المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: قُلْتُ: أَبَا الْمُنْذِرِ يَعْنِي أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَإِنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ يَقُولُ: مَنْ يُقِمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا، قَالَ: «يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَلَكِنَّهُ عَمَّى عَلَى النَّاسِ حَتَّى لَا يَتَكَلَّمُوا، وَالَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ، وَإِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ "، قُلْتُ: أَبَا الْمُنْذِرِ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدْ رَأَيْنَا وَحَفِظْنَا، فَوَاللهِ إِنَّهَا لَهِيَ لَا يَسْتَثْنِي» قُلْتُ لِزِرٍّ: وَمَا الْآيَةُ؟ قَالَ: «تَطْلُعُ الشَّمْسُ غَدَاتَئِذٍ كَأَنَّهَا طَسْتٌ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ»زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوالمنذر - یعنی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا - مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں، کیونکہ ابن ام عبد (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: جو سارا سال قیام کرے وہ اسے پا لے گا۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے، وہ جانتے ہیں کہ یہ رمضان میں ہے، لیکن انہوں نے لوگوں پر یہ بات مبہم رکھی تاکہ وہ (اس پر بھروسہ کر کے سستی) نہ کریں۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ پر کتاب نازل کی، یہ رمضان میں ہی ہے اور یہ ستائیسویں رات ہے۔“ میں نے کہا: اے ابوالمنذر! آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ انہوں نے فرمایا: ”اس نشانی سے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتائی تھی، ہم نے وہ دیکھی بھی اور یاد بھی رکھی، اللہ کی قسم یہی وہ (رات) ہے“ - وہ بغیر 'ان شاء اللہ' کہے قسم کھا رہے تھے۔ میں نے زر سے پوچھا: وہ نشانی کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”اس دن صبح سورج اس طرح طلوع ہوتا ہے جیسے وہ ایک تھال ہو، اس کی کوئی تیز روشنی (شعاع) نہیں ہوتی۔“