حدیث نمبر: 9547
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، وَعَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَبَا الْمُنْذِرِ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَإِنَّ صَاحِبَنَا ابْنَ مَسْعُودٍ سُئِلَ عَنْهَا فَقَالَ: مَنْ يُقِمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا، قَالَ: «رَحِمَ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا وَاللهِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَلَكِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَتَّكِلُوا - أَوْ أَحَبَّ أَنْ لَا يَتَّكِلُوا - وَاللهِ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ، وَإِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ يَحْلِفُ، وَلَا يَسْتَثْنِي» ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ حَمَّادٌ: فَقُلْتُ لِعَاصِمٍ: مَا الْآيَةُ؟ قَالَ: «تُصْبِحُ الشَّمْسُ صَبِيحَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعُ مِثْلَ الطَّسْتِ حَتَّى تَرْتَفِعَ»
ترجمہ

زر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوالمنذر! مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں، کیونکہ ہمارے ساتھی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جو سارا سال قیام کرے وہ اسے پا لے گا۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم وہ جانتے ہیں کہ یہ رمضان میں ہے، لیکن انہوں نے پسند نہیں کیا کہ لوگ (اس پر) بھروسہ کر بیٹھیں - یا فرمایا: چاہا کہ وہ بھروسہ نہ کریں - اللہ کی قسم! یہ رمضان میں ہی ہے اور یہ ستائیسویں رات ہے“ - وہ قسم کھا رہے تھے اور 'ان شاء اللہ' نہیں کہہ رہے تھے۔ میں نے کہا: اے ابوالمنذر! آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ انہوں نے فرمایا: ”اس نشانی سے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتائی۔“ حماد کہتے ہیں: میں نے عاصم سے پوچھا: وہ نشانی کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”اس رات کی صبح کو سورج بغیر تیز روشنی کے طلوع ہوتا ہے، تھال کی طرح، یہاں تک کہ بلند ہو جائے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9547
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 315، حدیث 9581