَ أَبُو الْأَشْهَبِ: قَالَ عَامِرٌ: قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَافِعًا يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ أَنَّ هَذِهِ طَيْبَةَ» ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ أَنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ» ثَلَاثًا، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ اسْتَراحَ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: " بَلْ هُوَ فِي بَحْرِ الْعِرَاقِ إِنْ يَخْرُجُ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَلْدَةٍ يُقَالُ لَهَا أَصْبَهَانُ، مِنْ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَاهَا، يُقَالُ لَهَا رِسْتَقَابَادُ وَيَخْرُجُ مَنْ يَخْرُجُ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ، مَعَهُ نَهْرَانِ نَهَرٌ مِنْ مَاءٍ وَنَهَرٌ مِنْ نَارٍ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَقِيلَ لَهُ: ادْخُلِ الْمَاءَ، فَلَا يَدْخُلُهُ فَإِنَّهُ نَارٌ، وَإِذَا قِيلَ لَهُ: ادْخُلِ النَّارَ، فَلْيَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ مَاءٌ "سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے منادی کو یہ پکارتے سنا: نماز کے لیے جمع ہو جاؤ، تو میں انصار کی کچھ عورتوں کے ساتھ نکلی یہاں تک کہ ہم مسجد میں پہنچیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، پھر منبر پر چڑھے اور مسکراتے ہوئے اپنا چہرہ ہماری طرف کیا، پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے تمہیں نہ کسی رغبت کے لیے جمع کیا ہے نہ کسی خوف کے لیے، بلکہ ایک بات کی وجہ سے جو مجھے تمیم داری نے سنائی ہے، وہ میرے پاس آئے، اسلام قبول کیا اور بیعت کی، اور مجھے بتایا کہ وہ لخم اور جذام کے تیس آدمیوں کے ساتھ (کشتی میں) سوار ہوئے، اور یہ دونوں یمن والوں میں سے عرب کے دو قبیلے ہیں، تو انہیں سمندر ایسے وقت ملا جب وہ طغیانی پر تھا، تو موجیں ایک مہینے تک ان سے کھیلتی رہیں، پھر سورج غروب ہونے کے قریب انہیں سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرے پر پھینک دیا، تو اچانک ہمارا سامنا ایک بہت بالوں والے جانور سے ہوا جس کا اگلا حصہ پچھلے حصے سے پہچانا نہ جاتا تھا، ہم نے کہا: اے جانور! تو کیا ہے؟ تو اللہ نے اجازت دی اور اس نے ہم سے صاف اور رواں زبان میں بات کی، اور کہا: میں جساسہ ہوں، ہم نے کہا: جساسہ کیا ہے؟ اس نے کہا: مجھ سے ہٹو، جزیرے کے آخری کنارے پر اس خانقاہ میں جاؤ، کیونکہ اس میں ایک آدمی ہے جو تمہاری خبر کا شدت سے منتظر ہے۔ انہوں نے کہا: تو ہم خانقاہ میں آئے، تو وہاں ایک ایسا آدمی تھا کہ اس سے بڑا آدمی میں نے کبھی نہیں دیکھا، اور جسم میں سب سے اچھا، اس کی دائیں آنکھ مٹی ہوئی تھی، گویا اس کی آنکھ چونے سے پلستر کی ہوئی دیوار پر بلغم (کا دھبہ) ہے، اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن سے بندھے ہوئے تھے، اور اس کے دونوں پاؤں گھٹنوں سے قدموں تک بیڑیوں سے جکڑے ہوئے تھے، ہم نے اس سے کہا: اے آدمی! تو کیا ہے؟ اس نے کہا: میری خبر تو تم تک پہنچ ہی گئی ہے، لیکن مجھے اپنی خبر بتاؤ، تمہیں اس جزیرے پر کس چیز نے لا ڈالا؟ جبکہ جب سے میں اس جزیرے پر آیا ہوں کوئی انسان یہاں نہیں پہنچا، تو ہم نے اسے بتایا، تو اس نے کہا: مجھے طبریہ کی جھیل کے بارے میں بتاؤ، اس کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: اس کی کس بات کے بارے میں پوچھتے ہو؟ اس نے کہا: کیا اس کا پانی ختم ہو گیا ہے؟ اور کیا اس میں کچھ عجائبات ظاہر ہوئے ہیں؟ ہم نے کہا: نہیں، اس نے کہا: سنو! یہ ضرور ہو گا، پھر وہ کافی دیر خاموش رہا، پھر کہا: مجھے زغر کے چشمے کے بارے میں بتاؤ، اس کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: اس کی کس بات کے بارے میں پوچھتے ہو؟ اس نے کہا: کیا اس کے رہنے والے اس (کے پانی) سے کھیتی باڑی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: سنو! اس کا پانی ضرور زمین میں اتر جائے گا، پھر وہ کافی دیر خاموش رہا، پھر کہا: مجھے بیسان کے کھجور کے درختوں کے بارے میں بتاؤ، ان کا کیا حال ہے؟ ہم نے اس سے کہا: ان کی کس بات کے بارے میں پوچھتے ہو؟ اس نے کہا: کیا وہ پھل دیتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: سنو! وہ پھل نہیں دیں گے، پھر وہ کافی دیر خاموش رہا، پھر کہا: مجھے امی نبی کے بارے میں بتاؤ، اس کا کیا بنا؟ ہم نے کہا: اس کی کس بات کے بارے میں پوچھتے ہو؟ اس نے کہا: کیا وہ ظاہر ہو چکا ہے؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: عربوں نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ ہم نے اس سے کہا: ان میں سے کچھ نے اس سے جنگ کی اور کچھ نے اس کی تصدیق کی، اس نے کہا: سنو! جس نے اس کی تصدیق کی تو یہ اس کے لیے بہتر ہے، پھر ہم نے کہا: اے آدمی! ہمیں اپنی خبر بتاؤ، اس نے کہا: کیا تم مجھے نہیں پہچانتے؟ ہم نے کہا: اگر ہم تمہیں پہچانتے تو تم سے نہ پوچھتے، اس نے کہا: میں دجال ہوں، قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے، تو جب میں نکلوں گا تو عرب کے سارے جزیرے روند ڈالوں گا سوائے مکہ اور طیبہ کے، جب بھی میں ان دونوں کا ارادہ کروں گا تو ایک فرشتہ ہاتھ میں ننگی تلوار لیے میرے سامنے آئے گا اور مجھے ان سے لوٹا دے گا۔“ ابوالاشہب کہتے ہیں: عامر شعبی نے کہا: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ ہم نے آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھی، پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ یہ طیبہ ہے“ تین بار، پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ وہ شام کے سمندر میں ہے“ تین بار، پھر آپ ﷺ پر کچھ دیر کے لیے بے ہوشی سی طاری ہو گئی، پھر آپ نے سکون پایا، پھر یہ کیفیت دور ہوئی، تو فرمایا: ”بلکہ وہ عراق کے سمندر میں ہے، وہ اس وقت نکلے گا جب اصفہان نامی شہر کی ایک بستی سے نکلے گا، جسے رستقاباد کہا جاتا ہے، اور اس کے آگے آگے ستر ہزار لوگ نکلیں گے جو خاص چادریں اوڑھے ہوں گے، اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی، ایک پانی کی نہر اور ایک آگ کی نہر، تو تم میں سے جو اس زمانے کو پائے اور اسے کہا جائے: پانی میں داخل ہو جاؤ، تو وہ اس میں داخل نہ ہو کیونکہ وہ حقیقت میں آگ ہے، اور جب اسے کہا جائے: آگ میں داخل ہو جاؤ، تو وہ اس میں داخل ہو جائے کیونکہ وہ حقیقت میں پانی ہے۔“