کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلَاءِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: «كُنَّا نُجَمِّعُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَقِيلُ»
ترجمہ
زید بن وہب بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ پڑھتے، پھر واپس جا کر قیلولہ کرتے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9524
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 311، حدیث 9558
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السِّرَاجُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: «رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَعُسُّ الْمَسْجِدَ بِاللَّيْلِ فَلَا يَرَى فِيهِ سَوَادًا إِلَّا أَخَّرَهُ إِلَّا رَجُلًا قَائِمًا يُصَلِّي»
ترجمہ
ابوعمرو الشیبانی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ رات کو مسجد کا گشت کرتے، اور جس سائے (شخص) کو بھی مسجد میں دیکھتے اسے پیچھے (باہر) کر دیتے، سوائے اس آدمی کے جو کھڑا نماز پڑھ رہا ہو۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9525
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 311، حدیث 9559
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ هُزَيْلَ بْنَ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: جَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِلَى مَسْجِدِنَا، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَقِيلَ لَهُ تَقَدَّمْ: فَقَالَ: «يَتَقَدَّمُ إِمَامُكُمْ» ، قُلْنَا: إِمَامُنَا لَيْسَ هَهُنَا، قَالَ: «لِيَتَقَدَّمْ رَجُلٌ مِنْكُمْ» ، فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ فَقَامَ عَلَى دُكَّانٍ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَنَهَاهُ عَبْدُ اللهِ
ترجمہ
ہزیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آئے اور نماز کی اقامت ہو چکی تھی، تو ان سے کہا گیا: آگے بڑھیں۔ انہوں نے فرمایا: ”تمہارا امام آگے بڑھے۔“ ہم نے کہا: ہمارا امام یہاں موجود نہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی آگے بڑھے۔“ تو ایک آدمی آگے بڑھا اور مسجد کی قبلہ سمت میں ایک چبوترے پر جا کھڑا ہوا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے منع کر دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9526
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 311، حدیث 9560
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ: «كَرِهَ أَنْ يَؤُمَّهُمْ عَلَى الْمَكَانِ الْمُرْتَفِعِ»
ترجمہ
ہزیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر لوگوں کی امامت کرنے کو ناپسند کیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9527
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 311، حدیث 9561
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الْأَمَانَةُ، وَآخِرُ مَا يَبْقَى الصَّلَاةُ، وَلَيُصَلِّيَنَّ قَوْمٌ لَا دِينَ لَهُمْ»
ترجمہ
شداد بن معقل بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم اپنے دین میں سب سے پہلے امانت کھو دو گے، اور سب سے آخر میں باقی رہنے والی چیز نماز ہو گی، اور ایسے لوگ بھی نماز پڑھیں گے جن کا کوئی دین نہیں ہو گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9528
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 311، حدیث 9562
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، وَعَلْقَمَةَ، وَمَسْرُوقٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ، قَالَ: «الصِّيَامُ مِنْ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ إِلَى رُؤْيَتِهِ، فَإِنْ خَفِيَ عَلَيْكُمْ فَثَلَاثُونَ يَوْمًا»
ترجمہ
اسود بن یزید، علقمہ اور مسروق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”روزہ چاند دیکھنے سے (اگلا) چاند دیکھنے تک ہے، اگر تم پر (چاند) مخفی رہے تو تیس دن (پورے کرو)۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9529
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 312، حدیث 9563
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، أنا عُتْبَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقُلْتُ: صَامَ نَاسٌ مِنَ الْحَيِّ وَنَاسٌ مِنْ جِيرَانِنَا الْيَوْمَ، قَالَ: «عَنْ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «لَأَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ أَقْضِيَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَصُومَ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ»
ترجمہ
ابن عیاش کے والد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: محلے کے کچھ لوگوں اور ہمارے کچھ پڑوسیوں نے آج روزہ رکھا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”کیا چاند دیکھ کر؟“ اس نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”میرے لیے رمضان کا ایک دن (بلا شبہ روزہ نہ رکھ کر) بعد میں اس کی قضا کرنا اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں شعبان کا ایک دن (شک کے ساتھ) روزہ رکھوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9530
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 312، حدیث 9564
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مِرْدَاسٍ، قَالَ: جَاءَنِي رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ، فَقَالَ: إِنِّي مَرَرْتُ بِامْرَأَتِي فِي الْقَمَرِ فَأَعْجَبَتْنِي فَجَامَعْتُهَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَنِمْتُ حَتَّى أَصْبَحْتُ، فَقُلْتُ: عَلَيْكَ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَوْ بِأَبِي حَكِيمٍ الْمُزَنِيِّ، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ: «كُنْتَ جُنُبًا لَا يَحِلُّ لَكَ الصَّلَاةُ، فَاغْتَسَلْتَ فَحَلَّتْ لَكَ الصَّلَاةُ، وَحَلَّ لَكَ الصِّيَامُ فَصُمْ»
ترجمہ
عبداللہ بن مرداس رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرے پاس محلے کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: میں چاندنی میں اپنی بیوی کے پاس سے گزرا تو وہ مجھے اچھی لگی، چنانچہ میں نے رمضان کے مہینے میں اس سے مباشرت کر لی، پھر سو گیا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ میں نے کہا: تم عبداللہ بن مسعود یا ابوحکیم مزنی کے پاس جاؤ۔ تو (وہاں) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ موجود تھے، میں نے ان سے پوچھا اور کہا: میں جنبی تھا (کیا میں روزہ رکھوں)؟ انہوں نے فرمایا: ”تم جنبی تھے تو تمہارے لیے نماز حلال نہ تھی، پھر تم نے غسل کیا تو نماز تمہارے لیے حلال ہو گئی، اور روزہ بھی تمہارے لیے حلال ہو گیا، تو روزہ رکھو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9531
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 312، حدیث 9565
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَامِعَ بْنَ شَدَّادٍ أَبَا صَخْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مِرْدَاسٍ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى مَسْجِدِ الْحَيِّ بَعْدَمَا صَلَّوُا الْفَجْرَ، فَقَالَ لَهُمْ - وَذَاكَ فِي رَمَضَانَ -: إِنِّي أَصَبْتُ مِنْ أَهْلِي، ثُمَّ غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَأَصْبَحَتُ وَلَمْ أَغْتَسِلْ فَمَا تَرَوْنَ؟ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: مَا نَرَاكَ إِلَّا قَدْ أَفْطَرْتَ، فَانْطَلَقَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ لَهُمْ: أَتَيْتُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكُمْ أَوْ أَفْقَهُ فَقَالَ: «إِنَّمَا الْإِفْطَارُ مِنَ الطَّعَامِ، وَالشَّرَابِ فَأَتَمَّ صَوْمَكَ»
ترجمہ
عبداللہ بن مرداس رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ محلے کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھ لینے کے بعد آئے اور ان سے کہا - اور یہ رمضان میں تھا -: میں نے اپنی بیوی سے صحبت کی، پھر مجھ پر نیند غالب آ گئی تو صبح ہو گئی اور میں نے غسل نہ کیا، تم کیا کہتے ہو؟ لوگوں نے اس سے کہا: ہمارے خیال میں تو تمہارا روزہ ٹوٹ گیا۔ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا (اور واپس آ کر) ان سے کہا: میں تم سے بہتر یا زیادہ سمجھدار شخص کے پاس گیا تھا، اس نے فرمایا: ”افطار تو صرف کھانے اور پینے سے ہوتا ہے، اس لیے اپنا روزہ پورا کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9532
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 312، حدیث 9566
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، ثنا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: أَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَلَمِ اغْتَسَلْ حَتَّى أَصْبَحْتُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «كُنْتَ جُنُبًا لَا تَحِلُّ لَكَ الصَّلَاةُ، فَاغْتَسَلْتَ فَحَلَّتْ لَكَ الصَّلَاةُ وَحَلَّ لَكَ الصِّيَامُ» ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ
ترجمہ
اسود بن ہلال بیان کرتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! میں جنبی تھا اور صبح ہونے تک غسل نہ کیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم جنبی تھے تو تمہارے لیے نماز حلال نہ تھی، پھر تم نے غسل کیا تو نماز تمہارے لیے حلال ہو گئی اور روزہ بھی تمہارے لیے حلال ہو گیا۔“ اور یہ رمضان میں (ہوا) تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9533
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 313، حدیث 9567
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْجَزَّارِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «لَوْ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ تَرَكْتُ الْغُسْلَ عَمْدًا حَتَّى أُصْبِحَ لَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الصَّوْمِ، إِنَّمَا أَتَيْتُهَا وَهِي تَحِلُّ لِي»
ترجمہ
یحییٰ بن جزار سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”اگر میں رات کو اپنی بیوی کے پاس جاؤں پھر جان بوجھ کر غسل چھوڑ دوں یہاں تک کہ صبح ہو جائے تو یہ میرے روزے سے مانع نہیں ہو گا، کیونکہ میں اس کے پاس اس حال میں گیا تھا کہ وہ میرے لیے حلال تھی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9534
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 313، حدیث 9568
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: «لَوْ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ تَرَكْتُ الْغُسْلَ عَمْدًا حَتَّى أُصْبِحَ لَمْ يَمْنَعْنِي ذَلِكَ مِنَ الصَّوْمِ لِأَنِّي إِنَّمَا أَتَيْتُهَا وَهِي تَحِلُّ لِي»
ترجمہ
یحییٰ بن جزار سے روایت ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں رات کو اپنی بیوی کے پاس جاؤں، پھر جان بوجھ کر غسل چھوڑ دوں یہاں تک کہ صبح ہو جائے تو یہ مجھے روزے سے نہیں روکے گا، کیونکہ میں اس کے پاس اس حال میں گیا تھا کہ وہ میرے لیے حلال تھی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9535
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 313، حدیث 9569
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادٌ، أنا أَيُّوبُ، وَهِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: «لَوْ أَتَيْتُ أَهْلِي أَوَّلَ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ جُنُبًا لَصُمْتُ لِأَنِّي أَتَيْتُهَا وَهِي تَحِلُّ لِي»
ترجمہ
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں رات کے شروع میں اپنی بیوی کے پاس جاؤں، پھر صبح جنبی حالت میں کروں تو روزہ رکھوں گا، کیونکہ میں اس کے پاس اس حال میں گیا تھا کہ وہ میرے لیے حلال تھی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9536
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 313، حدیث 9570
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لَوْ كُنْتُ جُنُبًا، فَمَكَثْتُ شَهْرًا لَا أَجِدُ الْمَاءَ مَا صَلَّيْتُ حَتَّى أَجِدَ الْمَاءَ»
ترجمہ
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں جنبی ہوں اور مہینہ بھر پانی نہ پاؤں تو جب تک پانی نہ پاؤں نماز نہیں پڑھوں گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9537
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 313، حدیث 9571
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنِ الْهُرْمُزَانِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فِي الرَّجُلِ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، قَالَ: «يَقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ» قَالَ سُفْيَانُ: «لَا يُؤْخَذُ بِهَذَا»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جو روزے کی حالت میں (بیوی کو) بوسہ دے، انہوں نے فرمایا: ”وہ اس کی جگہ ایک دن کی قضا کرے۔“ سفیان کہتے ہیں: ”اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9538
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 314، حدیث 9572
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، «أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُبَاشِرُ امْرَأَتَهُ نِصْفَ النَّهَارِ، وَهُوَ صَائِمٌ»
ترجمہ
عمرو بن شرحبیل بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ روزے کی حالت میں دوپہر کے وقت اپنی بیوی سے (بغیر جماع کے) لپٹ جاتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9539
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 314، حدیث 9573
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ لَقِيَ اللهَ بِهِ، وَإِنْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ، إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ»
ترجمہ
ایک شخص بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے بغیر کسی رخصت کے رمضان کا ایک دن روزہ نہ رکھا، وہ اسی حال میں اللہ سے ملے گا، چاہے وہ ساری زندگی روزے رکھے، اللہ چاہے تو اسے بخش دے اور چاہے تو عذاب دے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9540
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 314، حدیث 9574
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
بلال بن حارث سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9541
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 314، حدیث 9575
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، أَخْبَرَنِي وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِنَّمَا الصِّيَامُ مِمَّا دَخَلَ، وَلَيْسَ مِمَّا خَرَجَ، وَالْوُضُوءُ مِمَّا خَرَجَ وَلَيْسَ مِمَّا دَخَلَ»
ترجمہ
ابراہیم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”روزہ (کا ٹوٹنا) اس چیز سے ہے جو (جسم میں) داخل ہو، نہ کہ جو نکلے، اور وضو (کا ٹوٹنا) اس چیز سے ہے جو نکلے، نہ کہ جو داخل ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9542
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 314، حدیث 9576
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مَطِيرٍ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «تَسَحَّرْنَا مَعَ عَبْدِ اللهِ، ثُمَّ خَرَجْنَا فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ»
ترجمہ
عامر بن مطیر الشیبانی کے والد بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نکلے تو نماز کی اقامت ہو چکی تھی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9543
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 314، حدیث 9577
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " إِذَا عُرِضَ عَلَى أَحَدِكُمْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ، وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے سامنے کھانا یا پینا پیش کیا جائے اور وہ روزے سے ہو، تو وہ کہے: میں روزے سے ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9544
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 315، حدیث 9578
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ لَيْلَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ صَبِيحَةَ بَدْرٍ، أَوْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ»
ترجمہ
اسود بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شب قدر کو ستارہویں رات میں تلاش کرو جو بدر کی صبح تھی، یا اکیسویں رات یا تیئسویں رات میں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9545
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 315، حدیث 9579
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: قُلْتُ: أَبَا الْمُنْذِرِ يَعْنِي أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَإِنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ يَقُولُ: مَنْ يُقِمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا، قَالَ: «يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَلَكِنَّهُ عَمَّى عَلَى النَّاسِ حَتَّى لَا يَتَكَلَّمُوا، وَالَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ، وَإِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ "، قُلْتُ: أَبَا الْمُنْذِرِ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدْ رَأَيْنَا وَحَفِظْنَا، فَوَاللهِ إِنَّهَا لَهِيَ لَا يَسْتَثْنِي» قُلْتُ لِزِرٍّ: وَمَا الْآيَةُ؟ قَالَ: «تَطْلُعُ الشَّمْسُ غَدَاتَئِذٍ كَأَنَّهَا طَسْتٌ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ»
ترجمہ
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوالمنذر - یعنی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا - مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں، کیونکہ ابن ام عبد (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: جو سارا سال قیام کرے وہ اسے پا لے گا۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے، وہ جانتے ہیں کہ یہ رمضان میں ہے، لیکن انہوں نے لوگوں پر یہ بات مبہم رکھی تاکہ وہ (اس پر بھروسہ کر کے سستی) نہ کریں۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ پر کتاب نازل کی، یہ رمضان میں ہی ہے اور یہ ستائیسویں رات ہے۔“ میں نے کہا: اے ابوالمنذر! آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ انہوں نے فرمایا: ”اس نشانی سے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتائی تھی، ہم نے وہ دیکھی بھی اور یاد بھی رکھی، اللہ کی قسم یہی وہ (رات) ہے“ - وہ بغیر 'ان شاء اللہ' کہے قسم کھا رہے تھے۔ میں نے زر سے پوچھا: وہ نشانی کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”اس دن صبح سورج اس طرح طلوع ہوتا ہے جیسے وہ ایک تھال ہو، اس کی کوئی تیز روشنی (شعاع) نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9546
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 315، حدیث 9580
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، وَعَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَبَا الْمُنْذِرِ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَإِنَّ صَاحِبَنَا ابْنَ مَسْعُودٍ سُئِلَ عَنْهَا فَقَالَ: مَنْ يُقِمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا، قَالَ: «رَحِمَ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا وَاللهِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَلَكِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَتَّكِلُوا - أَوْ أَحَبَّ أَنْ لَا يَتَّكِلُوا - وَاللهِ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ، وَإِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ يَحْلِفُ، وَلَا يَسْتَثْنِي» ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ حَمَّادٌ: فَقُلْتُ لِعَاصِمٍ: مَا الْآيَةُ؟ قَالَ: «تُصْبِحُ الشَّمْسُ صَبِيحَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعُ مِثْلَ الطَّسْتِ حَتَّى تَرْتَفِعَ»
ترجمہ
زر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوالمنذر! مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں، کیونکہ ہمارے ساتھی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جو سارا سال قیام کرے وہ اسے پا لے گا۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم وہ جانتے ہیں کہ یہ رمضان میں ہے، لیکن انہوں نے پسند نہیں کیا کہ لوگ (اس پر) بھروسہ کر بیٹھیں - یا فرمایا: چاہا کہ وہ بھروسہ نہ کریں - اللہ کی قسم! یہ رمضان میں ہی ہے اور یہ ستائیسویں رات ہے“ - وہ قسم کھا رہے تھے اور 'ان شاء اللہ' نہیں کہہ رہے تھے۔ میں نے کہا: اے ابوالمنذر! آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ انہوں نے فرمایا: ”اس نشانی سے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتائی۔“ حماد کہتے ہیں: میں نے عاصم سے پوچھا: وہ نشانی کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”اس رات کی صبح کو سورج بغیر تیز روشنی کے طلوع ہوتا ہے، تھال کی طرح، یہاں تک کہ بلند ہو جائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9547
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 315، حدیث 9581
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَإِنَّ عَبْدَ اللهِ، يَقُولُ: مَنْ يُقِمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا، قَالَ: «يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ لِيَعْلَمُ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ وَلَكِنْ عَمَّى عَلَى النَّاسِ حَتَّى لَا يَتَّكِلُوا، وَاللهِ إِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ» ، فَقُلْتُ: أَبَا الْمُنْذِرِ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «بِالْآيَةِ الَّتِي أَنْبَأَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا أَنَّهَا لَهِيَ» قَالَ عَاصِمٌ: قُلْتُ لِزِرٍّ: مَا تِلْكَ الْآيَةُ؟ قَالَ: «طُلُوعُ الشَّمْسِ بَيْضَاءَ كَالطَّسْتِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ حَتَّى تَرْتَفِعَ» ، قَالَ: فَرَمَقْتُهَا مِرَارًا كَذَلِكَ
ترجمہ
زر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں، کیونکہ سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو سارا سال قیام کرے وہ اسے پا لے گا۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے، وہ جانتے ہیں کہ یہ رمضان میں ہے، لیکن انہوں نے لوگوں پر یہ بات مبہم رکھی تاکہ وہ (اس پر) بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔ اللہ کی قسم! یہ ستائیسویں رات ہے۔“ میں نے کہا: اے ابوالمنذر! آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ انہوں نے فرمایا: ”اس نشانی سے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتائی، تو ہم نے شمار کیا اور یاد رکھا کہ یہی وہ (رات) ہے۔“ عاصم کہتے ہیں: میں نے زر سے پوچھا: وہ نشانی کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”سورج کا سفید طلوع ہونا، تھال کی طرح، بغیر تیز روشنی کے، یہاں تک کہ بلند ہو جائے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے اسے کئی بار اسی طرح دیکھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9548
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 316، حدیث 9582
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: لَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ - وَكَانَ امْرَأً فِيهِ شَرَاسَةٌ - فَقُلْتُ: أَبَا الْمُنْذِرِ اخْفِضْ لِي جَنَاحَكَ رَحِمَكَ اللهُ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ: «إِنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَإِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ» قُلْتُ: وَأَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا، فَوَاللهِ إِنَّهَا لَهِيَ لَا يَسْتَثْنِي»
ترجمہ
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملا - اور وہ ذرا تندخو آدمی تھے - تو میں نے کہا: اے ابوالمنذر! اللہ آپ پر رحم کرے، میرے ساتھ نرمی کریں۔ اور میں نے ان سے شب قدر کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ رمضان میں ہے، اور یہ ستائیسویں رات ہے۔“ میں نے کہا: آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ انہوں نے فرمایا: ”اس نشانی سے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتائی، ہم نے شمار کیا اور یاد رکھا، اللہ کی قسم یہی وہ (رات) ہے“ - وہ بغیر 'ان شاء اللہ' کہے قسم کھا رہے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9549
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 316، حدیث 9583
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَفْصٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: «لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ» ، قُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «بِالْآيَةِ الَّتِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَفِظْتُهَا، وَعَدَدْتُهَا، وَالَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ عَلَى مُحَمَّدٍ إِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ»
ترجمہ
زر بن حبیش سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”شب قدر ستائیسویں رات ہے۔“ میں نے کہا: اے ابوالمنذر! آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ انہوں نے فرمایا: ”اس نشانی سے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتائی، میں نے اسے یاد رکھا اور شمار کیا، اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ پر کتاب نازل کی، یہ ستائیسویں رات ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9550
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 316، حدیث 9584
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: وَفَدْتُ إِلَى عُثْمَانَ فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنِي فَإِنِّي قَدْ كُنْتُ أُحِبُّ لُقْيَكَ، وَمَا وَفَدْتُ إِلَّا لِلِقَائِكَ فَحَدِّثْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَإِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: مَنْ يُقِمِ السَّنَةَ يُصِبْهَا - أَوْ يُدْرِكْهَا - فَقَالَ أُبَيٌّ: لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ وَلَكِنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يُعَمِّيَ عَلَيْكُمْ، فَإِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ بِالْآيَةِ الَّتِي حَدَّثَنَا بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَفِظْنَاهَا وَعَلِمْنَاهَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاصِلُهَا إِلَى السَّحَرِ، فَإِذَا كَانَ قَبْلَهَا بِيَوْمٍ وَبَعْدَهَا بِيَوْمٍ صَعِدَ فَنَظَرَ إِلَى الشَّمْسِ، وَقَالَ: «إِنَّهَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ صَبِيحَتَهَا، وَلَا شُعَاعَ لَهَا حَتَّى تَرْتَفِعَ»
ترجمہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس وفد کی صورت میں گیا تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، میں نے ان سے کہا: مجھے حدیث بیان کیجیے، میں تو آپ سے ملنے کا شوق رکھتا تھا اور آپ سے ملنے ہی کے لیے آیا ہوں، تو مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیے، کیونکہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو سارا سال قیام کرے وہ اسے پا لے گا - یا اسے حاصل کر لے گا۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہیں معلوم ہے کہ وہ رمضان ہی میں ہے، لیکن وہ چاہتے تھے کہ تم پر (اس کی تعیین) مبہم رہے، حالانکہ وہ ستائیسویں رات ہے، اس نشانی کی بنا پر جو ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بتائی تھی، اسے ہم نے یاد رکھا اور جان لیا۔ رسول اللہ ﷺ اسے سحر تک متواتر (عبادت میں) گزارتے تھے۔ اس سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد وہ چڑھ کر سورج کو دیکھتے، اور فرماتے: ”اس کی صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے اور اس کی کوئی تیز روشنی نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9551
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 317، حدیث 9585
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرَّوَّاسُ، ثنا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قَالَ رَجُلُ لِأُبُيِّ بْنِ كَعْبٍ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ: مَنْ يُقِمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا، فَقَالَ أُبَيٌّ: «رَحِمَ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي لَيْلَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، وَلَكِنْ أَحَبَّ أَنْ لَا يَتَّكِلُوا»
ترجمہ
زر بیان کرتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ شب قدر کے بارے میں فرماتے ہیں: جو سارا سال قیام کرے وہ اسے پا لے گا۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے، وہ جانتے ہیں کہ یہ رمضان میں، ستائیسویں رات کو ہے، لیکن انہوں نے چاہا کہ لوگ (اس پر) بھروسہ نہ کریں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9552
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 317، حدیث 9586
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: تَذَاكَرُوا عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ: مَنْ قَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ كُلَّهُ أَدْرَكَهَا، قَالَ: فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأُبُيٍّ، فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيَّ لَيْلَةٍ هِي اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِقِيَامِهَا» ، قَالَ: فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ: «لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ» قَالَ عَبْدَةُ: «فَإِذَا كَانَ الشَّهْرُ ثَلَاثِينَ قُمْنَا بَعْدَهَا ثَلَاثًا، وَإِذَا كَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ قُمْنَا بَعْدَهَا لَيْلَتَيْنِ»
ترجمہ
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس شب قدر کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا: جو پورا رمضان قیام کرے وہ اسے پا لے گا۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں مدینہ آیا اور یہ بات سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انہوں نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے علم ہے کہ وہ کون سی رات ہے جس کے قیام کا رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے ان سے اس رات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”ستائیسویں رات۔“ عبدہ کہتے ہیں: ”اگر مہینہ تیس دن کا ہوتا تو ہم اس کے بعد تین راتیں قیام کرتے، اور اگر انتیس دن کا ہوتا تو اس کے بعد دو راتیں قیام کرتے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9553
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 317، حدیث 9587
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: «كَانَ عَبْدُ اللهِ، يُصَلِّي بِنَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَيَنْصَرِفُ بِلَيْلٍ»
ترجمہ
زید بن وہب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ رمضان میں ہمیں نماز پڑھاتے اور رات ہی میں فارغ ہو جاتے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9554
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 317، حدیث 9588
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، قَالَ: قُلْتُ لِخُصَيْفٍ: أَحَدَّثَكُمْ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: «فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ بِنْتُ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٍ؟» قَالَ: نَعَمْ
ترجمہ
زائدہ بیان کرتے ہیں: میں نے خُصیف سے کہا: کیا تمہیں ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود نے اپنے والد سے یہ بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا: ”پچیس اونٹوں میں ایک سالہ اونٹنی (بنت مخاض) واجب ہے، اگر وہ نہ ملے تو ایک نر دو سالہ اونٹ (ابن لبون)؟“ اس نے کہا: ہاں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9555
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 318، حدیث 9589
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ هَمَّامٍ، عَنْ مِينَاءَ، أَنَّهُمْ جَاءُوا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ، فَقَالُوا: أَعْطِنَا أَعْطِيَاتِنَا، فَقَالَ: «مَا لَكُمْ عِنْدِي عَطَاءٌ إِنَّمَا عَطَاؤُكُمْ مِنْ فَيْئِكُمْ، وَجِزْيَتِكُمْ، وَالصَّدَقَةُ لِأَهْلِهَا» ، فَلَمَّا تَرَدَّدُوا إِلَيْهِ جَاءَ بِالْمَفَاتِيحِ إِلَى عُثْمَانَ فَرَمَى بِهَا، وَقَالَ: «إِنِّي لَسْتُ بِخَازِنٍ»
ترجمہ
میناء بیان کرتے ہیں: لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں آئے اور کہا: ہمیں ہمارے وظیفے دیں۔ انہوں نے فرمایا: ”میرے پاس تمہارے لیے کوئی (اضافی) عطیہ نہیں، تمہارا وظیفہ تو تمہارے مالِ فَے اور جزیے سے ہے، اور صدقہ اس کے حقداروں کے لیے ہے۔“ جب وہ بار بار ان کے پاس آتے رہے تو وہ (بیت المال کی) چابیاں لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں (ان کے سامنے) پھینک دیا اور فرمایا: ”میں خزانچی نہیں ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9556
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 318، حدیث 9590
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَسُئِلَ عَنْ أَمْوَالِ الْيَتَامَى؟ فَقَالَ: «إِذَا بَلَغُوا فَأَعْلِمُوهُمْ مَا حَلَّ فِيهَا مِنْ زَكَاةٍ، فَإِنْ شَاءُوا زَكَّوْا، وَإِنْ شَاءُوا تَرَكُوا»
ترجمہ
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یتیموں کے مال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”جب وہ بالغ ہو جائیں تو انہیں بتا دو کہ اس میں کتنی زکاۃ واجب ہوئی ہے، پھر اگر وہ چاہیں تو ادا کریں اور چاہیں تو چھوڑ دیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9557
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 318، حدیث 9591
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " وَالِي الْيَتِيمِ يُحْصِي السِّنِينَ، فَإِذَا قَالَ احْتَلَمَ، قَالَ لَهُ: إِنَّ عَلَيْكَ زَكَاةَ كَذَا وَكَذَا سَنَةً "
ترجمہ
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یتیم کا سرپرست (اس کی عمر کے) سال شمار کرتا رہے، پھر جب وہ بالغ ہونے کی خبر دے تو اسے بتائے: تم پر اتنے اتنے سالوں کی زکاۃ واجب ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9558
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 318، حدیث 9592
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «كَانَ يُعْطِيَنَا الْعَطَاءَ، ثُمَّ يَأْخُذُ زَكَاتَهُ»
ترجمہ
ہبیرہ بن یریم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہمیں وظیفہ دیتے، پھر اس کی زکاۃ (اسی وقت) لے لیتے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9559
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 318، حدیث 9593
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَأَلَتْهُ امْرَأَةٌ عَنْ حُلِيٍّ لَهَا أَفِيهِ زَكَاةٌ؟ قَالَ: «إِذَا بَلَغَ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَزَكِّيهِ» ، قَالَتْ: إِنَّ فِي حِجْرِي أَيْتَامًا فَأَدْفُعُهُ إِلَيْهِمْ؟ قَالَ: «نَعَمْ»
ترجمہ
ابراہیم سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے ان سے اپنے زیور کے بارے میں پوچھا کہ کیا اس میں زکاۃ ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”جب وہ دو سو درہم (کے برابر) ہو جائے تو اس کی زکاۃ دو۔“ اس نے کہا: میری پرورش میں کچھ یتیم ہیں، کیا میں یہ (زکاۃ) انہیں دے دوں؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9560
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 319، حدیث 9594
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ امْرَأَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، هَلْ فِي حُلِيِّي زَكَاةٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَتْ: فَإِنَّ لِي ابْنُ أَخٍ أَيْتَامًا فَأجْعَلُهُ فِيهِمْ؟ قَالَ: «اجْعَلِيهِ فِيهِمْ»
ترجمہ
ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! کیا میرے زیور میں زکاۃ ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: میرے بھتیجے یتیم ہیں، کیا میں یہ (زکاۃ) ان میں لگا دوں؟ انہوں نے فرمایا: ”ان میں لگا دو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9561
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 319، حدیث 9595
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ رَجُلَيْنِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَنْ كَسَبَ طَيِّبًا خَبَّثَهُ مَنْعُ الزَّكَاةِ، وَمَنْ كَسَبَ خَبِيثًا لَمْ تُطَيِّبْهُ الزَّكَاةُ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جس نے حلال کمائی کی، زکاۃ نہ دینا اسے ناپاک کر دیتا ہے، اور جس نے حرام کمائی کی، زکاۃ (دینا) اسے پاک نہیں کرتی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9562
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 319، حدیث 9596
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «إِذَا اتَّبَعَ أَحَدُكُمْ جِنَازَةً فَلْيَأْخُذْ بِجَوَانِبِ السَّرِيرِ كُلِّهِ فَإِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ، ثُمَّ لْيَتَطَوَّعْ بَعْدُ أَوْ لِيَدَعْ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «إِذَا اتَّبَعَ أَحَدُكُمُ الْجِنَازَةَ فَلْيَأْخُذْ بِجَوَانِبِ السَّرِيرِ كُلِّهِ، ثُمَّ لْيَتَطَوَّعْ بَعْدُ أَوْ يَذَرْ»
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً فَلْيَحْمِلْ بِجَوَانِبِ السَّرِيرِ كُلِّهَا، فَإِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ، ثُمَّ لْيَتَطَوَّعْ بَعْدُ إِنْ شَاءَ»
ترجمہ
ابوعبیدہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جنازے کے ساتھ چلے تو چارپائی کے سب کناروں کو تھام لے، کیونکہ یہ سنت ہے، پھر اس کے بعد چاہے تو زیادہ اٹھائے یا چھوڑ دے۔“ (یہ الفاظ ابونعیم کی روایت کے ہیں)
ایک اور سند سے بھی یہی روایت ملتی ہے: ”جب تم میں سے کوئی جنازے کی پیروی کرے تو چارپائی کے سب کناروں کو تھام لے، پھر اس کے بعد چاہے تو زیادہ اٹھائے یا چھوڑ دے۔“
ایک اور سند سے: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو جنازے کے ساتھ چلے وہ چارپائی کے سب کناروں کو اٹھائے، کیونکہ یہ سنت ہے، پھر اس کے بعد چاہے تو مزید اٹھائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9563
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 319، حدیث 9597